گجرات کے احمد آباد ضلع میں مذہبی جلوس، ہزاروں خواتین کی شرکت،کوویڈ پروٹوکال کی اڑائی گئیں دھجیاں

گجرات کے احمد آباد ضلع میں مذہبی جلوس،ہزاروں خواتین کی شرکت،کوویڈ پروٹوکال کی اڑائی گئیں دھجیاں

گجرات/احمدآباد :05۔مئی(سحر نیوزڈیسک)

جس ریاست گجرات کو ایک ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہوئے دہلی کے تخت پر قبضہ جمایا گیا تھا اسی گجرات کے احمدآباد ضلع کے موضع کا ایک ویڈیوسوشیل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جسے دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ ملک اور خود ریاست گجرات کوروناوائرس کے شکنجہ میں کسے ہوئے ہیں!!

اس واقعہ کی تفصیلات سے قبل یہ لکھنا غیر ضروری نہ ہوگا کہ ملک کی کئی ریاستیں اور ملک کے عوام کوروناوائرس کی دوسری لہر کے قہر سے شدید پریشان ہیں،کئی ریاستوں میں مکمل طورپر لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے اور کئی ریاستوں میں رات کا کرفیو نافذ ہے۔

کوویڈ پروٹوکال کے تحت سارے ملک میں مختلف پابندیا ں عائد ہیں،عوام کیلئے ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے خلاف ورزی پر ہزاروں روپئے کے جرمانے عائد کیے جارہے ہیں اور ساتھ ہی مقدمات بھی درج کیے جارہے ہیں۔

ملک میں مذہبی ،سماجی اور سیاسی اجتماعات،جلسوں اور جلوسوں پر پابندی عائد ہے، شادیوں کی تقاریب کیلئے کوویڈ پروٹوکال نافذ ہے۔حکومتوں اور طبی ماہرین کی جانب سے عوام کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ بلاء ضرورت اپنے مکانات سے باہر نہ نکلیں۔

اور اسی دؤران ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابی عمل بھی پورا کرلیا گیا اور مہاکنبھ میلہ کے نام پر 30 لاکھ افراد اتراکھنڈ میں جمع بھی ہوئے اور اشنان بھی کیا جسے اس ملک کے زعفرانی اور گودی میڈیا نے شردھالو اور آستھا کا نام دیا!

یہ وہی ضمیر فروش میڈیا ہے جس نے گزشتہ سال کورونا وائرس کی وباء کے آغاز سے قبل کورونا سے ناواقف تبلیغی مرکز دہلی کے اجتماع میں شریک زائداز تین ہزارمسلمانوں کو کورونا جہادی ،کورونا بم اور ایسے ایسے القابات سے نوازا کہ جیسے یہی تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شریک مسلمان کورونا وائرس پھیلانے کے کام میں لگے ہوئے ہیں!! اس نفرت انگیز  پروپگنڈہ کے ذریعہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا ایک منظم گورکھ دھندہ کیا گیا!!

دہلی کے تبلیغی مرکز میں ” پھنسے ہوئے ” مسلمانوں کو اس مذہبی زہر کے ٹھوک بیوپاری میڈیا نے ” چھپے ہوئے ” کا لفظ ہزاروں مرتبہ استعمال کیاتھا
کنبھ اور انتخابات کے بعد ملک کی کئی ریاستوں میں کوروناوائرس متاثرین کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔جس پر یہ میڈیا خاموش ہی رہا!!

ملک کی کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں ہزاروں افراد روز کوروناوائرس سے متاثر ہورہے ہیں اور امواتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔جن میں ملک کے سامنے ماڈل کے طور پر پیش کی گئی گجرات ریاست بھی شامل ہے۔

دراصل یہ ویڈیو 5 مئی کا گجرات کے احمد آباد ضلع کے نواپورہ کےموضع سانند کا ہے۔ جہاں کل کوویڈ پروٹوکال کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خواتین کی بڑی تعداد نے اپنے سروں پر گھڑوں کیساتھ ایک مذہبی جلوس منظم کیا اور بلیادیو مندر میں اجتماعی پوجا انجام دی۔

 تعجب تو اس بات پر ہے کہ وہاں کی پولیس سانپ کے گزرنے کے بعد لکیر  پیٹنے والے محاورہ کے مماثل اب نیند سے جاگی ہے۔

اس معاملہ میں ڈی ایس پی احمد آباد رورل کے ٹی کماریہ نے میڈیا کو بتایا کہ اس واقعہ کے بعد موضع سانند کے سرپنچ کے بشمول 23 افراد کے خلاف کیس درج کرتے ہوئے کارروائی کی جارہی ہے۔

”  اس جلوس کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے

اس خبر کو پیش کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ کسی مخصوص مذہب کے ماننے والوں کی غلطیوں کو اجاگر کیا جائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ موجودہ حالات ملک اور خود ریاست گجرات کیلئے انتہائی نازک ہیں تو ایسے میں ضروری ہے کہ ہر کوئی ایک ذمہ دار شہری کا فرض نبھاتے ہوئے کوویڈ پروٹوکال پر لازمی طورپر عمل کرے۔

تاکہ اس وباء کو روکنے کی کوشش میں مصروف ڈاکٹرس ،نرسوں ، دیگر طبی عملہ،محکمہ پولیس اور سرکاری انتظامیہ کیساتھ بہتر تعاون کیا جاسکے جو اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالکر دن رات خدمات انجام دینے میں مصروف ہیں۔ کیونکہ ” سر سلامت تو پگڑی ہزار "!! اگر انسان محفوظ رہیں گے تو ایسی مذہبی ،سیاسی ، سماجی اور دیگر تقاریب کئی مناسکتے ہیں!

ٹوئٹر پر پوسٹ کیا گیا ویڈیو :