تلنگانہ کے تیسرے وزیراعلیٰ کے طور پر ریونت ریڈی کا انتخاب، کوڑنگل وقارآباد ضلع کو تلنگانہ کو فائر برانڈ چیف منسٹر دینے کااعزاز حاصل

کتنے ویرانوں سے گزرے ہیں تو منزل پائی ہے!!

تلنگانہ کے تیسرے وزیراعلیٰ کے طور پر ریونت ریڈی کا انتخاب
کوڑنگل وقارآباد ضلع کوتلنگانہ کو فائر برانڈ چیف منسٹر دینے کااعزاز حاصل
ریونت ریڈی کا صحافی اور زیڈ پی ٹی سی رکن سے چیف منسٹر تک کا صبرآزما سفر

حیدرآباد: 05۔ڈسمبر
(سحر نیوز ڈیسک)

119 رکنی تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات کےنتائج میں اقتدارحاصل کرنےکےلیے کانگریس پارٹی نے 60 کاجادوئی ہندسہ عبور کرتےہوئے 64 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔2014 میں ملک کی 29 ویں ریاست کے طور پر ملک کے نقشہ پر ابھرنے والی ریاست تلنگانہ پر دو معیادوں 2014 تا 2018 اور 2018 تا 2023 تک ناقابل تسخیر مانے جانےوالے بی آر ایس سربراہ(سابقہ ٹی آر ایس)و چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤسےعنان اقتدار چھین لیا۔

کانگریس کی حمایتی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(سی پی آئی)نےبھی ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔اس طرح کانگریس 119 رکنی تلنگانہ اسمبلی میں 65 ارکان اسمبلی کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔جبکہ بی آر ایس نے 39 نشستوں پر، کل ہند مجلس اتحادالمسلمین نے 7 نشستوں پر اور بی جے پی نے 8 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

3 ڈسمبر کو ووٹوں کی گنتی اور کانگریس کو اکثریت حاصل ہونےکے بعد ریاست کے عوام کو یقین تھا کہ انمولا ریونت ریڈی باآسانی ریاست کے تیسرے چیف منسٹر بن جائیں گے،لیکن میڈیا اورسوشل میڈیا پرمختلف قسم کی اطلاعات نےعوام کوتجسس میں ڈال دیاتھا۔کل 4 ڈسمبر کو حیدرآباد کی ہوٹل ایلا میں منعقدہ کانگریس لیجسلیچرپارٹی(سی ایل پی /نومنتخب ارکان اسمبلی) کے اجلاس میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔

جس کے بعد کل ہند کانگریس کے آبزرور و ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک ڈی کے شیوا کمار اس قرارداد کے ساتھ دہلی روانہ ہوگئے۔ جس کے بعد مزید تجسس پیدا ہوگیا اور سوشل میڈیا پرمختلف اطلاعات گشت کرنے لگیں۔اس پر بھٹی وکرامارکار اور کانگریس ایم پی اتم کمار ریڈی بھی دہلی روانہ ہوگئے اور ہائی کمان سے ملاقات کی جس پر ریونت ریڈی کا چیف منسٹر بننا مشکل نظر آنے لگا تھا۔

اسی دؤران آج 5 ڈسمبر کی شام رکن راجیہ سبھا کے سی وینو گوپال نے اعلان کیا کہ سی ایل پی اجلاس میں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس ریونت ریڈی کو کانگریس لیجسلیچرپارٹی قائد کے طور پر منتخب کر لیا گیا ہے۔جس کے بعد واضح ہوگیا کہ ریونت ریڈی کے سر پر چیف منسٹر تلنگانہ کا تاج رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 7 ڈسمبر کو حلف برداری کی تقریب ہوگی۔کے سی وینو گوپال نے کہا کہ وزراء کے ناموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا اور پارٹی کے تمام سینئر قائدین کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔

