تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی رائے دہی کے لیے اُلٹی گنتی شروع، 119 نشستوں کے لیے 2290 امیدوار، 3 کروڑ 26 لاکھ ووٹرز

تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کی رائے دہی کے لیے اُلٹی گنتی شروع
119 نشستوں کے لیے 2290  امیدوار، 3 کروڑ 26 لاکھ ووٹرز

حیدرآباد : 29۔نومبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/نمائندہ)

ریاست تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کی ووٹنگ کے لیے اُلٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔جہاں کل 30 نومبر بروز جمعرات صبح 7 بجے سے رائے دہی کا آغاز ہوگا جس کا اختتام شام 5 بجے ہوگا۔119 ارکان پرمشتمل تلنگانہ اسمبلی کےلیے 2,290 امیدوار میدان میں ہیں جن کا تعلق بی آر ایس، کانگریس، بی جے پی، کل ہند مجلس اتحادالمسلمین، بی ایس پی، جنا سینا کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے اور ان میں بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی بھی ہے۔تلنگانہ میں ان ووٹوں کی گنتی دیگر چار یاستوں مدھیہ پردیش،راجستھان، چھتیس گڑھ اور میزورم کے ووٹوں کی گنتی کے ساتھ 3 ڈسمبر کو ہوگی۔جہاں اسی ماہ رائے دہی کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔

تلنگانہ میں 3 کروڑ 26 لاکھ ووٹرز موجودہیں۔جن کے لیے قائم 35,655 پولنگ اسٹیشنوں پر وہ کل 30 نومبر کو اپنا حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ان میں سے 12 ہزار مراکز رائے دہی کو حساس زمرہ میں رکھا گیاہے۔اطلاعات کے مطابق اسمبلی انتخابات کے لیے ایک لاکھ 85 ہزار سے زائد عملہ کو انتخابی خدمات پر مامور کیاگیا ہے۔جبکہ رائے دہی کے دوران نظر رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن نے 22 ہزار مائیکروآبزرورز اور فلائنگ اسکواڈ کا تقرر عمل میں لایا ہے۔

ریاستی الیکشن کمشنر وکاس راج نے آج ہدایت دی ہے کہ تمام سرکاری اسکولوں،کالجوں،خانگی ادارہ جات، آئی ٹی کمپنیوں، اسکولوں،تجارتی اور کاروباری ادارہ جات کے انتظامیہ کی جانب سے کل 30 نومبر کو با اجرت عام تعطیل کا اعلان کیا جائے۔انہوں نے انتباہ دیاکہ تعطیل کا اعلان نہ کرنے والے اداروں اور کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

امیدواروں کی اگر بات کی جائےتو ریاست میں دو دہوں سے برسر اقتدار بی آر ایس پارٹی نے تمام 119 نشستوں پر اپنے امیدوار اتارے ہیں۔ جبکہ بی جے پی کے 111 امیدوار میدان میں ہیں اوراس کی اتحادی اداکار پون کلیان کی جنا سینا پارٹی کے 8 امیدوار مقابلہ کر رہے ہیں۔ وہیں کانگریس نے 118 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں اور ایک نشست اپنی اتحادی جماعت سی پی آئی کو دی ہے۔

صدر و رکن پارلیمان حلقہ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی کی قیادت میں کل ہندمجلس اتحادالمسلمین حیدرآباد کے 9 اسمبلی حلقوں میں مقابلہ کر رہی ہے۔اس کے علاوہ دیگر جماعتوں کے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

