رضا کارفلم کا خوفناک ٹیزر یوٹیوب پر جاری، سوشل میڈیا پر وائرل، کے ٹی آر کا بی جے پی پر سخت ریمارک، فطری طور پر دیوالیہ جوکر قرار دیا

رضا کار فلم کا خوفناک ٹیزر یوٹیوب پر جاری، سوشل میڈیا پر وائرل
کے ٹی آر کا بی جے پی قائدین پر سخت ریمارک، فطری طور پر دیوالیہ جوکر قرار دیا
سینسر بورڈ اور تلنگانہ پولیس سے معاملہ رجوع کرنے کا اعلان

حیدرآباد : 18۔ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

گذشتہ چند سال سے فلم انڈسٹریز پر ایک خبط سوار ہوا ہے،تاریخ کو مسخ کر کے ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے خلاف فلموں کے ذریعہ زہریلا پروپگنڈہ کیا جارہا ہے۔کشمیر فائلز ، کیرالہ اسٹوری اور 72 حوریں اس کی حالیہ مثال ہیں۔

قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو ماضی کے برےواقعات کو نظرانداز کرکے آگے بڑھتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ زخموں کو کریدنے سے وہ ناسور بن جاتے ہیں۔لیکن تاریخ کے نام پر اکثریتی طبقہ کو اکسانے اور انہیں اقلیتوں کے خلاف ورغلانے کےلیے فلموں کا سہارا لیا جارہا ہے۔حقیقی کہانی کے نام پر پیش کی جانے والی یہ فلمیں زیادہ تر واقعات کو توڑ مروڑ کر یا واقعات کا ایک ہی منفی پہلو کو بتا کر ملک اور ریاستوں کی گنگاجمنی تہذیب اور آپسی بھائی چارہ و قومی یکجتہی کے ساتھ ساتھ امن و امان کو بھی نقصان پہنچانے کا کام کرتی ہیں۔

کشمیر فائلز اس کی زندہ مثال ہےکہ کس طرح اس فلم کی نمائش کے دؤران سینما تھیٹروں میں مسلمانوں کےخلاف کھل کر نعرے بازی کی گئی اور ان کی نسل کشی کی دھمکیاں تک دی گئیں۔اس فلم کےمتعلق زیادہ تر کی یہی سوچ تھی کہ یہ ایک پروپگنڈہ فلم ہے جس میں واقعات کو توڑ مروڑ کر دکھایا گیا ہے۔خود کشمیری پنڈتوں نے بھی اس فلم کی مخالفت کی تھی۔ جبکہ فلم کیرالہ اسٹوری کے ڈائرکٹر نے سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد 32 ہزار لڑکیوں کی حقیقی کہانی کو فوری طور پر تین لڑکیوں کی کہانی میں تبدیل کیا تھا۔

ریاست حیدرآباد، نظام دؤر حکومت اور آپریشن پولو(پولیس ایکشن ) تاریخ کا ایک سیاہ باب مانا جاتا ہے۔تاہم اس میں بھی فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کو ہی ویلن کے طور پر پیش کرتی آ رہی ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

کل 17 ستمبر کو تلنگانہ میں برسر اقتدار بی آر ایس پارٹی کے علاوہ،کانگریس اور مجلس اتحادالمسلمین کی جانب سے یوم قومی یکجہتی کے طور پر منایا گیا۔وہیں ہر سال کی طرح بی جے پی کی جانب سے منعقدہ یوم آزاد ی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے شرکت کی۔

صدرکل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے قوم یکجہتی ریالی کی اس تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخ کو کبھی بھی نہیں بھلایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی بھلایا جانا چاہئے۔کیونکہ ماضی میں کیا ہوا تھا اور اس کو مستقبل میں نہ دہرائیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست حیدرآباد کا انضمام بناء کسی خون خراب کے ہوسکتا تھا لیکن اس وقت کے حکمرانوں کی غلطی کی وجہ سے پولیس ایکشن کیا گیا۔

https://www.facebook.com/Asaduddinowaisi/videos/617477890467372

بیرسٹر اویسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قاضی عبدالغفار اور پنڈت سندر لال کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ریاست حیدرآباد میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔پنڈت جواہر لال نہرو نے انہیں حیدرآباد روانہ کیاتھا۔پنڈت سندر لال جو کہ گاندھیائی تھے نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ رضاکاروں نے اگر ہندووں پرظلم کیاتو ایک رضا کار کے بدلے میں 100-100 مسلمانوں کا قتل کیاگیا۔انہوں نےباؤلیوں میں خواتین کی ایسی بھی نعشیں دیکھیں جن سے بچے چمٹے ہوئے تھے۔

