اعلیٰ تعلیمیافتہ نوجوان معمولی ملازمتیں کر رہے ہیں، 70 فیصد بچے سوشل میڈیا کے شکنجہ میں
حصول تعلیم میں پیچھے رہنے والی قومیں فراموش کردی جاتی ہیں، ذلت مقدر بن جاتا ہے
جمعیتہ علماء وقارآباد ضلع کے زیر اہتمام تانڈور میں اجلاس عام، ہزاروں افراد کی شرکت
مولانا مفتی عفان منصور پوری اور نامور موٹیویشنل اسپیکر منور زماں کا پُراثر خطاب
حیدرآباد/تانڈور : 16؍ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/نمائندہ)
حضرت مفتی سید عفان منصور پوری،شیخ الحدیث،جامعہ اسلامیہ،امروہہ،اتر پردیش نے "نئی نسل میں دینی شعور بیداری کی ضرورت” کے عنوان پر خطاب کرتےہوئے کہا ہےکہ جو قوم حصولِ تعلیم میں پیچھے رہتی ہے تاریخ انہیں فراموش کردیتی ہے اور ذلت و محکومی ان کا مقدر بن جاتا ہے۔وہ گذشتہ رات جمعیتہ علماء وقارآباد ضلع کے زیر اہتمام حضرت حافظ پیر شبیر احمد، صدر جمعیتہ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش کی زیر صدارت منعقدہ پانچویں اور مرکزی سالانہ اجلاس عام بعنوان "تعلیم، دین و دنیا کی ترقی کی ضامن”سے خطاب کر رہے تھے۔
وقارآباد ضلع کے تانڈور ٹاون کے میٹرو فنکشن ہال( برائے مرد) اور وائٹ پیالیس فنکشن ہال (برائے خواتین) میں صدر جمعیتہ علماء وقارآباد ضلع مولانا محمد عبداللہ اظہر قاسمی کی زیر نگرانی منعقدہ اس اجلاس عام میں دس مختلف اضلاع اور حلقہ اسمبلی تانڈور کے سات ہزار سے زائد مرد و خواتین، طلباء و طالبات نے شرکت کی۔دونوں فنکشن ہال اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کر رہے تھے۔
حضرت مفتی سید عفان منصور پوری نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تعلیم انسان کے لیے اعزاز اور شرافت کی بات ہے اور علم ہی کی وجہ سے انسان کو دوسری مخلوقات پر فضیلت عطاء کی گئی ہے۔تمام مخلوقات کو انسان کے لیے مسخر کیا گیا ہے اور تعلیم انسان کے اشرف المخلوقات کہلائے جانے کا اہم سبب ہے۔

مفتی سید عفان منصور پوری نے مزید کہاکہ اسلام کا سب سے پہلا پیغام” حصول تعلیم "ہےکیونکہ جو انسان زیورتعلیم سے آراستہ ہو جاتا ہے وہ تمام برائیوں سے دور رہتا ہے اور سماج کا ایک ذمہ دار شہری بن کر زندگی گزارتا ہے۔لیکن نہایت افسوس کی بات ہیکہ آج امت مسلمہ نے اسلام کی سب سے پہلی وحی کے پیغام کو فراموش کر دیا ہے جس کی وجہ سے ہر محاذ پر ناکام اور ہر جگہ ذلیل و خوار ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ تعلیم چاہے دینی ہو یا عصری دونوں کی اپنی جگہ اہمیت ہے اور اسلام دونوں کی ہمت افزائی کرتا ہے اور موجودہ طور پر اس بات کی اشدضرورت ہیکہ مسلمان جس طرح دینی تعلیم کی جانب خاص توجہ دیں اسی طرح عصری تعلیم کے مختلف شعبہ جات میں مہارت و قابلیت پیدا کریں،جس کے بعد دنیا خود بخود آپ کے سامنے جھکے گی اور آپ کو آپ کا جائز مقام و مرتبہ دے گی۔مولانا مفتی سید عفان منصور پوری نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت ضروری ہے بالخصوص عصری اداروں میں تعلیم پانے والے بچے اور بچیوں کی اخلاقی نگرانی بے حد ضروری ہے۔
حافظ پیر خلیق احمد صابر جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھرا پردیش نے اس اجلاس عام سےاپنے خطاب میں کہا کہ مسلمان تعلیمی میدان میں آگے بڑھ کر اپنے حقوق حاصل کریں۔
