بھوپال کے سبزی فروش سلمان خان کو 14 سال بعد ڈی ایس پی سنتوش پٹیل نے ڈھونڈ نکالا

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

بھوپال کے سبزی فروش سلمان خان کو 14 سال بعد ڈی ایس پی سنتوش پٹیل نے ڈھونڈ نکالا
جو دوران تعلیم انہیں مفت سبزیاں دیا کرتے تھے، میڈیا اورسوشل میڈیا پر دونوں کی ستائش

حیدرآباد : 16۔نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

” بندے میں ایک غلطی نہ ہو بندہ وہ احسان فراموش نہ ہو،جدوجہد کے دنوں میں جو بندہ کام آیا ہو، جس نے زندگی میں کبھی کوئی احسان کیا ہو اسے یاد کرتے رہنا چاہئے۔”

یہ الفاظ کسی دانشور،مفکر یا اسلامی اسکالر کے نہیں بلکہ سنتوش کمار پٹیل کے ہیں جو کہ مدھیہ پردیش کے گوالیار میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کے عہدہ پر فائز ہیں۔

ان دنوں ڈی ایس پی سنتوش کمار پٹیل کےمیڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت چرچے ہیں اور ان کے ویڈیو وائرل ہو رہے ہیں۔سنتوش پٹیل انسٹا گرام پرمتحرک ہیں جہاں ان کی مختلف خدمات/بہترین عوامی تعلقات اور خدمات پر مشتمل ویڈیوز Reels# بہت زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔

انسٹاگرام پر ڈی ایس پی سنتوش کمار پٹیل کے 2.4 ملین فالوورز ہیں۔انہوں نے پانچ دن قبل ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جسے اب تک دیڑھ ملین سے زائد صارفین نے دیکھا ہے اور ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد نے لائیک اور 1,500 سے زائد انسٹاگرام صارفین نےمختلف ستائشی کمنٹس کیے ہیں۔ڈی ایس پی کے اس اقدام اور ان کے ویڈیو پر کیے گئے کمنٹس کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ اس ملک میں نفرت کی جو فضاء بنائی گئی ہے اور جس طریقہ سے پیش کی جا رہی ہے اس سے تو بہت بڑا طبقہ آج بھی محفوظ ہے۔!!

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھوپال کے ایک مقام پر رات کے وقت وہ اپنی گاڑی روک کر ایک دکاندار کو بلاتے ہیں۔پہلے تو پولیس کی گاڑی دیکھ کر وہ دکاندار خوفزدہ ہوجاتا ہے پھر گاڑی میں بیٹھے سنتوش پٹیل کے پاس پہنچتا ہے۔سنتوش پٹیل اس شخص سے کہتے ہیں آو سلمان کیا مجھے پہچانتے ہو؟ تو اس شخص کا جواب ہوتا ہے بالکل اچھی طرح صاحب،آپ میرے پاس سبزی لینے آیا کرتے تھے۔پھر ڈی ایس پی ان سے پوچھتے ہیں کیسے ہو؟ اسی کیساتھ ڈی ایس پی سنتوش پٹیل اپنی گاڑی سے اتر کر اس سلمان نامی شخص کو اپنے گلے لگاتے ہیں۔

بعدازاں اس ویڈیو میں ڈی ایس پی سنتوش کمار پٹیل مسکراتے ہوئے سلمان کے گلے میں اپنا ہاتھ ڈال کر بتاتے ہیں کہ یہ بھائی گاڑی دیکھ کر ڈر رہا تھا،یہ بھائی جب کبھی میرے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے تو اپنے پاس سے ٹماٹر اور بیگن دیا کرتاتھا۔بعدازاں ڈی ایس پی سلمان کی سبزی کی دکان پر جاتے ہیں،اپنے ساتھ لایا ہوا کچھ سامان سلمان کے حوالے کرتے ہوئے اپنا موبائل نمبر دے کر کہتے ہیں کہ میرا نمبر رکھناجب کبھی کوئی ضرورت ہو تو فون کر دینا۔