ان انتخابات کی خاص بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کے سی آر دو اسمبلی حلقہ جات گجویل اور کاماریڈی سےمقابلہ کررہے ہیں۔جبکہ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی جوکہ پہلےہی سے حلقہ پارلیمان ملکاجگیری سےلوک سبھا کے رکن بھی ہیں کوڑنگل اور کاما ریڈی دو مقامات سے مقابلہ کررہے ہیں۔جبکہ انہیں 2018ء کے اسمبلی انتخابات میں ضلع وقارآباد کے حلقہ اسمبلی کورنگل سے شکست ہوئی تھی جہاں سے وہ اس سے قبل دو بارمنتخب ہوئے تھے۔حلقہ اسمبلی گجویل سے وزیراعلیٰ کے سی آر کےخلاف بی جے پی امیدوار ایٹالہ راجندر مقابلہ کررہے ہیں جبکہ وہ دو مرتبہ حلقہ اسمبلی حضور آباد سے جیت درج کرواچکے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی،مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ،مرکزی وزراء راج ناتھ سنگھ،نتن گڈکری، اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، آسام کے وزیراعلیٰ ہیمانتا بسوا سرما،مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شنڈے،نائب وزیراعلی دیویندر فڈنویس،کرناٹک کےسابق وزیر اعلی بی ایس یدیورپا اور صدر تمل ناڈو بی جے پی انا مالائی نے ریاست میں بی جے پی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔

جبکہ وزیراعلیٰ کے سی آر، کارگزار صدر کے ٹی آر،رکن قانون ساز کونسل کے۔کویتا،ارکان پارلیمان،سینئر قائدین،ریاستی وزراءنے بھی بی آر ایس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔

اسی طرح کانگریس کی انتخابی مہم میں قومی صدر پارٹی کانگریس ملک ارجن کھرگے،سابق صدر و رکن پارلیمان راہول گاندھی،جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا،نائب وزیراعلیٰ کرناٹک ڈی کے شیوا کمار،رکن راجیہ سبھا وقومی صد رکانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ عمران پرتاپ گڑھی، کنہیا کمار، صدر تلنگانہ کانگریس ریونت ریڈی کے بشمول سینئر اور نوجوان پارٹی قائدین نے حصہ لیا۔

جبکہ کل ہندمجلس اتحادالمسلمین کےلیے صدر و رکن پارلیمان بیرسٹر اسدالدین اویسی اور اکبر الدین اویسی نے انتخابی مہم میں حصہ لیا۔جس میں انتخابی جلسوں سے خطاب، ریالیاں، پیدل دورے اور کارنر میٹنگس شامل ہیں۔

9 اکتوبر کو مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی شیڈول جاری کیےجانے کےبعد انتخابی ضابطہ اخلاق کا نفاذ ہوگیا تھااس کے بعد سے پولیس اور الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کی جانب سے گاڑیوں کی تلاشی مہم کے دؤران ریاست میں زائداز 737 کروڑ روپے مالیتی نقد رقم کے علاوہ، سوناکے زیورات،قیمتی اشیاء، شراب اور دیگر اشیاء ضبط کی گئی ہیں۔

کل 30 نومبر کو ہونےوالی رائے دہی کےپیش نظر ریاست میں عام تعطیل کا اعلان کیاگیاہےاور 28 نومبر کی شام 5 بجے انتخابی مہم کے اختتام کے بعد سے پولیس نے ریاست میں دفعہ 144 نافذ کردیا ہے جس کے بعد پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی رہے گی۔

ریاست میں پرامن اور آزادانہ انتخابات کےلیے مرکزی الیکشن کمیشن نے 375 مرکزی فورسیس کی تعیناتی عمل میں لائی ہے۔جبکہ ریاستی حکومت نے 50 ہزار ملازمین پولیس کے ذریعہ انتظامات کیے ہیں۔میڈیا اطلاعات کے مطابق اس بندوبست پر 150 کروڑ روپئے صرف ہورہے ہیں۔

اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کے لیے رائے دہندے 15 مختلف سرکاری دستاویزات میں سے کسی ایک کا استعمال کرسکتے ہیں۔جن میں

⬅️ ووٹر شناختی کارڈ
⬅️ پاسپورٹ
⬅️ آدھار کارڈ
⬅️ ڈرائیونگ لائسنس
⬅️ پان کارڈ
⬅️ منریگا جاب کارڈ
⬅️ بینک یا پوسٹ آفس سے جاری کردہ پاس بک
⬅️ ہیلت انشورنس اسمارٹ کارڈ
⬅️ وظیفہ کا دستاویز (تصویر کے ساتھ)
⬅️مرکزی اور ریاستی یا خانگی اداروں کے ملازمین کے شناختی کارڈز شامل ہیں۔