گجرات میں بیوی کو برہنہ کرکے گاؤں میں گھمانے کا شرمناک واقعہ، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی کارروائی، چار گرفتار

بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں میں
مرض پرانا ہے اس کا نیا علاج بھی ہو

گجرات میں بیوی کو برہنہ کرکے گاؤں میں گھمانے کا شرمناک واقعہ
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی کارروائی، شوہرسمیت چار گرفتار

احمدآباد : 01/جون
(سحر نیوز / سوشل میڈیا ڈیسک)

آج کے دؤر میں انسانی رشتوں کی پامالی عام ہوتی جارہی ہے،رشتے اور رشتہ دار بوجھ لگنےلگے ہیں،مقدس رشتوں اور ان سے منسوب احساسات ان کے حقوق اور ان کا تقدس رؤندا جا رہا ہے۔زندگی بھر ساتھ نبھانےوالے رشتے بھی زہر آلود اور خود غرض ہوتے جارہے ہیں۔انسان نے بھلے ہی چاند پر کمند ڈالی ہے لیکن اس کے دل اور گھروں کے آنگن چھوٹے ہوتے جارہے ہیں۔!!

انسان اپنی اس خود غرضی اور مفاد پرستی سے رشتوں کوصلیب پر چڑھاتا جارہا ہے۔سماج کا افسوسناک پہلو یہ ہےکہ مرد ہو یا خواتین آج زیادہ تر ہر رشتہ کو پامال کرنے میں مصروف ہیں۔!!

اگر یہی ترقی ہے تو پھر ایسی ترقی سے پتھروں والا دؤر ہی بہتر کہاجاسکتا ہے۔رشتوں کی پامالی کے ساتھ ساتھ بدلہ لینے کا جنون بھی سماج میں ایک زہر کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ روزآنہ پیش آنے والی قتل کی وارداتیں اس کی مثال ہیں۔

وہیں اس سے بھی قطعی انکار نہیں کیا جاسکتاہےکہ آج بھی سماج میں ایسے گھرانے اور انسان موجود ہیں جہاں رشتوں کا تقدس قائم ہے،ایک دوسرے کا احترام اور ایک دوسرے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے والا جذبہ بھی برقرار ہے۔

ایسے میں گجرات سے ایک انتہائی شرمناک ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت کر رہا ہے کہ کیسے ایک شوہر نے ساری انسانی حدوں کو پار کرتے ہوئے اپنی بیوی کو گاؤں والوں کے سامنے برہنہ کرتے ہوئے گاؤں میں گشت کر وایا۔یہ واقعہ 28 مئی کا بتایا جارہا ہے جو کہ تاخیر سے سوشل میڈیا پر منظر عام پر آیا ہے۔

اس واقعہ کی تفصیلات بھی حیرت انگیز اور دھوکہ دہی پرمشتمل ہیں۔میشنا ضلع کے چناسما گاؤں کی ساکن ایک خاتون کی شادی چند سال قبل ایک شخص سے ہوئی تھی۔اس جوڑے کو چار بچے بھی ہیں۔تاہم دیڑھ سال قبل خاتون اپنے شوہر اور چاروں بچوں کو چھوڑ کر مکان سے فرار ہوگئی اور ایک شخص کے ساتھ شادی کرتے ہوئے رہنے لگی۔جس پر پہلے شوہر نے اس خاتون کو سبق سکھانے کا تہیہ کرلیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اس خاتون کےدوسرے شوہر کے گاؤں رام پورہ میں موجود اس کی ماں نے رشتہ داروں کے پاس منعقدہ شادی کی تقریب میں اس جوڑے کو شرکت کی دعوت دی۔ اس شادی میں شرکت کی غرض سے خاتون اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ رام پورہ گاؤں پہنچی۔

وہیں اس خاتون کے دوسرے شوہر کی ماں نے اس خاتون کے پہلے شوہر کوبھی اس شادی میں مدعو کیا ۔اس طرح کسی تکونی کہانی پر مبنی فلم کے سین کی طرح یہ تینوں اس شادی کی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔پہلا شوہر منصوبہ کے ساتھ ایک گروپ کے ساتھ پہنچا تھا۔

سکھسر پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ شادی کی اس تقریب میں قبائلی برادری کی خاتون کے پہلے شوہر نے اس کا اغواکرلیا اور اس کو کار کے ذریعہ اپنے مرگالا گاؤں کو پہنچا۔پہلے شوہر نے انسانیت کی تمام حدود کو پار کرتے ہوئے گاؤں والوں کے سامنے ہی کپڑے کھینچ کر اپنی پہلی بیوی کو برہنہ کردیا۔اور ساتھ ہی اس خاتون کو اذیتیں دیتے ہوئے گاؤں والوں کے سامنے ہی اس خاتون کو برہنہ گشت کروایا۔

غیر انسانی اور حیوانیت پرمشتمل اس واقعہ کا مجمع میں موجود کسی شخص نے ویڈیو لےلیا اور یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔جس کے بعد پولیس نے ایک کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا۔بعدازاں پولیس نے ملزم شوہر اور اس غیر انسانی حرکت میں اس کا ساتھ دینے والے مزید تین افراد کو گرفتار کرلیا۔اس سلسلہ میں پولیس مزیدتحقیقات میں مصروف ہے۔

نامور شاعر ندا فاضلی نے کبھی کہا تھا کہ ؎

بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں میں
مرض پرانا ہے اس کا نیا علاج بھی ہو