انڈیا اتحاد کی جانب سے 9 چینلوں کے 14 نیوز اینکرز کے بائیکاٹ کا اعلان، فہرست جاری

انڈیا اتحاد کی جانب سے 9 چینلوں کے 14 نیوز اینکر کے بائیکاٹ کا اعلان، فہرست جاری
سدھیر چودھری، ارنب گوسوامی، نویکا کمار، روبیکا لیاقت، امن چوپڑہ اور دیگر شامل
ہم نفرت کے بازار کے گاہک نہیں بن سکتے : پون کھیرا کا بیان

حیدرآباد : 14۔ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

مخالف بی جے پی 28 اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل انڈیا I.N.D.I.A# اتحاد نے آج بالآخر ایک اہم فیصلہ کرتےہوئے نیشنل نیوز چینلوں کے 14 نیوز اینکرز کی فہرست جاری کردی ہے۔اور دوٹوک لفظوں میں کہاہےکہ اپنی ڈیبیٹ کے ذریعہ ملک میں نفرت پیدا کرنے والے ان اینکرز کے کسی بھی پروگرام یا ڈیبیٹ میں انڈیا اتحاد سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی ترجمان شرکت نہیں کرےگا۔اور ان اینکرز کے ٹی وی شوز کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا جائے۔ یاد رہےکہ کل انڈیا اتحاد کی کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا تھا اور اس میں غور و خوص کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔

آج چیئرمین میڈیا اینڈ پبلسٹی کل ہند کانگریس کمیٹی پون کھیرا PawanKhera# کے”ایکس X"(سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل سے ان 14 نیوز اینکرزکے ناموں کی فہرست جاری کردی گئی ہے۔جوکہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہے۔سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد انڈیا اتحاد کے اس فیصلہ کو دیر آیددرست آید قرار دیتےہوئے اس فیصلہ کی تائید کررہے ہیں۔وہیں اس فیصلہ کی مخالفت بھی کی جارہی ہے۔ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا جارہا ہے کہ جن 11 ریاستوں میں اپوزیشن اتحاد جماعتوں کی حکومتیں ہیں وہ ان نیوز چینلوں کو اشتہار بھی دینا بند کردیں۔!!

انڈیا اتحاد کےذریعہ ملک کے جن 9 نیوز چینلوں کے اینکرز کے بائیکاٹ کااعلان کیا گیا ہے ان میں نیوز-18 کے امن چوپڑا،امیش دیوگن اور آنند نرسمہن، آج تک کے سدھیر چودھری اور چترا ترپاٹھی،ری پبلک بھارت کے ارنب گوسوامی،انڈیا ٹوڈے کے گوروساونت اور شیو ارور، بھارت 24 کی روبیکا لیاقت،انڈیا ٹی وی کی پراچی پراشر،ٹائمز ناؤ نوبھارت کے نویکا کمار اورسشانت سنہا،بھارت ایکسپریس کی ادیتی تیاگی اور ڈی ڈی نیوز کے اشوک شریواستوا شامل ہیں۔

اس سلسلہ میں ایکس X پر ایک ڈھائی منٹ کے ویڈیو پیغام میں چیئرمین میڈیا اینڈ پبلسٹی کل ہند کانگریس کمیٹی پون کھیرا نے کہاہےکہ چند نیوز چینلوں پر روز شام کو 5 بجے نفرت کا ایک بازار سجایا جاتا ہے۔اور گذشتہ 9 سال سے یہ لگاتار چل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بازار میں الگ الگ پارٹیوں کے ترجمان شریک ہوتے ہیں۔اور ساتھ ہی چند تجزیہ نگار بھی شرکت کرتے ہیں۔لیکن ہم سب اس نفرت کے بازار کے ایک گاہک بن کر جاتے ہیں۔اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس نفرت کے بازار میں نہ جایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس نفرت انگیز پروگراموں میں شرکت نہ کرنے کا ہم نے سخت فیصلہ لیا ہے۔

