نوجوان پر قاتلانہ حملہ، مداخلت کرنے والے نور احمد قریشی جاں بحق، فرزند زخمی، 6 گرفتار، ڈی آئی جی کا دؤرہ تانڈور

نوجوان پر قاتلانہ حملہ، مداخلت کرنے والے نور احمد قریشی جاں بحق، فرزند زخمی
ڈی آئی جی اور ضلع ایس پی کا دورہ تانڈور، 6 گرفتار، عدالتی تحویل میں روانہ

وقارآبا/تانڈور: 26؍ڈسمبر(سحر نیوز ڈاٹ کام )

وقارآباد ضلع کے تانڈور میں گذشتہ رات ایک انتہائی افسوسناک واقعہ میں ایک نوجوان کو قتل کرنے کی کوشش کے دوران مداخلت کرنے والے نور احمد قریشی اور ان کے فرزند ابوصفیان کو چاقو سے شدید زخمی کردیا گیا، تانڈور کے گورنمنٹ ضلع ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد مزید بہتر علاج کی غرض سےحیدرآباد منتقلی کے دوران نور احمد قریشی زخموں سے جانبر نہ ہوسکے اور جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کے فرزند کی حالت مستحکم ہے۔

اس واقعہ سے تانڈور اور وقارآباد ضلع میں سنسنی پھیل گئی ہے،اس واقعہ کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔حالات کی سنگینی کو دیکھتےہوئے ڈی آئی جی جوگو لامبا زون ایل ایس چوہان آئی پی ایس نے ایس پی وقارآباد ضلع محترمہ سنیہا مہرہ  آئی پی ایس کے ساتھ تانڈور کا دورہ کرتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا اور اس قتل میں ملوث 6 نوجوانوں کی فوری گرفتاری پر محکمہ پولیس کی ستائش کی۔

اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق تانڈور منڈل کے خوانجہ پور موضع کے ساکن گوپال اور تانڈور کی اندرماں کالونی کے ساکن کٹو Kittu کے درمیان چند دنوں سے کسی مسئلہ پرمخاصمت چل رہی تھی، گوپال نے کٹو کے قتل کا منصوبہ بنایا اور گوپال جمعرات کی شام اپنے ساتھ چاقو لے کر اندرماں کالونی پہنچا جو کہ تانڈور۔حیدرآباد روڈ پر موجود ہے۔

راجیو گروہا کالونی کے قریب گوپال اس کے 5 ساتھیوں اندرماں کالونی کا ساکن شیٹی کیرولا آدر، خوانجہ پور کا ساکن مدور انیل، کروا  پروین، اندرماں کالونی کا ساکن چنا گلا کرشنا اور پرشانت کیساتھ مل کرقتل کی نیت سے کٹو پر حملہ آور ہوا اسی دوران کٹو اپنی جان بچانے کی غرض سے بھاگتے ہوئے قریب ہی موجود ایک گوشت کی دُکان میں داخل ہوگیا اور اندر سے اس دکان کا شیٹر بند کرلیا۔

چاقو سے لیس گوپال کی جانب سے اس دکان کا شیٹر اٹھانے اور کٹو کو قتل کرنے کی کوشش کے دوران گوشت کی دُکان کے مالک نور احمد قریشی (60 سالہ) نے مداخلت کی تو گوپال نے ان کے پیٹ میں چاقو گھونپ کر انہیں شدید زخمی کردیا۔اسی دوران وہاں موجود نور احمد قریشی کے فرزند ابو صفیان نے گوپال کو پکڑ نے کی کوشش کی تو اس نے ابوصفیان پر بھی حملہ کردیا، مقامی لوگوں کے وہاں پہنچنے پر گوپال وہاں سے فرار ہوگیا۔

مقامی لوگوں نے شدید زخمی نور احمدقریشی اور ابو صفیان کو تانڈور کے گورنمنٹ ضلع ہسپتال منتقل کیا جہاں سے ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد نور احمد قریشی کو مزید بہتر علاج کی غرض سے حیدرآباد منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکے اور راستے میں ہی جاں بحق ہوگئے۔

اس واقعہ کی اطلاع کے بعد گذشتہ رات ہی ڈی آئی جی جوگو لامبا زون ایل ایس چوہان آئی پی ایس تانڈور پہنچ گئے اور ایس پی وقارآباد ضلع محترمہ سنیہا مہرہ آئی پی ایس اور مقامی پولیس عہدیداروں سے اس واقعہ کی تفصیلات حاصل کیں اور حالات کا جائزہ لیا۔

بعدازاں آج ڈی آئی جی ایل ایس چوہان نے میڈیا کو بتایا کہ اس قتل کے واقعہ کے فوری بعد ایڈیشنل ایس پی وقارآباد ضلع راملو نائیک کی قیادت میں ڈی ایس پی تانڈور نرسنگ یادیا، سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور ٹاون سنتوش کمار،سب انسپکٹر یالا ل وٹھل ریڈی پر مشتمل ٹیموں نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے حملہ آوروں کی تلاش شروع کی اور نور احمد کے قتل کے ملزموں گوپال کے علاوہ اس کے پانچوں ساتھیوں کو گرفتار کرتے ہوئے آج ان تمام کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔

ڈی آئی جی جوگو لامبا زون ایل ایس چوہان آئی پی ایس نے بتایا کہ گوپال اور کٹو کے درمیان مخاصمت چل رہی تھی اور گوپال نے کٹو کے قتل کی کوشش کی لیکن اس دوران مداخلت کرنے والے نور احمد اور ان کے فرزند ابو صفیان پرگوپال نے حملہ کردیا۔انہوں نے کہا کہ تانڈور میں امن و امان کی برقراری کے لیے پولیس کی جانب سے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ خاطیوں کو سخت سزاء کو یقینی بنائیں گے۔ایل ایس چوہان آئی پی ایس نے اس قتل کے معاملہ میں تمام ملزمین کی فوری گرفتاری پر تانڈور پولیس کی ستائش کی۔

تانڈور میں پیش آئے اس افسوسناک واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ نور احمد قریشی نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک غیرمسلم نوجوان کٹو کی جان بچانے کی کوشش میں اپنی جان کی بازی لگادی۔ ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ نور احمد کے افراد خاندان کو سرکاری امداد کا اعلان کرے اور اس سلسلہ میں رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی چیف منسٹر ریونت ریڈی سے موثر نمائندگی کو یقینی بنائیں۔

وہیں دوسری جانب ایسے الزامات عام ہیں تانڈور میں بڑھتی ہوئے نشہ کی لت، ڈرگ / گانجہ کے استعمال سے نوجوان ایک دوسرے پر حملہ کر رہے ہیں ۔ضرورت شدید ہیکہ محکمہ پولیس خصوصی مہم کے ذریعہ تانڈورکے ایسے نوجوانوں کی کونسلسنگ کرتے ہو ئے انہیں ڈرگ کی لعنت سے چھٹکارہ دلائے، اور ایسے واقعات کے سدباب کے لیے سخت اقدامات کو بھی یقینی بنائے۔

ڈی آئی جی جوگولامبا رینج ایل ایس چوہان آئی پی ایس میڈیا سے بات کرتے ہوئے

 

" ایس پی وقارآباد ضلع محترمہ سنیہا مہرہ آئی پی ایس میڈیا سے بات کرتے ہوئے "