کیرالہ میں سمندر کی لہریں ایک گھنٹہ تک ساکت رہیں! عوام خوف کا شکار، سمند رکے 50 میٹر پیچھے چلے جانے سے بھی عوام پریشان

کیرالہ میں سمندر کی لہریں ایک گھنٹہ تک ساکت رہیں!!
عوام خوف کا شکار،سمندر کے 50 میٹر  پیچھے چلے جانے سے بھی عوام پریشان
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل، دیکھنے والے بھی حیران

حیدرآباد: 05۔نومبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

سمندر اور اس کی لہریں ہر کسی کو بہت پسند ہوتی ہیں۔سمندر سے اٹھنے والی لہریں جب اپنے ساحل سے ٹکراکرواپس لوٹ جاتی ہیں تو یہ نظارہ انتہائی خوبصورت اور دلنشین ہوتا ہے۔سمندر،ساحل،موج،لہروں اور ریت پر اردو کے نامور شعرا نے بہت سے خوبصورت اشعار کہے ہیں۔اور فلمی نغموں میں بھی ان کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔

لہریں بناء کسی شور شرابہ ساحل سے ٹکراکرلؤٹ جاتی ہیں۔اور یہ سلسلہ دن رات نہ جانےکتنی بارچلتارہتا ہے۔وہیں بزرگ افراد زندگی کا موازنہ سمندر کی ان لہروں اور موجوں سےکرتےہوئے کہتے ہیں کہ”زندگی کے کسی بھی معاملہ میں ہمیں تھکنا یا ہرگز ہمت ہارنا نہیں چاہئے،اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہے،کتنی ہی مشکلات اور نقصانات کا سامنا ہو”۔

ایسے میں کیرالا کے نینم والاپو سمندر کی لہریں زائداز گھنٹہ تک ساکت رہیں،لہروں کا کوئی شور نہیں تھا اور نہ ہی یہ لہریں بار بار ساحل سے آکر ٹکرائیں۔ یہ منظر دیکھ کرسمندر کے کنارے موجود لوگوں اور مچھیروں کو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیاکہ ایسا کیوں ہوا؟ وہیں انہوں نے اس واقعہ کو کسی آنے والی تباہی کا پیش خیمہ سمجھ لیا ہے۔!!

چند دنوں قبل کیرالا کے اسی نینم والاپوکے ساحل پر ایک عجیب واقعہ پیش آیاتھا۔جہاں سمندر کا پانی ساحل سے 50 میٹر پیچھے چلا گیا تھا۔اب ایک ہی سمندر میں ان دونوں واقعات کودیکھتے ہوئے لوگ خوف میں مبتلا ہیں۔اور ان دونوں واقعات کو آنےوالےکسی بڑے خطرہ کی علامت کے طور پر محسوس کرتے ہوئے لرزہ ہیں۔مقامی عوام اور مچھیروں کا کہنا ہے کہ ایسا نظارہ انہوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

اس وقت سمندر میں لہروں کےساکت ہوجانے والے واقعہ سےمتعلق یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔وہیں چند لوگوں کی رائے ہے کہ اس ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے!؟۔

جبکہ اس ویڈیو میں دیکھاجاسکتاہے کہ ویڈیو میں سمندر کی چاروں جانب کا نظارہ دکھایا گیا ہے،کئی لوگ بھی اس ویڈیومیں نظر آرہے ہیں اور آخر میں ویڈیو لینے والے کا چہرہ بھی نظر آرہا ہے جو ملیالم زبان میں اس واقعہ کی تفصیلات سنارہا ہے۔دوسری جانب ایسے کسی بھی واقعہ کی نیشنل یا علاقائی میڈیا پر کوئی اطلاع نہیں ہے!!۔

تاہم 3 نومبر کو ٹوئٹر پرنجیب Nazeeb@نامی ٹوئٹر ہیندل سے بھی یہ ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے اس کےساتھ تلگو زبان میں لکھاگیا ہے کہ”کیرالہ میں سمندری لہریں تھم گئی ہیں۔اور وہاں کے لوگوں کو خوف ہے کہ کسی بھی وقت کوئی قدرتی آفت آ سکتی ہے۔”

سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کےتعلق سے جب سحرنیوز نے انٹرنیٹ پر چھان بین کی توکسی بھی نیشنل یامستند میڈیا ادارے کی ویب سائٹ پر یا ان کے ٹیوب چینلوں پر ایسی کوئی خبر موجود نہیں ہے۔ہاں تلگو نیوز چینل اے بی این ABN# پر اس تعلق سے ایک نیوز ویڈیوموجود ہے جو کل 4 نومبر کو پیش کیا گیاہے۔جسے اب تک 8 لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھا ہے۔اس کے علاوہ کئی یوٹیوب چینلوں پر یہ ویڈیو موجود ہے۔

دوسری جانب انٹرنیٹ پر یہ خبر ضرور موجود ہے کہ کیرالہ کے کوزی کوڈ میں نینموالپو ساحل کے قریب رہنےوالوں میں اس وقت خوف و ہراس پھیل گیاجب ہفتہ 29 اکتوبر کی شام سمندری پانی 50 میٹر کے قریب کم ہو گیا۔یہ واقعہ چند گھنٹے جاری رہا۔ تاہم کوزی کوڈضلع انتظامیہ نےسونامی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیرالہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے کوئی انتباہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ کلکٹر نرسمہوگاری ٹی ایل ریڈی نے پی ٹی آئی سےبات کرتے ہوئے اس سے کسی قدرتی آفت کے خطرے کو مسترد کر دیاتھا۔انہوں نے بتایا تھا کہ ضلعی حکام نے مقامی لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ سمندر میں جانے سے گریز کریں۔تاہم بہت سے لوگ وہاں جمع تھے،پولیس اور فائر اہلکاروں کو بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

ساتھ ہی ضلع کلکٹر نے کہاکہ سمندری پانی شام کےوقت تقریباً 30 میٹر کم ہو گیاتھا۔بعد میں یہ آہستہ آہستہ کم ہو کر تقریباً 50-70 میٹر تک آ گیا۔انہوں نے مزید کہاکہ اندھیرا ہونے کی وجہ سے اس وقت درست فاصلے کی پیمائش کرناممکن نہیں تھا۔ان کے مطابق،مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کوئی نیا نہیں ہے،اور سال میں تقریباً ایک بار مختلف ساحلوں پر ہوتا ہے اور ایسے واقعات کےرونما ہونے کاوقت اورفاصلہ مختلف ہوتا ہے۔