راہول گاندھی سے ہریانہ کی زرعی مزدور خواتین کی خواہش، دہلی مدعو، دہلی میں تفریح، سونیا گاندھی کا خواتین کے ساتھ رقص، ویڈیو وائرل

تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں
میں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا !!

راہول گاندھی سے ہریانہ کی زرعی مزدور خواتین کی خواہش، دہلی مدعو
خصوصی گاڑی میں تفریح کے بعد خواتین کے ساتھ گاندھی خاندان کا لنچ
پرینکا گاندھی بھی شریک،سونیا گاندھی کا خواتین کے ساتھ رقص،ویڈیو وائرل

نئی دہلی : 18۔جولائی
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ہماچل پردیش اور پھر کرناٹک میں کانگریس کی شاندار کامیابی نے کانگریس پارٹی کو بھرپور طاقت بخشی ہے، وہیں کانگریسی قائدین اور کارکنوں میں بھی جوش و جذبہ پیدا کر دیا ہے۔سیاسی ماہرین اور آزاد صحافیوں کا کہنا ہے کہ سابق صدر کل ہند کانگریس کمیٹی راہول گاندھی کی مقبولیت کا گراف کنیا کماری سے کشمیر تک منظم کی گئی ان کی 3,800 کلومیٹر طویل تاریخی پیدل یاترا بھارت جوڑو کے بعد سے لگاتار بڑھتا جارہا ہے۔ جبکہ راہول گاندھی کو پپو ثابت کرنے کے لیے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا تھا۔

خود راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی ہمیشہ الزام عائد کرتے رہتے ہیں کہ راہول گاندھی کی امیج خراب کرنے اور انہیں پپو ثابت کرنے کے لیے ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کیے گئے۔بھارت جوڑو یاترا کی بے مثال کامیابی کے دوران راہول گاندھی نے ایک نعرہ دیا تھا کہ” نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھول رہا ہوں۔” اس نعرے کے اس ملک کے بہت بڑے حصہ پر بہترین اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔

مودی سرنیم کےمعاملہ میں گجرات کی ایک عدالت کی جانب سے راہول گاندھی کو دو سال کی سزاء، پھر آناً فاناً راہول گاندھی کو پارلیمنٹ کے لیےنااہل قرار دے دینا اور انہیں سرکاری قیام گاہ سے نکال دینا،سیشن کورٹ اور گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے اس سزاء کی برقراری کے بعد عوام کا ایک بڑا طبقہ افسوس ظاہر کررہاہے۔وہیں قانونی ماہرین کا کہناہےکہ یہ ملک کا پہلا ایسا سخت عدالتی فیصلہ ہے جو کہ کسی عزت ہتک کے معاملہ میں صادر کیا گیا ہے۔

اب یہ معاملہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ پہنچا ہے۔اور کانگریس سمیت راہول گاندھی کےحامیوں کو یقین ہےکہ سپریم کورٹ سے راہول گاندھی کو ضرور انصاف ملے گا اور وہ دوبارہ رکن پارلیمان کے طور پربحال ہوں گے۔راہول گاندھی کی جانب سےداخل کی گئی درخواست کی سماعت کی تاریخ ابھی سپریم کورٹ نے طئے نہیں کی ہے۔اب سب کی نظریں سپریم کورٹ اور معزز چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرا چوڑ پر لگی ہوئی ہیں۔ 

سیاسی اور قانونی تجزیہ نگاروں کا کہناہےکہ سپریم کورٹ سے جو بھی فیصلہ آئے گا وہ اس ملک کے لیے ایک اہم فیصلہ ہوگا اور یہ فیصلہ جہاں راہول گاندھی کے سیاسی مستقبل کے ساتھ ساتھ اس ملک کی سیاست کا مستقبل بھی طئے کرے گا۔!

