خاندان میں جملہ پانچ ووٹرس لیکن!
بی جے پی امیدوار کو صرف ایک ووٹ حاصل ہوا
سوشل میڈیا پر مزاح کا موضوع،ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ
چنئی :13۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
ٹاملناڈو کے کوئمبتور کے ایک بی جے پی امیدوار ان دنوں سوشل میڈیا پر مزاح کا موضوع بنے ہوئے ہیں جنہوں نے مجالس مقامی کے انتخابات میں وارڈ ممبر کی نشست کے لیے مقابلہ کرتے ہوئے صرف ایک ووٹ حاصل کیا ہے۔
یہ انتخابات 9 اکتوبر کو منعقد ہوئے تھے
ڈی ۔کارتک جو کہ کوئمبتور میں بی جے پی یوتھ وِنگ کے لیڈر ہیں نے پریانیکن پالیم کے کروڈم پالیم کی پنچایت کے انتخابات میں وارڈ نمبر 9 سے مقابلہ کیا تھا اور انہوں نے صرف اور صرف ایک ووٹ حاصل کیا ہے۔
سوشل میڈیا میں ایسی اطلاعات زیرگشت ہیں کہ ڈی۔کارتک کو ان کے افراد خاندان کے ووٹ تک حاصل نہیں ہوئے ہیں جبکہ ان کا خاندان پانچ ووٹرس پر مشتمل ہے۔
تاہم اس سلسلہ میں ڈی۔کارتک نے میڈیا سے کہا کہ ان کے چار افراد خاندان کے ووٹ وارڈ نمبر 4 میں ہیں اس لیے وہ انہیں ووٹ نہیں دے پائے کیونکہ وہ وارڈ نمبر 9سے مقابلہ کررہے تھے۔
ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجالس مقامی کے انتخابات پارٹیوں کے انتخابی نشانات کے ساتھ نہیں لڑے جاتے صرف پارٹیاں ان کی پشت پناہی کرتی ہیں۔
جونہی بی جے پی یوتھ ونگ کے لیڈر ڈی۔کارتک کی جانب سے صرف ایک ووٹ حاصل کرنے کی خبر وائرل ہوئی سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمس پر وہ مزاح کا موضوع بن گئے ان کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا صارفین نے ملک میں برسر اقتدار بی جے پی کو بھی مزاح کا موضوع بنالیا۔
سوشل میڈیا کی مشہور مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر باقاعدہ SingleVoteBJP# کا ہیش ٹیاگ ٹرینڈ کرنے لگا جس پر کل 12 اکتوبر کی رات 8 بجے تک اس انگریزی ہیاش ٹیاگ کے ذریعہ 29،300 اور اسی ٹامل زبان کے ہیش ٹیاگ کے ذریعہ 52،400 صارفین نے ٹوئٹ کیا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور یہ ٹرینڈ انڈیا میں ٹاپ پر رہا!!

ٹوئٹر پر ٹاملناڈو کی شاعرہ اور سوشل ایکٹیوسٹ ڈاکٹر مینا کندا سامی نے اپنے تصدیق شدہ ٹوئٹر ہینڈل سے انتخابی نتائج کے اسکرین شاٹ ڈی۔ کارتک اور رائے دہندگان کی تصاویر کے ساتھ ٹوئٹ کرتے ہوئے چٹکی لی ہے کہ” بی جے پی امیدوار کو مجالس مقامی کے انتخابات میں صرف ایک ووٹ ملتاہے۔اس کے گھر کے چار دیگر ووٹروں پر فخر ہے جنہوں نے دوسروں کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا”۔
جبکہ ٹوئٹر پر سدرشن آر نامی صارف نے ٹوئٹ کیا ہے کہ "ایک قوم، ایک مذہب، ایک الیکشن اور ایک ووٹ”
وہیں ڈی ایم کے آئی ٹی ونگ کے ریاستی نائب سکریٹری آئی سائی نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ” کوئمبتور سے بی جے پی امیدوار نے مجالس مقامی کے انتخابات میں 1 ووٹ حاصل کیا اور ان کے خاندان کے 5 ووٹ ہیں۔
اسی طرح شریا Shreya@ نے ٹوئٹ کیا ہے کہ
مودی ٹی شرٹ کے ساتھ ان کی انتخابی ریلی میں 200 سے زائد شریک ہوئے۔
ان کی گھر گھر مہم کے لیے 100 سے زائد۔
دو ہفتوں تک روزآنہ 50 ناشتے، 50 لنچ اور 50 ڈنر۔
10 بوتھ ایجنٹس۔
5 خاندان کے افراد۔
اور ایک ووٹ!
https://twitter.com/s_shreyatweets/status/1447904741745299457
حارث نامی ایک اور ٹوئٹر صارف نے ٹوئٹ کیا ہے کہ” جنوب دوبارہ سرخ دل کی راہ پر، زبان کی تفریق نہیں،کھانے میں کوئی امتیازی سلوک نہیں، کوئی ہندو۔مسلم تقسیم نہیں۔خالص محبت”
https://twitter.com/INCian_Haris/status/1447919115088187392
اس کے علاوہ بھی ٹوئٹر صارفین نے مزاح سے بھرپور ہزاروں ٹوئٹس کیے ہیں۔

