وقارآباد ضلع میں مانسون کی پہلی دھواں دھار 828 ملی میٹر بارش، کوٹ پلی پراجکٹ کے نالے میں سیاحوں کی تین مہندرا تھار گاڑیاں پھنس گئیں

وقارآباد ضلع میں مانسون کی پہلی دھواں دھار 828 ملی میٹر بارش، کسانوں میں خوشی کا ماحول
کوٹ پلی پراجکٹ کے نالے میں سیاحوں کی تین مہندرا تھار گاڑیاں پھنس گئیں، ٹریکٹر الٹ گیا
ضلع کے لیے ایلو الرٹ جاری،عہدیدار اور عوام چوکس رہیں ضلع کلکٹر پرتیک جین کی ہدایت

حیدرآباد/وقارآباد: 15۔جولائی
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

وقارآباد ضلع میں کل اتوارسے وقفہ وقفہ سے ہونے والی دھواں دھار اور موسلا دھاربارش نے عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔کئی اہم شاہراہیں اور نشیبی علاقے جھیلوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔وہیں جاریہ مانسون کی اس پہلی شدید بارش نے کسانوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی ہے۔

ماہ جون میں مانسون کے آغاز کے بع دسے وقارآبادضلع میں وقفہ وقفہ سے ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک ماہ بعد کل اتوار کومختلف اوقات میں ضلع کے مختلف مقامات پر شدید بارش ہوئی جس کے باعث اڑد، مکئی، کپاس، تور اور دیگر فصلوں کی تخم ریزی کےبعد ناکافی بارش سے پریشان کسانوں نے راحت کی سانس لی۔

دفتر کلکٹریٹ وقارآباد سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وقارآباد ضلع میں کل اتوار کی صبح 8 بجے سے آج پیر کی صبح 8 بجے تک ضلع میں 828.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ضلع کے نواب پیٹ منڈل میں سب سے زیادہ یعنی 91.2 ملی میٹر بارش ہوئی ہے جبکہ سب کم 15 ملی میٹر بارش بھمرس پیٹ میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

اسی طرح کوٹ پلی منڈل میں 60.8، بنٹارام میں 60.2، دھارور میں 59، وقارآباد میں 56.4، ملی میٹر، بشیر آباد اور پوڈور منڈل میں 47.4 ، مومن پیٹ میں 42.4، یالال میں 38.6، تانڈور میں 38.4، دودیال اور دوما منڈلات میں 34.2، کوڑنگل میں 34.8، پدیمول منڈل میں 34.2، چوڈا پور میں 30.6، پرگی میں 28.6، مرپلی میں 26.6، کلک چیرلہ میں 24.6 ، دؤلت آباد میں 21.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

کل ہونے والی بارش کے باعث ضلع میں درجہ حرارت میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے اور موسم سرد ہوگیا ہے جبکہ آج صبح اننت گیری ہلز پر گہرے کہر کا قبضہ تھا۔محکمہ موسمیات کی جانب سے ریاست کےجن اضلاع میں پانچ دن تک شدید اور موسلادھار کی پیش قیاسی کرتے ہوئے ایلو الرٹ جاری کیا گیا ہے ان میں وقارآباد ضلع بھی شامل ہے۔

کل چونکہ اتوار کی تعطیل تھی تو مختلف مقامات بالخصوص حیدرآباد سے ضلع وقارآباد کے سیاحتی مقامات اننت گیری ہلز اور کوٹ پلی پراجکٹ کی سیاحت کی غرض سے پہنچنے والی سیاحوں کی بڑی تعداد نےبھی بارش کالطف لیا۔لیکن کل شام دیرگئےمتحدہ ضلع رنگاریڈی کےسب سے بڑے آبپاشی کے کوٹ پلی پراجکٹ کے ایک سیلابی پانی سے لبریز نالے کو عبور کرنےکے دوران حیدرآباد سے آئےہوئے سیاحوں کی تین مہندرا تھار گاڑیاں اس نالے کی مٹی میں پھنس گئیں۔ایک ٹریکٹر کےذریعہ جب ایک گاڑی کو نالہ پار کروانے کی کوشش کی گئی تو ٹریکٹر نالے میں الٹ گیا۔

آج دوپہر موضع کے عوام نے بھاری رسیوں کی مدد سے ان تینوں گاڑیوں کو بحفاظت نالے اور مٹی سے باہر کھینچ کر نکال لیا جس کےبعد ان گاڑی مالکین نے راحت کی سانس لی۔

جبکہ تانڈور۔کرناٹک کی سرحد پر موجود موضع ملکا پور کی ایک پتھروں کی معدن میں سیلابی پانی داخل ہوگیا اور معدن (کانکنی) میں تعمیر کردہ دیواریں گرگئیں پوری معدن سیلابی پانی میں غرق ہوگئی۔وہاں کام میں مصروف مزدوروں نے احتیاطی اقدامات کے تحت پہلے ہی کانکنی روک کر معدن کے اوپری حصہ میں آگئے تھے۔خوش قسمتی سے کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے آئندہ پانچ دن تک ضلع وقارآباد میں بھی شدید اور موسلا دھابارش کی پیش قیاسی پر مشتمل ایلو الرٹ جاری کیے جانے کے بعد گزشتہ رات کلکٹر ضلع وقارآباد مسٹر پرتیک جین نے عوام کومشورہ دیا ہے کہ وہ چوکس رہیں بالخصوص شکستہ اور مخدوش عمارتوں اور برقی کھمبوں سے دور رہیں۔ساتھ ہی ضلع کلکٹر نے متعلقہ عہدیداروں کو بھی ہدایت دی ہے کہ شدید بارش کے باعث ضلع میں سڑکوں اور بریجیس کے ٹوٹ جانے یا بہہ جانے، فصلوں کو نقصان نہ پہنچنے اور جانی نقصان نہ ہو اس کے لیے موثر اقدامات کو یقینی بنائیں۔

ضلع کلکٹر وقارآباد نے کہاہے کہ عوام کی مدد کےلیے ضلع انتظامیہ ہمیشہ چوکس رہے گا۔ضلع کلکٹر پرتیک جین نے عوام کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ بارش کے باعث لبریز ہونے والے ندیوں،نالوں اور تالابوں سے دور رہیں،سڑکوں پر موجود پلوں پر سے اگر سیلابی پانی گزر رہا ہو تو انہیں گاڑی سوار اور راہرو انہیں عبور کرنے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں ” 

راہول گاندھی نے پہلی مرتبہ سمرتی ایرانی کے حق میں بیان دیا، لوگوں کی تذلیل کرنا طاقت کی نہیں کمزوری کی علامت ہے!