لوک سبھا سے ناہل قرار دئیے جانے کے بعد راہول گاندھی نے ایک نیا سلسلہ شروع کر دیاہے کہ وہ مختلف ریاستوں میں تمام شعبہ جات سے وابستہ عوام سے اچانک ملاقات کر تے ہوئے انہیں درپیش مسائل سے واقفیت بھی حاصل کر رہے ہیں۔

راہول گاندھی نے ایک عام انسان کی طرح گذشتہ ماہ اچانک چندی گڑھ تک ایک ٹرک میں سفر کرکے ساتھ ہی دھابوں پر ڈرائیورز سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں درپیش پریشانیوں سے واقفیت حاصل کی۔پھر موٹر سیکل میکانکس سے ملاقات کی،کوچنگ سنٹرز کے طلبہ سے بھی ملاقات کی اور یہ سلسلہ دراز ہوتاجارہا ہے۔ گذشتہ ماہ اپنے دورہ امریکہ کےموقع پر بھی راہول گاندھی نےوہاں ایک ٹرک میں سفر کیا تھا۔ان تمام ملاقاتوں کے ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہورہے ہیں۔اور انہیں لاکھوں کی تعداد میں پسند بھی کیا جانے لگا ہے۔

وہیں زائد از ڈھائی ماہ سے تشدد سے شدید متاثر شمالی ریاست منی پور کا بھی راہول گاندھی دورہ کرتے ہوئے ریلیف کیمپس میں پہنچ گئے اور متاثرہ مرد و خواتین اور بچوں سےملاقات کرتےہوئے انہیں حوصلہ دیا۔اور تمام حقائق سے واقفیت حاصل کی۔ تاہم ان کے اس دورہ کو میڈیا ہضم کر گیا اور حکومت نے بھی کوشش کی کہ منی پور کا ان کا دورہ ناکام ثابت ہو۔لیکن اس کے ویڈیوز نے بھی سوشل میڈیا پر تہلکہ مچادیا۔

اپوزیشن جماعتیں اور سوشل میڈیا صارفین سوال اٹھانے لگے ہیں کہ منی پور کے بدترین حالات اور زائد از 150 افراد کی ہلاکت، زائد از 250 چرچس کو نذرآتش اور ڈھائی ماہ سے انٹرنیٹ سرویس بند کردئیےجانےجیسے سنگین حالات کے باؤجود کیوں وزیر اعظم نریندر مودی منی پور پر ایک لفظ تک کہنے کے لیے تیار نہیں ہیں ؟ وہاں امن قائم کرنے کےلیے مزید سخت اقدامات کیوں نہیں کیے جارہے ہیں؟ اور وزیر اعظم نے آج تک منی پور میں امن کی بحالی کی اپیل کیوں نہیں کی۔؟ جبکہ اس دوران وہ امریکہ، مصر، فرانس اور ابوظہبی کے دورے بھی کرچکے ہیں۔!

سیاسی پنڈتوں کےمطابق عام لوگوں سے اس طرح ملاقات کرتے ہوئے ان کے من کی بات سننا راہول گاندھی کی مقبولیت میں اضافہ کر رہا ہے اور یہ ملک کی تاریخ کا ایک نیا باب ہے۔ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی کی بڑھتی مقبولیت بی جے پی کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔؟ یاد رہے کہ دو ماہ قبل کرناٹک اسمبلی کے انتخابات کے موقع پر بھی راہول گاندھی نے کرناٹک میں بسوں میں سوار ہو کر خواتین سے ملاقات کی تھی،زوماٹو،سوئیگی اور آمیزان کے ڈیلیوری پارٹنرز کے علاوہ کئی عام پیشہ ور لوگوں سے ملاقات کی تھی،اسکوٹی پر سفر بھی کیا تھا۔

اسی طرح راہول گاندھی نے 8 جولائی کو ریاست ہریانہ کےسونی پت کے گاؤں مدینا میں دھان کےکھیتوں کے دورے کے دوران خاتون زرعی مزدوروں اور کسانوں سےتفصیلی بات چیت کی۔ان کےساتھ فصل بھی بوئی،کھیت میں کسانوں کو بٹھا کر ٹریکٹر بھی چلایا۔ان زرعی مزدور خواتین کے ساتھ گھل مل گئے اوران کے ساتھ بیٹھ کر ان کا کھانا بھی کھایا۔

https://www.facebook.com/watch/?v=774710091099290

اس واقعہ کے ویڈیوز اور تصاویر بھی بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔اس دورہ کے دوران چندخاتون کسانوں نے دہلی میں راہول گاندھی کا گھر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔جس پر راہول گاندھی نے انہیں بتایاکہ دہلی میں ان کا اپنا کوئی گھرنہیں ہے۔انہوں نے لوک سبھا سے ان کی نااہلی اور اس کے بعد نئی دہلی میں اپنی سرکاری رہائش گاہ سے بے دخلی کاحوالہ دیتےہوئے کہاکہ حکومت نےان کامکان چھین لیا ہے۔