https://www.facebook.com/Asaduddinowaisi/videos/3533813373564664

بیرسٹر اسد اویسی نے کہاکہ امیت شاہ کہتےہیں کہ بناء خون کا ایک خطرہ بہائے حیدرآباد آزاد کیا گیا جوکہ جھوٹ ہے۔جواہر لال نہرو اور امیت شاہ کے جھوٹ کو پنڈت سندرلال کی رپورٹ افشا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی ہندووں اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کی مدد کی تھی۔انہوں نے کہا کہ پنڈت سندر لال نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ 20 ہزار سے زائد مسلمانوں کا قتل کیا گیا۔

اب رضا کار Razakar# کے نام سےبنائی گئی فلم کا ایک منٹ 42 سیکنڈ پرمشتمل ٹیزر (ٹریلر/ویڈیو)کل سری وینکٹیشورا موویزکے یوٹیوب چینل پر جاری کیا گیاہے۔ جس کے بعد اس فلم کا ٹیزر (ویڈیو)سوشل میڈیاکےمختلف پلیٹ فارمز پر تیزی کےساتھ وائرل ہے۔اس فلم کے ساتھ ” حیدرآباد کی خاموش نسل کشی” کی سرخی دی گئی ہے۔اس فلم کے رائٹر اور ڈائرکٹر یاٹا ستیہ نارائنا اور پروڈیوسر گوڈور نارائن ریڈی ہیں۔فلم رضا کار کو تلگو، ہندی، تمل، کنڑا اور ملیالم زبانوں میں ریلیز کیا جا رہا ہے۔ 

سینئر صحافی مبشر الدین خرم نے ایکس X (سابقہ ٹوئٹر ) پر رضا کارفلم کے ٹیزر کوٹوئٹ کرتےہوئے دفتر چیف منسٹر تلنگانہ، ریاستی وزیر کے ٹی آر، وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راو،وزیر داخلہ محمد محمود علی،ڈی جی پی تلنگانہ انجنی کمار اور کمشنر پولیس حیدرآباد سی وی آنند کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھاہے کہ”میری آپ سے درخواست ہےکہ برائےمہربانی فرضی پروپیگنڈہ فلم Razakar# کی ریلیز کو روک کرحیدرآباد اور تلنگانہ کے امن وسکون کی حفاظت کریں حتیٰ کہ اس فلم کا ٹیزر برادریوں کے درمیان نفرت پیدا کر رہا ہے۔

مبشرخرم کے اس ٹوئٹ کو ری۔ٹوئٹ کرتے ہوئے ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق و آئی ٹی کے۔تارک راما راؤ(کے ٹی آر) نے اپنے جوابی ٹوئٹ میں لکھا ہےکہ” بی جے پی کے چند فکری طور پر دیوالیہ جوکر اپنے سیاسی پروپگنڈہ کےلیے فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے کی کوشش میں مصروف ہیں، ہم اس معاملہ کو سنسر بورڈ اور تلنگانہ پولیس سے رجوع کریں گے۔تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ تلنگانہ کی امن و امان کی صورتحال متاثر نہ ہو۔”

سابق صدر تلنگانہ بی جے پی و رکن پارلیمان حلقہ کریم نگر بنڈی سنجے کمار نےبھی اس فلم کا ٹریلر ٹوئٹ کرتےہوئے لکھاہےکہ”فلم Razakar# کا رونگٹھے کرنے والا ٹریلر…موجودہ نسلوں کو حیدرآباد کی آزادی کی جدوجہد کےبارے میں جانناچاہئے۔آئیے تاریخ کے ساتھ جڑیں یہاں تک کہ وہاں کے نقلی دانشور اسے مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

یہ بھی پڑھیں "

اعلیٰ تعلیمیافتہ نوجوان معمولی ملازمتیں کر رہے ہیں، 70 فیصد بچے سوشل میڈیا کے شکنجہ میں: جمعیتہ علماء وقارآباد ضلع کا تانڈور میں اجلاس عام ، مفتی عفان اور موٹیویشنل اسپیکر منور زماں کا خطاب

 

حسرت جئے پوری، بس کنڈاکٹر سے گیت کار تک کا سفر ، تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤگے،جانے کہاں گئے وہ دن ،بہاروں پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے جیسے گیتوں کا خالق