نامور موٹیویشنل اسپیکر جناب منور زماں نے ہزاروں مرد و خواتین کے اس اجلاس عام سے اپنے خطاب میں تاسف کا اظہار کرتےہوئےکہا کہ آج دس تا پندرہ سال کی عمرکے درمیان کے 70 فیصد بچے سوشل میڈیا پر زندگی گزار رہے ہیں۔اور انہیں معلوم نہیں ہےکہ ان کامستقبل کیسا ہوگا۔؟ اور بقیہ جو 30 فیصد بچے ہیں وہ بھی مستقل مزاج نہیں ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کو متنبہ کیا کہ اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کریں گے تو وہ پریشانیوں میں زندگی گزاریں گے۔
اس اجلاس عام سے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے موٹیویشنل اسپیکر منور زماں جن کا تعلق تلنگانہ کے نلگنڈہ سے ہے نے کہا کہ حیدرآباد،بنگلور، ممبئی کے بشمول بڑے شہروں میں گرائجویٹ،انجینئر، پوسٹ گرائجویٹ،ایم۔ٹیک اور ایم بی اے کی تکمیل کرنےوالے نوجوانوں کوملازمتیں نہیں مل رہی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہےکہ دوران تعلیم انہوں نے اپنا وقت کتابوں کے ساتھ نہیں گزارا،نہ تجربہ حاصل کیااور نہ صلاحیتوں میں اضافہ کیا کسی طرح امتحان کامیاب کرلیے۔

جناب منور زماں نے انتہائی تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایم بی اے کی تکمیل کر نےوالے کئی نوجوان جو دیگر کوملازمتیں دینےکے قابل مانے جاتے ہیں لیکن افسوس کہ آج ان نوجوانوں کی بڑی تعداد زوماٹو اور سوئیگی میں کام کررہی ہے، اولا اور اوبیر چلارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کوئی حرام یا غلط کام نہیں ہے،لیکن جب یہی کام کرنے تھے تو اس کے لیے اتنی بڑی ڈگریوں کی کیا ضرورت تھی؟ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ہماری قوم اسی لیے پیدا ہوئی ہے کہ وہ لوگوں کے گھروں تک کھانا پہنچائے۔؟
انہوں نے کہاکہ والد مقروض ہوکر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتےہیں لیکن نوجوان ناکام ہوکر انہیں دھوکہ دیتے ہیں۔منور زماں نے کہا کہ آج نوجوان موبائل فونس،کمپیوٹرز اور گیمز میں مصروف ہوگئے ہیں۔کمپیوٹرگیمس کے دیوانے اور کتابوں سے دور ہوگئے ہیں۔انہوں نے تلقین کی کہ ہر حلال سرگرمیوں میں ضرور حصہ لیں لیکن ان کی پہلی ترجیح تعلیم ہونا ضروری ہے۔
” سحر نیوز کے اس یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کی گذارش ہے "
انہوں نے کہا کہ جب کبھی د نیا بگڑ جاتی یا گمراہ ہوجاتی تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اس دنیا کو سدھارنے کے لیے ایک پیغمبر کو بھیجا کرتے اور حضور اکرم ؐ آخری نبی ہیں۔جب دنیا بگڑ گئی تھی،ہر طرف اندھیرا تھا اور کوئی روشنی نظر نہیں آ رہی تھی تب نبی اکرم ؐ ایک ٹیچر کی حیثیت سے دنیا میں بھیجے گئے۔
موٹیویشنل اسپیکر جناب منور زماں نےاپنے ایک گھنٹہ طویل خطاب میں زور دیتے ہوئے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ اگر آپ کو کامیاب ہونا ہے تو پہلے ٹیچرکے ہاتھ کو تھامنا ہوگا،صرف کتابوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ایک ہاتھ سے مدارس،اسکولس کےٹیچرس کا ہاتھ تھام لیں اور وسرے ہاتھ میں قرآن تھام لیں، کمپیوٹر تھام لیں،جدید تعلیم کی کتابیں تھام لیں تو گمراہ نہیں ہوسکتے کامیابی آپ کا مقدر ہوگا اور ہزاروں مولانا ابوالکلام آزاد اور اے پی جے عبدالکلام پیدا ہونگے۔انہوں نے کہاکہ جو بچے اپنے بچپن میں مقصد کا تعین کرلیتے ہیں وہ مستقبل میں تاریخ رقم کرتے ہیں انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بچوں کا 15 سال کی عمر تک کو ئی مقصد اور کوئی حذف نہیں ہے۔ انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔

