اتر پردیش کے بجنور میں ہولی کا جشن، مسلم خاندان کے ساتھ نوجوانوں کی شرمناک حرکت، ایف آئی آر درج، چار گرفتار

مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی!!

اتر پردیش کے بجنور میں ہولی کا جشن، مسلم خاندان کے ساتھ نوجوانوں کی شرمناک حرکت
خاندان کو رنگ اور پانی سے شرابور کر دیا، ویڈیو وائرل، ایف آئی آر درج، چار گرفتار

لکھنؤ : 24۔مارچ
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

تمام مذاہب کے عید اور تہوار کبھی ایک دوسرے کی خوشیوں میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی اور مذہبی بھائی چارہ کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔لیکن افسوس کہ چند سال سے ان کی آڑ میں مسلمانوں کومختلف طریقوں سے پریشان اور ہراساں کرنا،مساجد اور مسلم اکثریتی علاقوں میں نفرت انگیز اور اکسانے والے دلآزار نعرےلگانا اور پھر دیدہ و دلیری کے ساتھ ان غیر سماجی اور غیر قانونی حرکتوں کے ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر وائرل کروانا عام بات بن کر رہ گئی ہے۔!

لیکن اتر پردیش میں آج نوجوانوں کے ایک گروپ کی جانب سے کی گئی شرمناک اور غیر قانونی حرکت خود ان کے لیے اس وقت مصیبت بن گئی جب اس ویڈیو کےسوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس گروپ کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کرتے ہوئے چار نوجوانوں کو گرفتار کرلیا اور دیگر کی تلاش میں مصروف ہے۔اتر پردیش پولیس کے اس فوری قدام کی ستائش کی جا رہی ہے۔

ان شرپسندوں نے ہولی کا جشن مناتے ہوئے موٹرسیکل پر جا رہے ایک مسلم خاندان کو اپنے پسندیدہ نعروں کے درمیان سڑک پر روک کر ان پر رنگ ڈالا،خواتین کے جسمانی حصوں کو چھوا اور پھر پانی کے پائپ سے انہیں شرابور کر دیا۔ان کی ذہنی پسماندگی اور بدمعاشی کی انتہاء یہ بھی دیکھی گئی جب بناء کسی احتجاج یہ خاندان اسی حالت میں وہاں سے روانہ ہو رہا تھا تو موٹرسیکل پر پیچھے بیٹھی ہوئیں ضعیف خاتون پر بکیٹ کے ذریعہ پانی انڈیل دیا۔

اتر پردیش کے بجنور ضلع کے دھام پور شہر میں ہولی تہوار سے قبل جشن منانے والا ایک شرمناک اور غیر انسانی حرکتوں پرمشتمل واقعہ پیش آیا ہے۔ جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شرپسند نوجوانوں کا ایک گروپ ایک مسلم خاندان جو موٹرسیکل پر جارہا تھا کی موٹرسیکل کو روکا اور نعرے بازی، شور شرابہ کے درمیان ان پر پانی ڈالا پھر ان کے چہروں پر اپنے ہاتھوں سے زبردستی رنگ لگا دیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ یہ واقعہ کب پیش آیا ہے۔؟

اس واقعہ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش میں ہےجہاں ایک بڑا طبقہ اس واقعہ کی مذمت کررہا ہے اور اس واقعہ میں ملوث شرپسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہا ہے تو ایک مخصوص ذہن کےسوشل میڈیا صارفین اس مسلم خاندان کوہی قصور وار قرار دے رہے ہیں کہ ہولی کے باؤجود اپنے گھر سے نکلے ہی کیوں؟ ان کا استفسار ہے کہ کیا اب ہم ہمارے ملک میں اپنا مذہبی تہوار بھی نہیں مناسکتے۔؟

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد بجنور پولیس نے ایکس X (سابقہ ٹوئٹر) کے اپنے ہینڈل پرضلع ایس پی نیرج کمار جادوں کے بیان کا ایک ویڈیو ٹوئٹ کیا ہے۔جس میں ضلع ایس پی کہہ رہے ہیں آج صبح سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس کا مشاہدہ کیا گیا جس میں دیکھا گیا ہے کہ موٹرسیکل پر جارہے ایک خاندان پرکچھ لوگ جبراً رنگ ڈال رہے ہیں انہیں ہراساں کررہے ہیں اور انہیں دھمکا رہے ہیں۔

ایس پی ضلع بجنور نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ پولیس عہدیداروں کی ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرہ خاندان سے شکایت حاصل کر کے اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ساتھ ہی انہوں کہا کہ ہولی کے موقع پر کسی پر زبردستی رنگ نہ ڈالیں اور نہ کسی کو ہراساں کریں۔انہوں نےانتباہ دیا کہ خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق اس معاملہ میں پولیس کی جانب سے چار لڑکوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان میں انیرودھ عرف انو ورما کے علاوہ تین بانالغ لڑکے بھی شامل ہیں۔ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 147، 341، 323، 504، 509 اور 354 کے تحت ایف آئی آر درج کیا گیا ہے۔اس واقعہ میں ملوث دیگر لڑکوں کی بھی پولیس کو تلاش جاری ہے۔

آئے دن ملک کے مختلف حصوں میں ایسے واقعات اس ملک کی برسوں قدیم گنگاجمنی تہذیب اور قومی یکجہتی پر ایک بدنماء داغ ہی کہے جاسکتے ہیں ۔!! کسی شاعر نے کہا تھا کہ؎

مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی
اب یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں

" یہ بھی پڑھیں "

امیٹھی میں ریلوے ملازمین نے ڈبل انجن کی حامل انسپکشن بوگی کو دھکا دے کر اسٹیشن تک منتقل کیا، سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل

 

دبئی کے حکمراں کے نام سے انعامی مقابلہ کی لنک وائرل، واٹس ایپ پر ہیکرز کا نیا جال، لنک کو کلک اور فارورڈ نہ کریں

ملک میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے، اپنے ساتھ 50 ہزار روپئے سے زائد رقم اور زیورات نہ لے جائیں