امریکی ریاست کنساس کے زو میں چمپانزی کا بچہ تین ہفتہ کا ہوگیا، ماں ہنوز اپنے بچہ کو مرد چمپانزی سے دور ہی رکھ رہی ہے : دلچسپ ویڈیوز

امریکی ریاست کنساس کے زو میں چمپانزی کا بچہ تین ہفتہ کا ہوگیا
ماں ہنوز اپنے بچہ کو مرد چمپانزی سے دور ہی رکھ رہی ہے
فیس بک صارفین کی اپیل پر زو حکام ویڈیوز پوسٹ کرنے میں مصروف

حیدرآباد: 10۔ڈسمبر
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

ہم نے بارہا لکھا ہےکہ گودی میڈیاکے نفرتی اینکرز اور سوشل میڈیا کے زیادہ تر پلیٹ فارمز کو مذہبی منافرت پھیلانے،فرقوں کےدرمیان دراڑیں مزید وسیع کرنے اور ایک مخصوص طبقہ کونشانہ بنانے کا اڈہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز  دنیا بھر کے مختلف ممالک اور ملک کےمختلف شہروں کےہمخیال لوگوں کو ایک دوسرے سےقریب لانے،ایک دوسرے کی تہذیب سےواقف کروانے،کسی مسئلہ پر اپنا خیال کھل کر پیش کرنے اور اپنے دکھ سکھ بانٹنے کے ساتھ ساتھ تفریح کی غرض سے وجود میں لائے گئے تھے۔

لیکن افسوس کہ سوشل میڈیا جہاں مذہبی منافرت پھیلانے کا اڈہ بن گیاہے وہیں اس کے ذریعہ جھوٹ اور افواہوں کوبھی اس طریقہ سے پھیلایا جارہاہے کہ عام انسان اس کو سچ مان لے۔زیادہ تر سوشل میڈیا پر دسترس نہ رکھنےوالے اپنے پاس یا گروپس میں آنےوالے ہرویڈیو اورپوسٹ کو سچ مان کرکئی گروپس میں اور ساتھ ہی نجی طور پر دوستوں اور رشتہ داروں کوفوری فارورڈ کرنا باعث ثواب سمجھتے ہیں!!جس کو انتہائی غیر ذمہ دارنہ مظاہرہ کہا جاسکتا ہے۔

ان دنوں لازمی ہوگیا ہےکہ ہر سوشل میڈیا پوسٹ پر کئی زاویوں سے غور و خوص کرنے کے بعد ہی اس کو اس وقت آگے بڑھایا جائے تاکہ اس سے کسی کو فائدہ ہو،اس کی معلومات میں اضافہ ہو یا کوئی چند منٹوں کے لیے اس سے مزاح کا لطف لےسکیں۔سیاسی جماعتوں،سیاسی قائدین،عہدوں پر موجود بڑی اور دیگر شعبہ جات سے منسلک نامور افراد سےمتعلق کسی بھی ویڈیو یا پوسٹ کو گروپس میں فارورڈ کرنے سے قبل کئی بار سوچنا لازمی ہوگیا ہے ورنہ جیل کی سلاخیں ایسے لوگوں کی آمد کی منتظر ہوتی ہیں۔!!

دوسری جانب اسی سوشل میڈیاکے تمام پلیٹ فارمز پر بالخصوص انسٹاگرام اورفیس بک پر مختلف جانوروں کی عجیب و غریب حرکتوں پرمشتمل اور مزاح سے بھرپور دلنشین ویڈیوز کےساتھ سبق آمیز ویڈیوز بھی بہت زیادہ تعداد میں شیئر کیے جاتے ہیں اور انہیں دیکھنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہوتی ہے۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ سحر نیوز ڈاٹ کام کی جانب سے 19 نومبر کوفیس بک اور انسٹاگرام پر بہت زیادہ دیکھے جانے والے ایک انتہائی جذباتی ویڈیو کے متعلق تفصیلی رپورٹ اور ویڈیوز پیش کیے گئے تھے۔جسے ہزاروں قارئین نے پڑھا، دیکھا اور سراہا تھا۔

ایک چمپانزی ماں کا انتہائی جذباتی 50 سیکنڈ کا وہ ویڈیو امریکی ریاست کنساس (کانزاس)میں موجود SedgwickCountyZoo#کے مصدقہ ہینڈل سے 17 نومبر کو فیس بک اور انسٹاگرام پر پوسٹ کیا گیا تھا۔اس ویڈیو کو ان دو دنوں کے دوران لاکھوں صارفین نے دیکھا تھا۔جبکہ آج 10 ڈسمبر تک اس ویڈیوکو 16 ملین سوشل میڈیا صارفین فیس بک پر دیکھ چکے ہیں۔ (اس کی لنک نیچے پیش ہے)

پہلے ویڈیو کے بعد سے زو کے اس فیس بک پیج پر ہزاروں کمنٹس کرتےہوئے پوچھا جارہا تھا کہ اب یہ چمپانزی ماں جس کا نام مہالے اور بچہ کا نام کچیزا Kucheza# رکھا گیا ہے کیسے ہیں؟ ان میں مختلف ممالک کی خاتون فیس بک صارفین کی تعداد زیادہ ہے۔اس کےبعد سے کنساس زو کے عہدیدار باقاعدہ اس چمپانزی ماں اور بچہ کی مختلف ویڈیوز پوسٹ کرنے میں مصروف ہیں۔اور ان ویڈیوز کوبھی ہزاروں صارفین دیکھ رہے ہیں۔

زو حکام نے فیس بک پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” چمپانزی ماں مہالے کا بچہ کچیزا اب تین ہفتہ کا ہوگیا ہے”۔

https://www.facebook.com/SedgwickCountyZoo/videos/1722544448141660

چمپانزی ماں اور بچہ کے کئی ویڈیوز پوسٹ کرنے کے بعد کل زو حکام نے فیس بک کے اپنے پیج پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”چمپانزی ماں اس کےبچہ کو مرد چمپانزی جس کا نام موشی ہے کوصرف دیکھنے کی اجازت دے رہی ہے۔جبکہ یہ چمپانزی اس بچہ کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے۔لیکن ماں اس کو بچہ کے قریب نہیں آنے دے رہی۔مگر فکر نہ کریں موشی بہت سمجھدار ہے،اوروہ کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کر رہا ہے۔”

https://www.facebook.com/SedgwickCountyZoo/videos/1454767798347809

کنساس زو کے اس فیس بک پیج پر جولیا مرفی نامی خاتون نے کمنٹ کرکے پوچھا ہے کہ زو میں کتنے نر اور کتنی مادہ چمپانزی موجود ہیں؟ جس پر زو حکام نے اپنے جوابی کمنٹ میں لکھا ہے کہ ” زو میں جملہ چار مادہ اور پانچ نر چمپانزی موجود ہیں۔”

چمپانزی ماں کا دو دن بعد ہسپتال میں اپنے نوزائیدہ بچے کے ساتھ جذباتی ملاپ، سوشل میڈیا صارفین کی آنکھیں نم کردینے والا ویڈیو