تانڈور میں کانگریس کو شدید جھٹکا، سینئر قائدین ایم اے علیم اور سید بشارت علی کے بشمول 400 قائدین اور کارکن بی آرایس میں شامل

تانڈور میں کانگریس کو شدید جھٹکا، سابق نائب صدر بلدیہ ایم اے علیم اور سید بشارت علی کے بشمول
زائداز 400 پارٹی قائدین اور  کارکن  بی آرایس میں شامل،رکن اسمبلی نے کھنڈوا پہنایا

وقارآباد/تانڈور: 17؍نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات کے لیے کی مہم تیز ہوتی جا رہی ہے۔اسی دؤران کانگریس پارٹی کو ضلع وقارآباد کے تانڈور ٹاؤن میں اس وقت شدید جھٹکا لگا جب سابق نائب صدرنشین و بلدیہ، مقامی پارٹی جنرل سیکریٹری اور سینئر قائدین کی بڑی تعداد بی آر ایس پارٹی میں شامل ہوگئی۔ بی آر ایس پارٹی نمائندہ کے مطابق یہ تعداد زائد از 400 کانگریسی قائدین اور کارکنوں پر مشتمل ہے۔

اس سلسلہ میں ریلوے اسٹیشن کے قریب منعقدہ جلسہ میں رکن اسمبلی و بی آر ایس امیدوار حلقہ اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کی موجودگی میں سابق نائب صدرنشین بلدیہ و سینئر کانگریس پارٹی قائد ایم اے علیم،جنرل سیکریٹری ٹاؤن کانگریس سید بشارت علی کے علاوہ سلطان پٹیل، نواب الصباء،اسمٰعیل خان،سید بشیر الدین، ایم اے قیوم،عبدالستار،محمد مظفر،محمد معز،محمد جہانگیر،ایم اے ستار،محمد تاج الدین، رینوکا،غلام رسول،محمد اعظم اور ایم اے جبار کےبشمول زائداز 400 کانگریس کےمقامی پارٹی قائدین اور کارکنوں نے باقاعدہ بی آر ایس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔

رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی نے ان تمام کا بی آر ایس میں استقبال کرتےہوئے پارٹی کھنڈوا پہناکر پارٹی میں شامل کرلیا۔اس موقع پراپنے خطاب میں رکن اسمبلی نے کہاکہ ان کانگریس کے سینئر اقلیتی قائدین کی بی آر ایس پارٹی میں شمولیت خوشی کا باعث ہے۔

وہیں سابق نائب صدرنشین بلدیہ ایم اےعلیم اور جنرل سیکریٹری ٹاون کانگریس سید بشارت علی اور دیگر نے خطاب کرتےہوئے کہاکہ وہ رکن اسمبلی و بی آر ایس پارٹی امیدوار پائلٹ روہت ریڈی کی دوبارہ کامیابی کو یقینی بنانے کےلیے بڑے پیمانے پر انتخابی مہم میں حصہ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ حلقہ اسمبلی تانڈور سے پائلٹ روہت ریڈی کی دوبارہ کامیابی یقینی ہے۔

اس تقریب میں صدر ضلع لائبرریز راجو گوڑ، صدر ٹاؤن بی آر ایس ایم اے نعیم افو،محمد بابر، غلام مصطفی پٹیل، پٹلولا نرسملو اور سرینواس چاری کے علاوہ دیگر موجود تھے۔

" یہ بھی پڑھیں "

حلقہ اسمبلی تانڈور سے 21 امیدوار میدان میں، 9 آزاد امیدوار بھی شامل، انتخابی نشانات مختص، دو لاکھ 36 ہزار 76 رائے دہندگان