والدین کو حلال طریقہ سے پیسہ کمانے کا مشورہ دیتے ہوئے منور زماں کہا کہ آج نوجوان جو تباہ ہورہے ہیں اس کی وجہ صرف موبائل فون ہی نہیں ہیں والدین کی کمائی پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ وہ حلال ہے یا حرام ہے؟انہوں نے کہاکہ آج نوجوانوں کی جو حالت ہے اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ اللہ سے دور ہونا ہے۔والدین کا اہم فرض اپنے بچوں کی بہتر تربیت کرناہے۔بچوں کی اصل تعلیم و تربیت گھروں میں ہوتی ہے جس طرح والدین زندگی گزارتے ہیں اس کا اثر بچوں پر ہوتا ہے بچے سب کچھ والدین سے سیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج چاند پر جانا بیحد آسان ہے اور ہندوستان نے یہ کامیابی حال ہی میں حاصل کی ہے۔لیکن آج کے دؤر میں اپنے ایمان کی حفاظت اور بچوں کی تربیت جیسے دو اہم کام بہت مشکل اور تقریباً ناممکن ہیں۔ماضی کےوالدین اور ایک ساتھ کئی بچوں کی بہترین تربیت کا حوالہ دیتے ہوئے موٹیویشنل اسپیکر منور زماں نے اپنے خطاب میں کہا کہ والدین کو آج ایک بچہ کی تربیت کر پانا مشکل ہوگیا ہے۔کیونکہ وہ اللہ کے نزدیک نہیں ہیں،پیسہ کمانے اور دنیاوی چیزوں کی خریدو فروخت میں گم ہوچکے ہیں اور تربیت کے معاملہ میں والدین صفر ہیں اور اس پر بچوں سے بہت سی توقعات بھی وابستہ رکھتے ہیں۔
جناب منور زماں نے کہاکہ بچوں کی پریشانیوں کے باعث والدین اپنی عمروں سے قبل ہی مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دس میں سے ایک گھر ایسا ہوگا جہاں ماں اپنے بچوں سے راضی ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ ماں باپ اگر ناراض تو میں بھی ناراض۔جب نوجوانوں سے اللہ ناراض ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو بدل نہیں سکتی۔
انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس کی پہلی سیڑھی ماں باپ ہیں۔والدین کو راضی کرنےسے اللہ راضی ہوگا اور ناقابل یقین راستوں سے کئی مواقع فراہم کرے گا جس کا نوجوان گمان تک نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ صرف روزہ اور نماز کے ذریعہ نوجوان اپنے والدین کو راضی نہیں کرسکتے۔ان فرائض کی پوچھ الگ ہوگی۔انہوں نے کہاکہ والدین دنیا میں بھی کامیاب ہونے کی اور جنت کی سیڑھیاں ہیں۔
جناب منور زماں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ اللہ کی بہترین مخلوق ہو۔خدا کی عظمت، برکت، شان اور طاقت کو پہچاننا ضروری ہے اور ساتھ ہی خود کو پہچاننا بھی لازمی ہے۔انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ آپ دس ہزار روپئے کی ملازمت کے لیے پیدا نہیں ہوئے ہو آپ بیش قیمتی ہیرا ہو جس کی کوئی قیمت ہی نہیں لگاسکتا۔اللہ نے آپ کو دو ہاتھ، دو پیر اور دو آنکھیں دی ہیں تو آپ کو کوئی حق نہیں ہے کہ خود کو غریب کہیں۔انہوں نے کہاکہ ویراٹ کوہلی اور رونالینڈو جیسے ہاتھ، پیر اور آنکھیں اللہ نے آپ کو بھی تو دی ہیں لیکن آپ نے اس کا درست استعمال نہیں کیا۔ کاش اگر کیے ہوتے تو آج چمپئین ہوتے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہزاروں سال سے جانور ایک ہی طرز کی زندگی گزار رہے ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔تبدیلی صرف انسانوں کی زندگیوں میں تیزی کے ساتھ آئی ہے۔انسان نے سیکل سے کار تک کا سفر کیا۔انہوں نے کہا کہ پہلے کوئی طالب علم نہیں بگڑتا تھا لیکن افسوس کہ آج ساتویں جماعت کے طلباء سگریٹ نوشی کرنے لگے ہیں،عشق عاشقی کے چکروں میں مبتلاء ہوگئے ہیں، ڈرگس کی لعنت کا شکار ہوگئے ہیں،موبائل فونس میں گندی فلمیں دیکھتے ہیں۔انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ روز اپنے بچوں کےموبائل فون چیک کریں کہ بچہ موبائل کا استعمال کیسے کر رہا ہے؟
موٹیویشنل اسپیکر جناب منور زماں نے کہا کہ پہلے 22 سال کی عمر میں بچے بگڑتے تھے لیکن آج 9 سال کی عمر کے بچے بگڑ رہے ہیں۔پہلے کے لوگ تعلیم کے خلاف نہیں بلکہ اسی بے راہ روی کے خوف کا شکار تھے جو آج کی نسل کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ قوم کو لیڈرز کی شدید ضرورت ہے اس لیے اپنے بچوں کی درست تربیت کے ساتھ ان کی نگرانی کریں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے لیے صرف لڑکیوں کو ہی ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا، لڑکے بھی اس بے راہ روی کے ذمہ دار ہیں، اس لیے دونوں پر کڑی نظر رکھنے کی شدید ضرورت ہے۔
اس اجلاس عام میں مولانا مصدق القاسمی صدر جمعیۃ علماء گریٹر حیدرآباد،مفتی غلام یزدانی صدر جمعیۃ علماء بیدر،ڈاکٹر حافظ عبدالسلام نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد، مولانا مسیح الدین صدر جمعیۃ علماء میدک، مولانا اسلم سلطان صدر جمعیۃ علماء سنگاریڈی،مولانا عبدالرزاق صدر جمعیۃ علماء گلبرگہ، حافظ رئیس الدین سیکریٹری جمعیۃ علماء ضلع وقار آباد، مولانا عبدالباسط رشادی صدر جمعیۃ علماء کوڑنگل،مفتی عبدالصبور ظہیر آباد،

مولانا علیم الدین تعلیمی صدر جمعیۃ علماء تعلقہ وقارآباد، حافظ نثار پرگی،مفتی زین الدین زعیم قاسمی،مولانا عبدالرحیم حیدرآباد،مفتی عبدالمقتدر مسعود حیدرآباد،مولانا آصف الدین رشید ی،سید کمال اطہر صدر مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن تانڈور، محمد طاہر قریشی چیف پروموٹر الماس انٹرنیشنل اسکول تانڈور،سید اصغر حسین موظف لکچرار ڈائٹ وقارآباد،محمد یٰسین خان(انور خان)،عبدالمجیب خان مالک جی ایم کے بلڈرس اینڈ ڈیولپرز،شیخ مصطفی بانی مجتبیٰ ہیلپنگ فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ دیگر نے شریک تھے۔

مولانا محمد عبدالرحمن اطہر قاسمی، جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء ضلع وقار آباد نے اجلاس عام کی نظامت کے فرائض انجام دئیے۔گذشتہ ماہ جمعیتہ علماء وقارآبادضلع کے زیر اہتمام منعقدہ تعلیم اسلام مسابقہ کے امتیازی طلباء میں انعامات کی تقسیم بھی عمل میں لائی گئی۔نصف شب کو اس اجلاس عام کا اختتام عمل میں آیا۔موٹیویشنل اسپیکر جناب منور زماں نے اپنےخطاب کے آخر میں تیقن دیاکہ وہ دوبارہ تانڈور کا دورہ کریں گے اور لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے الگ الگ اصلاحی اور رہنمائی پر مشتمل پروگرام منعقد کریں گے۔


MunwarZama#
motivationalSpeaker#
muftiafanmansoorpuri#
jamiatulama#
ijlaaseaam#
vikarabadDistricts#
tandur#
telangana#