ریونت ریڈی جو کہ ایک فائر برانڈ لیڈر کے طور پر اپنی شناخت رکھتے ہیں 8 نومبر 1969 کومحبوب نگر ضلع کے ونگور منڈل کے موضع کونڈا ریڈی پلی میں کسان خاندان نرسمہا ریڈی اور رام چندرماں کے گھر پیدا ہوئے۔اے وی کالج سے گرائجویشن کی تکمیل کی۔زمانہ طالب علمی سےہی ان کا رحجان سیاست کی جانب رہا۔چند دن انہوں نےطلبہ تنظیم اے بی وی پی میں بھی گزارے۔چندسال تک انہوں نےپرنٹنگ پریس بھی چلایا۔

ریونت ریڈی نے 30 سال قبل تلگو ہفت روزہ جاگرتی میں صحافتی خدمات بھی انجام دیں۔جوبلی ہلز کوآپریٹیو سوسائٹی کےڈائرکٹر بھی رہے انہوں نے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بھی کیا۔ریونت ریڈی نے سینئر کانگریسی و سابق مرکزی وزیر ایس۔جئے پال ریڈی کی رشتہ دار گیتا ریڈی سے محبت کی شادی کی،اس جوڑے کو ایک لڑکی نائیمشا ہیں جن کی شادی ہوچکی ہے۔

ریونت ریڈی ٹی آر ایس پارٹی کے لیے بھی کام کیا۔بعدازاں پارٹی چھوڑکر انہوں نے 2006 میں مڈجل منڈل سے رکن ضلع پریشد کے لیے آزاد امیدوار کے طور پر مقابلہ کیا اور جیت گئے۔یہاں سے باقاعدہ ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہوا اور انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔2007ء میں ریونت ریڈی مجالس مقامی کے کوٹہ سےبحیثیت آزاد امیدوار محبوب نگرضلع سے رکن قانون ساز کونسل(ایم ایل سی)کےلیے مقابلہ کرلیتے ہوئے کامیاب ہوگئے۔اور اس وقت تلگودیشم سربراہ و سابق وزیراعلیٰ این۔چندرا بابو نائیڈو کی قیادت میں تلگودیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔

ریونت ریڈی نے 2009 میں حلقہ اسمبلی کوڑنگل جو کہ اس وقت ضلع محبوب نگر میں شامل تھا سے تلگودیشم ٹکٹ پر مقابلہ کرتے ہوئے کوڑنگل سے پانچ مرتبہ کامیابی حاصل کرچکے کانگریس کے رکن اسمبلی گروناتھ ریڈی کوشکست دیتے ہوئے سیاسی نقادوں کو حیران کردیا تھا۔جبکہ 2004 تا 2009 متحدہ ریاست آندھراپردیش میں آنجہانی وزیراعلیٰ وائی ایس راج شیکھرریڈی کا دبدبہ قائم تھا۔تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ریونت ریڈی 2014ء کے اسمبلی انتخابات سے دوبارہ حلقہ اسمبلی کوڑنگل سے کامیابی حاصل کی۔

ریونت ریڈی 31 اکتوبر 2017 کو دہلی میں راہول گاندھی سےملاقات کرتےہوئے کانگریس پارٹی میں شامل ہوگئے۔تلنگانہ میں جدید اضلاع کی تشکیل اور حلقہ اسمبلی کوڑنگل کومحبوب نگر ضلع سے ضلع وقارآباد میں شامل کرنےکے بعد ڈسمبر 2018 میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں تیسری مرتبہ مقابلہ کیا لیکن وہ ٹی آر ایس کے امیدوار پی۔نریندر ریڈی کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوگئے۔یہ ان کی پہلی سیاسی شکست تھی۔

ریونت ریڈی نے 6 ماہ بعد منعقدہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حیدرآباد کے مضافاتی ضلع رنگاریڈی کے حلقہ پارلیمان ملکاجگیری سے مقابلہ کیا اور ٹی آر ایس امیدوار مری راج شیکھرریڈی کو شکست دیتے ہوئے لوک سبھا میں داخل ہوگئے۔بعدازاں انہیں کارگزار صدر تلنگانہ کانگریس کی ذمہ داری تفویض کی گئی۔جولائی 2021ء میں کانگریس پارٹی ہائی کمان نے ریونت ریڈی کو صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی ) کی مکمل ذمہ داری سونپ دی۔

یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ ریونت ریڈی نےسخت محنت اور پارٹی کے سینئرز اور جونیئرز کے ساتھ بہترتال میل اور ساتھ ہی اپنی صلاحیتوں اور شعلہ بیانی کے ذریعہ کانگریس کومضبوط بنانے میں اہم رول ادا کیا۔انہوں نے بی آر ایس اور بی جے پی کےالزامات اور زبانی حملوں کا جم کر مقابلہ کیا اور ان کےجوابات اپنے منفرد انداز میں دیتےرہے۔اس طرح ریونت ریڈی اپنی خود کی ایک منفرد و علحدہ شناخت بنانےاورعوامی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

2023ء میں منعقدہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں ریونت ریڈی کی صدارت میں کانگریس نے بی آر ایس اور بی جے پی کے ساتھ سخت مقابلہ کیا۔ریونت ریڈی نے 87 جلسوں اور روڈ شوز سےخطاب کیا۔ملک ارجن کھرگے،راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کےعلاوہ کئی ریاستوں کے کانگریسی قائدین نے انتخابی مہم میں حصہ لیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کانگریس تلنگانہ کا اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

” انتخابی نتائج میں اکثریت کے بعد پہلی مرتبہ ریونت ریڈی اردو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے "

https://www.youtube.com/watch?v=HsDhUlaUt10&t=37s

ریونت ریڈی نے ان انتخابات میں وقارآبادضلع کےحلقہ اسمبلی کوڑنگل سےہی دوبارہ رمقابلہ کرتےہوئے 2018ء کے انتخابات میں انہیں شکست دینے والے بی آر ایس کے امیدوار پی۔نریندر ریڈی کوشکست دیتے ہوئے 32,532 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

اس طرح وقارآباد ضلع کے حلقہ اسمبلی کوڑنگل سے کامیاب ہونے والے فائر برانڈ ریونت ریڈی اب تلنگانہ کے چیف منسٹر بننے جارہے ہیں۔یہ حلقہ اسمبلی کوڑنگل اور وقارآباد ضلع کے لیے ایک اعزاز مانا جارہا ہے۔

وقت کے بدلنے کی مثال اگرکہیں دیکھنی ہوتو اس کی مثال خود ریونت ریڈی ہیں۔2018کےاسمبلی انتخابات کےدؤران 4 ڈسمبر 2018ء کی اولین ساعتوں میں 3 بجے  اس وقت کی ایس پی ضلع وقارآباد ٹی۔اناپورنا کی قیادت میں 50 پولیس عہدیداروں اور ملازمین پولیس نےکوڑنگل میں موجود ریونت ریڈی کے مکان میں داخل ہوکر ان کے بیڈروم کا دروازہ توڑ کر انہیں گرفتار کرتےہوئے ایک گیسٹ ہاؤز میں محروس رکھا تھا۔بعدازاں الیکشن کمیشن کے حکم پر اسی دن سہء پر ریونت ریڈی کو رہاء کر دیا گیا تھا۔

اب ٹھیک پانچ سال کے وقفہ کے بعد 4 ڈسمبر 2023ء کو سی ایل پی نے ریونت ریڈی کو اپنا قائد طئے کرتے ہوئے انہیں چیف منسٹر تلنگانہ کی کرسی تک پہنچا دیا ۔
نامور انقلابی شاعر ساحر لدھیانوی نے فلم وقت کے لیے ایک گیت لکھا تھا جس کے بول تھے ؎

وقت سے دن اور رات وقت سے کل اور آج
وقت کی ہر شے غلام وقت کا ہر شے پہ راج
٭٭
وقت کی پابند ہیں آتی جاتی رونقیں
وقت ہے پھولوں کی سیج وقت ہے کانٹوں کا تاج
٭٭
آدمی کو چاہیے وقت سے ڈر کر رہے
کون جانے کس گھڑی وقت کا بدلے مزاج
٭٭

یہ بھی پڑھیں "

تمل ناڈو میں مائچانگ سمندری طوفان کی تباہ کاریاں، فوج نے 300 افراد کو بحفاظت نکال لیا، چنئی ایرپورٹ جھیل میں تبدیل