ڈی ایس پی گوالیار سنتوش کمار پٹیل کا ایک اور ویڈیو اسی ویڈیو کیساتھ جوڑتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب جدوجہد کے دن یاد آتے ہیں تو ایسے چہرے ہوتے ہیں جو من کو خوش کر دیتے ہیں۔ڈی ایس پی سنتوش کمار پٹیل نے بتایاکہ جب وہ بھوپال میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو سلمان بھائی ایک برقی ٹرانسفارمر کے نیچے ایک سبزی کا ٹھیلہ لگاتے تھے۔آج بھی وہیں ٹھیلہ لگائے ہوئے تھے۔لگ بھگ 14 سال بعد آج ان سے ملا تو مجھے یاد آیاکہ بندہ احسان فراموش نہ ہو۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق 2009-2010 میں جب سنتوش کمار پٹیل مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے تو اس وقت ان کےمعاشی حالات ٹھیک نہیں تھے۔اس وقت جدوجہد میں مصروف سنتوش پٹیل کو سلمان خان اپنی دکان سے مفت سبزیاں دیا کرتے تھے۔

ڈی ایس پی سنتوش پٹیل نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ وہ مدھیہ پردیش کے ہی پنا Panna کے اپنے 120 افراد پر مشتمل خاندان میں پہلے گرائجویٹ ہیں اور کئی مشکلات کے باوجود وہ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے بھوپال گئے تھے۔ پھر انہوں نےمدھیہ پردیش پبلک سروس کمیشن کے لیے تیاری کی۔اور وہ ایسے دن تھے جب ان کے پاس کھانا خریدنے یا روم پر پکوان کر کے کھانے کے لیے پیسے نہیں ہوا کرتے تھے۔

سنتوش پٹیل نےبتایا کہ ان دنوں وہ تعلیم کیساتھ ساتھ مختلف کام بھی کیا کرتے تھے اور مٹی کے تیل کے چراغ کی روشنی میں تعلیم بھی حاصل کرتے تھے۔اس وقت ان کی سلمان خان سے دوستی ہو گئی۔وہ انہیں ٹماٹر اور بیگن کھلانے کے لیے کافی مہربان تھے۔انہوں نے کہا کہ سلمان کے پاس سونے کا دل ہے۔

وہیں سلمان خان نے کہا کہ وہ بالکل میری طرح ایک غریب آدمی تھے۔ہم ایک دوسرے کو سمجھتے تھے۔میں نے انہیں کبھی کبھار سبزیاں دی تھیں۔اور یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

ابتدائی ناکامیوں کےباوجود سنتو ش پٹیل نے اپنی انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی،فاریسٹ گارڈ کےطور پر کام بھی کیا اور بالآخر انہوں نے 2017 میں مدھیہ پردیش پبلک سرویس کمیشن کا امتحان کامیاب کیا۔آخر کار جاریہ ماہ بھوپال میں ایک تربیتی سیشن کےدوران ڈی ایس پی سنتوش پٹیل نے سلمان خان کو اسی مقام پر دیکھا جہاں برسوں پہلے ان کی دوستی ہوئی تھی۔سنتوش پٹیل نے کہاکہ انہوں نے ان تمام سالوں کے دوران سلمان خان سے ملاقات کی بہت کوشش کی لیکن کبھی بھوپال میں تعینات نہیں ہوئے۔بالآخر 14 سال بعد اپنے پرانے دوست اورمحسن سلمان خان سے ان کی ملاقات ہو ہی گئی۔

ڈی ایس پی سنتوش کمار پٹیل کا یہ اقدام ان احسان فراموش لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو کسی کےبھی احسان کو جلد بھول جاتے ہیں۔ جبکہ سلمان خان بھی ایسے لوگوں کے لیے ایک مثال ہیں جو احسان کرکے بھول جاتے ہیں۔ورنہ وہ بھوپال سے گوالیار پہنچ کر اپنے احسان کا بدلہ کسی نہ کسی شکل میں وصول بھی کرسکتے تھے۔!!

https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/593351533036748