مدھیہ پردیش : چلتی گاڑی میں مسلم نوجوان کو پاؤں چاٹنے پر مجبورکیا گیا، شدید مارپیٹ اور چپل سے زد و کوب، دو گرفتار

اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف
ڈرتے ہیں اے زمین تِرے آدمی سے ہم

مدھیہ پردیش : چلتی گاڑی میں مسلم نوجوان کو پاؤں چاٹنے پر مجبور کیا گیا
شدید مار پیٹ اور چپل سے زدوکوب، دو گرفتار، اہانت آمیز ویڈیو وائرل

بھوپال : 08۔جولائی
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ریاست مدھیہ پردیش وقفہ وقفہ سے مسلم،دلت اور قبائلی طبقہ کے افراد پر مذہبی جنونیوں کےحملوں کی وجہ سرخیوں میں ہے۔چار دن قبل مدھیہ پردیش کے سدھی سے ایک شرمناک ویڈیو کی سوشل میڈیا پر سونامی آگئی تھی کہ کیسے ایک بی جے پی ایم ایل اے کا سابق رابطہ کار پرویش شکلا قبائلی طبقہ کے ایک بیٹھے ہوئے شخص پر پیشاب کر رہا ہے۔اس واقعہ کی ہر طرف سے شدید مذمت کی گئی تھی۔

جس کےبعد حکومت مدھیہ پردیش نے پرویش شکلا کو این ایس اے اور دیگر دفعات کےتحت گرفتار کرلیا تھا۔بلڈوزر کارروائی کے نام پر پرویش شکلا کے مکان کے چند حصوں کو منہدم کرتے ہوئے پیغام دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ سب کے ساتھ ایک جیسا انصاف!! بعد ازاں وزیر اعلیٰ مدھیہ پدیش شیوراج سنگھ چوہان نے اس متاثرہ شخص کو اپنی قیام گاہ پر طلب کرتے ہوئے اس کے پیر ددھوئے تھے، اس کی شال اور گلپوشی کرتے ہوئے باقاعدہ اس سے معافی مانگی تھی اور اس کے ساتھ ناشتہ بھی کیا تھا۔بعد ازاں اس شخص کو پانچ لاکھ روپئے اور مکان کی تعمیر کے لیے دیڑھ لاکھ روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعلیٰ کے اس اقدام پر بشمول کانگریس دیگر اپوزیشن اور سوشل میڈیا پر ایک ناٹک قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا تھا کہ آئندہ چار ماہ بعد مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات ہیں اور وہاں کی زائد 50 اسمبلی سیٹوں پر قبائلی ووٹ کامیابی کا پیمانہ طئے کرتےہیں تو بی جے پی نہیں چاہتی کہ اس واقعہ کےباعث اس کو نقصان ہو اسی لیے یہ سب ناٹک کیا گیاہے۔!حکومت مدھیہ پردیش اس واقعہ سےسنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ اب سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو وائرل ہوگیا ہے۔

اسی مدھیہ پردیش کا آج ایک منٹ 19 سیکنڈ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کےساتھ وائرل ہورہا ہے۔جوکہ گوالیار کا بتایا گیا ہے۔جس میں دیکھا جاسکتاہےکہ چلتی ہوئی گاڑی میں چار لوگ سوار ہیں،گاڑی میں اونچی آواز کے ساتھ گانا بجایا جارہاہے اور ایک نوجوان کو اہانت آمیز گالی گلوچ کے ساتھ گھونسے اور تھپڑ مارے جارہے ہیں۔

بعد ازاں اس نوجوان کے چہرہ پر چپل سے پے در پے مارا جا رہا ہے۔ساتھ ہی مسلم مخالف جملے والی گالیاں بھی جارہی ہیں۔ وہیں مارنے والا شخص اس محروس شخص سے اپنے پاؤں دابنے اور پھر اس کے پاؤں کے تلوے چاٹنے پر مجبور کر رہا ہے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق پولیس نے اس واقعہ میں ملوث دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایک بے یار و مدد گار نوجوان کی روتے،چیختے ہوئے اور دوسرے شخص کے پاؤں چاٹنے چپل سے مارے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ زیر گشت ہے۔رپورٹس کےمطابق متاثرہ نوجوان اور اس کو چلتی گاڑی میں زدوکوب کرنے اور پاؤں کے تلوے چاٹنے پرمجبور کرنے والے دونوں ملزم مدھیہ پردیش کے ضلع گوالیار کے ڈبرا ٹاؤن میں رہتے ہیں۔اور متاثرہ نوجوان کا نام محسن مارنےوالے کا نام گولوگجر بتایا جارہا ہے۔ساتھ میں اس کے ساتھی بھی اس چلتی گاڑی میں موجود ہیں جن میں سے ایک ویڈیو بنا رہا ہے۔ایک اور گاڑی چلارہا ہے۔

انتباہ : اس ویڈیو میں توہین آمیز گالی گلوچ کے ساتھ ہاتھوں اور چپل سے مار پیٹ کے مناظر موجود ہیں۔ ” 

وائرل شدہ اس ویڈیو میں نہ صرف متاثرہ شخص کو دوسرےشخص کے پاؤں چاٹتے پر مجبور کیے جاتےہوئے دیکھا گیا ہے بلکہ اسے تھپڑ مار کر "گولو گجر باپ ہے”کہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ویڈیو میں متاثرہ کو متعدد مرتبہ ہاتھوں اور چپل سے مارا پیٹا گیا اور زبانی طور پر گالیاں دی گئیں۔

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے اس واقعہ کے متعلق میڈیا سے بات کی اور اس واقعہ میں دو ملزمین کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

رپورٹس کےمطابق ڈبرا کےسب ڈویژنل آفیسر آف پولیس (SDOP) وویک کمار شرما نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ”سوشل میڈیا پر جمعہ کی شام ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص کو گاڑی میں مارا پیٹا جا رہا ہے۔اور اس ویڈیو کو جانچ کے لیے فارنسک لیب بھیجا جارہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ متاثرہ کےخاندان کی شکایت کےبعد ملزم کے خلاف تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت اغوا اور مار پیٹ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔تاہم یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ یہ واقعہ کیوں انجام دیا گیا۔؟ 

اب اس انتہائی اہانت آمیز  ویڈیوکے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش اس مسلم نوجوان کے ساتھ بھی وہی کریں گے جو انہوں نے پیشاب متاثرہ قبائلی شخص کے ساتھ کیا تھا۔اور کیا ان ملزموں کے خلاف بھی این ایس اے اور دیگر دفعات کے تحت وہی کارروائی کی جائے گی جو پرویش شکلا کے خلاف فوری طور پر کی گئی تھی۔؟

ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھائےجارہے ہیں کہ ان غیر سماجی عناصر کے حوصلہ کیوں اور کیسے اتمے بلند ہیں جو یہ حرکتیں کرتے ہوئے ویڈیو بھی بناتے ہیں اور اس کو سوشل میڈیا پر بلاء خوف و خطر پوسٹ بھی کرتے ہیں۔؟ کونسی طاقتیں انہیں حوصلہ دے رہی ہیں۔؟؟

اپ ڈیٹ شدہ یہ نیوز بھی پڑھیں ” 

مدھیہ پردیش میں نوجوان پر پیشاب کرنے والا بی جے پی لیڈر پرویش شکلا این ایس اے کے تحت گرفتار ، ویڈیو وائرل