اسی وقت راہول گاندھی نے اپنی بہن پرینکا گاندھی واڈرا سے فون پر بات کی اور اسپیکر آن کر کے ان خواتین سے بات کروائی اور کہا کہ یہ خواتین دہلی میں ان کے گھر آ کر کھانا کھانا چاہتی ہیں۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ وہ خود کھانا لے کر ہریانہ پہنچتی ہیں۔جس پر ان خواتین نے کہا کہ نہیں وہ خود دہلی آنا چاہتی ہیں۔

جن ستہ کی ایک رپورٹ کےمطابق سابق صدر کانگریس شریمتی سونیا گاندھی نے ان خاتون کسانوں کو اتوار کے دن دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا اور ان کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست بھی کیا گیا تھا۔کانگریس کارکن روچیرا چترویدی نے اتوار کو سونیا گاندھی کے ساتھ ہریانہ کی ان خواتین کی ان کی رہائش گاہ پر ہوئی بات چیت اور دوپہر کے کھانے کا ایک خوبصورت اور دلنشین ویڈیو ٹوئٹ کیاہے۔ اطلاعات کے مطابق ان خواتین کو پرینکا گاندھی واڈرا کے گھر پر مدعو کیا گیا تھا،اور یہ خواتین اپنے ساتھ گاندھی خاندان کےلیےمختلف گھریلو پکوان بناکرلائی تھیں۔جنہیں شریمتی سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی اور راہول گاندھی نے بہت پسند کیا۔

43 سیکنڈ کے اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ خواتین اور ان کے دیگر افراد خاندان خوشی کےساتھ گیت گاتے ہوئے ایک گاڑی کے ذریعہ دہلی آ رہی ہیں۔دہلی کی سیر کےبعد شریمتی سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پہنچتی ہیں اوراس موقع پر سابق صدر کانگریس شریمتی سونیا گاندھی نے ہریانہ کی ان خاتون کسانوں کے ساتھ ان کے ہریانوی لوک گیت پر رقص بھی کیا۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔

ان خواتین کے ساتھ شریمتی سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور راہول گاندھی نے بھی دوپہر کا کھانا کھایا۔اس ویڈیو کے ساتھ چترویدی نے لکھا کہ،ہریانہ کی خاتون کسانوں نے راہول گاندھی سے دہلی اور ان کا گھر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ان کا گھر چھین لیا ہے۔

بہر حال موجودہ سیاسی حالات اور راہول گاندھی کی جانب سے عام لوگوں سے ملاقات کے پس منظر میں وسیم بریلوی کی غزل کے دو اشعار یہاں صادق آتے ہیں ؎

تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں
میں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا
٭٭
مجھ کو چلنے دو اکیلا ہے ابھی میرا سفر
راستہ روکا گیا تو قافلہ ہو جاؤں گا

(راہول گاندھی کے ہریانہ کے کھیتوں کے دورہ اور کسانوں و مزدوروں سے ملاقات کا 11 منٹ کا ویڈیو راہول گاندھی کے مصدقہ یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا گیا ہے جسے کل سے آج تک ایک ملین سے زائد اور فیس بک پر 2.8 ملین سے زائد سوشل میڈیا صارفین نے دیکھا ہے۔)

راہول گاندھی کا مکمل 11 منٹ کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

 

منی پور میں راہول گاندھی "

 

دہلی میں میکانکس کے ساتھ راہول گاندھی

راہول گاندھی کا ٹرک میں سفر ، ویڈیو اور تفصیلات اس لنک پر "

راہل گاندھی کا نصف شب کے بعد اچانک چندی گڑھ تک ٹرک میں سفر، ڈرائیورز کے مسائل سے واقفیت