پون کھیرا نے کہا کہ آپ ہمارے قائدین کے خلاف ہیڈ لائنس بناتے ہیں، ان کی میمز بناتے ہیں، ان کی تقاریر کو مذاق بناتے ہیں،جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں۔آپ کچھ بھی کریں ہم برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔آج تک لڑتے آئے ہیں اور آگے بھی لڑتے رہیں گے لیکن سماج میں آپ تشدد آمیز نفرت پیدا کریں گے تو ہم اس کے حصہ دار نہیں بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ مشکل سے ایسا سخت فیصلہ لیا گیا ہے ہم کسی بھی اینکر کے خلاف نہیں ہیں۔لیکن ہمیں ملک سے محبت زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بھارت سے محبت ہے۔اس لیے اس نفرت کی دکان کو بند کرنے کےلیے اپنی طرف سے جو ہوسکتا ہے وہ کرنا ہوگا۔یہی سوچ کر انڈیا اتحاد کی تمام جماعتوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان نفرت کے بازاروں میں گاہک بن کر نہیں جائیں گے۔پون کھیرا نے کہا کہ جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا جس میں نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوسکتی۔ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ آنے والے وقت میں حالات بدلیں گے۔ان اینکرز کو بھی اس بات کا احساس ہوگا کہ آنےوالی نسل ان سےسوال پوچھے گی تب ان کے پاس کیا جواب ہوگا؟ اور یہ اینکرز بھی غور کرتے ہوئے کوئی سدھار کریں گے۔

اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد کے اس فیصلہ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈانے آج کو اپوزیشن پر” میڈیا پر دھونس جمانے اور انفرادی صحافیوں کو دھمکیاں دینےکا الزام عائد کیا۔ X پر اپنی پوسٹ میں جے پی نڈا نے کانگریس پر بھی سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ اس قدیم پارٹی کے پاس مختلف خیالات رکھنے والوں کو خاموش کرنے کے کئی واقعات ہیں۔

بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے بھی اپنے ٹوئٹ میں انڈیا اتحاد انڈیا الائنس نے ان صحافیوں کی فہرست جاری کی ہےجنہوں نے جھکنے سے بھی انکار کر دیا تھا،جب اپوزیشن کو ان سے رینگنے کی توقع تھی تو انہیں اسے اعزاز کے بیج کے طور پر پہننا چاہیے ان کے لیے زیادہ طاقت۔

ان کے علاوہ بی جے پی قائدین اور ان اینکرز کے حمایتی انڈیا اپوزیشن اتحاد کے اس اقدام کو صحافت پر حملہ اور اظہار رائے کی آزادی کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔تو دوسری جانب اس پابندی کی تائید کرنے والے سوال اٹھارہے ہیں کہ یہ اینکرز اور نیوز چینل برسر اقتدار بی جے پی سے سوالات کرنے کے بجائے کیوں صرف اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہیں اور کیوں بی جے پی کے ترجمانوں کی جانب سے این ڈی ٹی وی پر رویش کمار کے پرائم ٹائم میں شرکت سے انکار کیا گیا تھا۔؟

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایک گوشہ کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا جارہا ہےکہ ان نیوز چینلوں کے ڈیبیٹ میں خودساختہ اور میڈیا کی جانب سے پیش کیےجانے والے ” مسلم دھرم گروؤں ” کی شرکت کو بھی روکا جائے۔تاکہ مذہبی بحث اور غلط فہمیوں کو روکا جائے جن کے متعلق مشہور ہے کہ انہیں زیادہ تر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔!! 

” یہ بھی پڑھیں ” 

تانڈور میں کل 14ستمبر کو جمعیتہ علماء وقارآباد ضلع کے زیر اہتمام اجلاس عام، مفتی سید عفان منصورپوری، موٹیویشنل اسپیکر منور زماں کی شرکت

" اجلاس کا آج 14 ستمبر کو بعد نماز مغرب آغاز ہوگیا ہے " اس یوٹیوب چینل پر لائیو دیکھا جاسکتا ہے "

حیدرآباد ایئر پورٹ پر دبئی سے آنے والے چار مسافروں کے قبضہ سے ایک کروڑ روپے مالیتی ایک کلو 843 گرام سونا ضبط