دوسرے مذہب کی لڑکی کیساتھ بس میں سفر کررہے نوجوان کی پٹائی،چاقو سےحملہ

دوسرے مذہب کی لڑکی کیساتھ بس میں سفر کررہے نوجوان کی پٹائی،چاقو سےحملہ

منگلورو:2۔اپریل (سحرنیوزڈاٹ کام)

ملک میں گزشتہ چند سال سے گودی میڈیا اور چند ریاستی حکومتوں کی جانب سے لوجہاد کا اتنا پروپگنڈہ کردیا گیا ہے اس کو لیکر نوجوان جوڑوں پر حملہ ہورہے ہیں جبکہ کئی مراحل میں یہ بات طئے ہوچکی ہے کہ ملک میں لوجہاد جیسا کوئی معاملہ نہیں ہے لیکن اسکی آگ میں سیاسی روٹیاں سینکی جاسکتی ہیں اور سینکی بھی جارہی ہیں۔!!

ملک کی چندریاستوں میں باقاعدہ لوجہاد کے خلاف قوانین بھی بنائے گئے ہیں آج ہی ملک کے سامنے رول ماڈل کے طورپر پیش کی جانے والی ریاست گجرات اسمبلی میں بھی لوجہاد قانون کو منظور کرلیا گیا ہے۔

ایسے میں ریاست کرناٹک کے منگلورو میں ایک 23 سالہ نوجوان کو بس میں اس لیے زدوکوب کیا گیا کہ وہ دیگر مذہب کی لڑکی کیساتھ سفرکررہا تھا حملہ آوروں نے لڑکی کی مداخلت کے باؤجود اس لڑکے کے پیٹ میں چاقوگھونپ کر شدید زخمی کردیا۔


کمشنر آف پولیس منگلوروششی کمار نے اس واقعہ کے متعلق بتایا کہ منگلورو شہر کے مضافات میں رات 30-9 بجے منگلورو سے بنگلورو جارہی ایک خانگی بس کو چند افراد نے بھیڑ کی شکل میں روک دیااور اس بس سے ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی کو بس سے اتارلیاگیا جو کہ دونوں دوست اور ہم جماعت بتائے جاتے ہیں بھیڑ نے مل کر اس نوجوان کی پٹائی شروع کردی۔

جب لڑکی نے مداخلت کرتے ہوئے لڑکے کو بچانے کی کوشش کی تو اسے بھی پیٹا گیا۔پولیس کمشنر نے کہا کہ اس واقعہ کے سلسلہ میں8 افراد کو پولیس کی تحویل میں لے لیا گیاہےجن کا تعلق بجرنگ دل سے بتایا گیا ہے اس میں ملوث مزید چار حملہ آور فرار بتائے گئے ہیں جو واقعہ کے وقت کار میں سوار ہوکر جائے مقام پر پہنچے تھے جنہوں نے اس لڑکے کی پٹائی کرتے ہوئے اسکی پیٹھ میںچاقو گھونپ کر زخمی کیا۔ متاثرہ لڑکا مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہے جس کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔

پولیس کے بموجب یہ لڑکی بنگلورو جارہی تھی اور اس کا دوست اس کےساتھ تعاون کی غرض سے بنگلورو جارہا تھا کیونکہ وہ لڑکی بنگلورو سے ناواقف تھی اوروہ دونوں ہم جماعت ہیں۔

اس سلسلہ میں لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ وہ گزشتہ کئی سال سے اس لڑکے کو جانتی ہے۔اس معاملہ میں پولیس نے اس نوجوان پر حملہ کرنے والے ملزمین کے خلاف اقدامِ قتل کا کیس درج کرلیا ہے اور پولیس کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو اس سارے معاملہ کی تفتیش میں مصروف ہے۔

وہیں منگلورو پولیس اس بات کا پتہ لگانے میں بھی مصروف ہے کہ بس میں اس نوجوان لڑکے اور لڑکی کے سفر کی اطلا ع کس نے ان حملہ آوروں کو دی ؟ ممکن ہے کہ اس بس میں سفر کرنے والے کسی مسافر نے ہی اس نوجوان لڑکے اور لڑکی کے سفر کی اطلاع اور بس کا جائے وقوع حملہ آوروں کو بتایا ہوگا !!