عجب پریم کی غضب کہانی!
تمل ناڈو میں ایک خاندان کی انسانیت سوز حرکت
شادی کے بعد پہلا شوہر مرجائے گا، پنڈت کی پیشن گوئی کے بعد
عاشق سے شادی اور زہر دے کر قتل،کروڑ پتی سے شادی مقصد تھا
چنئی/کیرالہ : 01۔نومبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/میڈیا ڈیسک)
مال اور دؤلت کی حرص و ہوس میں لالچی انسان کسی بھی حدتک جانے کےلیے تیار ہوجاتاہے۔قسمیں،وعدے،پیار اور وفا گزرے زمانے کی کتابوں میں محفوظ باتیں بن کر رہ گئے ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان مال و دؤلت حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرگزرنے کے لیے تیار ہے۔چاہے ان کےاپنے مفاد کو پورا کرنے میں کسی انسان کی جان چلی جائے یا پھرکسی کی خوشیاں زندگی بھر کے لیے چھن جائیں۔!!
ریاست تمل ناڈو میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے۔جس پر سب کوحیرت ہےکہ کیا کوئی لڑکی محض دؤلت کےلیے اپنے عاشق کاقتل کرسکتی ہے؟اور اس کام میں کیا کسی لڑکی کے والدین ملوث ہوسکتے ہیں؟یہ ساراواقعہ انتہائی افسوسناک اورمال و دؤلت کےلالچی لوگوں کی ایک مثال بن کرسامنے آیا ہے۔جو کیرالا اور تمل ناڈو سے ہٹ کر پورے ملک میں موضوع بحث بناہواہے۔جس میں آج کی سائنسی ترقی کے دؤران بھی اندھا اعتقاد اور بدعقیدگی بھی شامل ہے۔
اس واقعہ کی تفصیلات کےمطابق کیرالا کے دارالحکومت ترو اننت پورم کے مضافاتی علاقہ کا ساکن شرون راج (23سالہ) اور تمل ناڈو کے راما ورم چیر،کنیا کماری ضلع کی ساکن گرشما ( 22 سالہ) دوسال قبل ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوئے۔عہدو پیماں باندھے گئےاور ان دونوں نے شادی کرلینے کا ارادہ کرلیا۔لیکن چند ماہ قبل ان دونوں میں جھگڑے کےبعد ان دونوں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ ایک دوسرے سے کبھی نہیں ملیں گے۔اسی دؤران گرشما کےلیے ایک مالدار خاندان کے لڑکے سے شادی کا رشتہ طئے ہوا۔ماہ ستمبر میں شادی طئے کی گئی تاہم بعدمیں طئے کیا گیا کہ آئندہ سال فروری میں شادی کی جائے گی۔
ہندو رسم ورواج کےمطابق گرشما کےوالدین نےشادی کےلیے گرشما اور آئے ہوئے رشتہ والے نوجوان کی کُنڈلیوں کواپنے جیوتش سے رجوع کیا تو جیوتش نے یہ کہہ کر ان کے ہوش اڑادئیے کہ گرشما سےجو بھی شادی کرے گا اس کا پہلا شوہر شادی کے فوری بعد کسی حادثہ میں ہلاک ہوجائے گا یا کسی نہ کسی طرح اس کے پہلے شوہر کی موت طئے ہے۔
جس کے بعد گرشماکے والدین اورخود گرشماکے شیطانی دماغ میں ایک آئیڈیا آیا۔ان تمام نےسوچاکہ اگر پرانا عاشق شرون پہلا شوہر بن کر مرگیاتو کوئی پرواہ نہیں دوسرا شوہر تو اہم اور مالدار ہے۔
اس منصوبہ کےساتھ گرشما نے اپنے پرانے عاشق شراون سے دوبارہ رابطہ قائم کیا۔جس کے بعد آناً فاناً خفیہ طریقہ سے گرشما کے والدین نے اس کی شادی عاشق شراون راج سے کروادی۔تاہم پنڈت کی پیشن گوئی کےمطابق گرشما کا پہلا شوہر شراون مرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔تاکہ گرشما کی شادی اس مالدار نوجوان کے ساتھ کروادی جائے۔
جس کے بعد گرشما اور اس کے والدین نے شرون راج کوکسی بھی طرح راستے سے ہٹانے کا ایک اور شیطانی منصوبہ بناتے ہوئے شرون کو روز تھوڑی مقدار میں کھانے یا پینے کی اشیاء میں ایسیڈ کی خوراک دینی شروع کردی کہ ایک ساتھ زہر دینے سے ہونے والی موت پر یہ پکڑے جائیں گے۔بالآخر اس ایسیڈ نے اپنا کام کرنا شروع کردیا اور پیٹ درد کی شکایت کےبعد ہسپتال میں شریک شرون راج کی موت واقع ہوگئی۔
دراصل شرون راج 14 اکتوبر کو تمل ناڈو کےراما ورمن چیر میں موجود گرشما کےمکان پہنچا تھا۔منصوبہ کے تحت گرشما اور شرون کے درمیان جوس(مشروب ) پینے کی شرط لگائی گئی۔اس دؤران گرشما نے شرون راج کودئیے جارہے شربت میں کاپرسلفیٹ ملادیا۔جسے پینے کے بعد شرون کی حالت بگڑگئی۔جسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں دؤران علاج اس کی موت واقع ہوگئی۔

بعدازاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ شرون کی موت زہر پینے سے ہوئی ہے۔اس واقعہ کی اطلاع کے بعد کیرالا کے ترواننت پورم کے پراشالہ میں موجود شرون کے افراد خاندان میں تہلکہ مچ گیا۔بعدازاں شرون کے والدین نے گرشما اور اس کے والدین پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کروائی۔
گرشما اور اس کے والدین کوتحویل میں لیتے ہوئے جب پولیس نے تفتیش کی تو یہ سارا شیطانی کھیل سامنے آیا۔جسے سن کر خود پولیس عہدیدار بھی حیرت میں پڑگئے کہ کیا پیسوں کے لیے کوئی معاشقہ اپنے عاشق کے ساتھ اور کوئی والدین اپنی بیٹی کی دولتمند گھرانے میں شادی کروانے کے لیے اس طرح ایک گھر کا چراغ بجھاسکتے ہیں۔؟اس واقعہ کےعام ہوتے ہی لوگوں نےگرشما کےمکان پر حملہ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی۔
اسی دؤران پولیس تحویل میں موجود گرشما نے بھی کل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پویس کے چیمبر میں رکھا ہوا ایسیڈ پی کر پولیس اسٹیشن میں خودکشی کی کوشش کی۔جسے پولیس نے فوری ہسپتال منتقل کیا اب اس کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔وہیں ایک اور اطلاع میں بتایا جارہا ہے کہ شرون کے پاس گرشما کے چند قابل اعتراض ویڈیوز اور تصاویر موجود تھے۔شادی سے قبل انہیں حاصل کرنے کےلیے گرشمانے زہر دے کر شرون کاقتل کردیا۔تمل ناڈو اور کیرالا پولیس اس معاملہ کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات میں مصروف ہے۔


