ایس ڈی پی آئی کے وفدنے ریاستی نائب صدر ایڈوکیٹ ودیاراج مالویہ کی قیادت میں
مدھیہ پردیش میں گائے ذبیحہ کے نام پر قتل کیے گئے دو قبائلیوں کے گاؤں کا دورہ کیا
بھوپال: 12۔مئی(پریس ریلیز)
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا(SDPI)مدھیہ پردیش کے ریاستی نائب صدر ایڈوکیٹ ودیاراج مالویہ کی قیادت میں پارٹی کے ایک وفدنے سیونی ضلع میں قبائلی اکثریتی گاؤں کورائی کے علاقے میں گائے ذبیحہ کےنام پر دو قبائلیوں کےقتل کےواقعہ کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے اور متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت کی غرض سے سماریہ گاؤں کا دؤرہ کیا۔اس وفد میں ریاستی صدرعرفان الحق انصاری،جبل پور ضلعی صدر فرقان انصاری اور ضلعی نائب صدر ڈاکٹر لکھن کول شامل تھے۔
دو قبائلیوں کے قتل کا یہ واقعہ یکم اور 2مئی کی درمیانی رات کو پیش آیا تھا۔ وفدنے دونوں متوفیوں کے لواحقین، گاؤں کے لوگوں اور سر پنچ سے ملاقات کی، واقعہ کے بارے میں تفصیلات کیں اور انہیں ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔
اس وفد کو بتایا گیا کہ یکم اور 2 مئی کی درمیانی شب 2 بجے دوسرے گاؤں سے آکر سادہ لوح قبائلی سماج کوخوفزدہ کرنے کے لیے سوئے ہوئے لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال کر گائے ذبح کرنے کا الزام لگا کر لاٹھیوں سے بے دردی سے مارا گیا۔حملہ آور دو کلو میٹر دور واقع ساگر گاؤں سے سمپت نامی نوجوان کو اپنے ساتھ لائے تھے۔
انہوں نے سماریہ گاؤں کے دو نوجوانوں دھنسا ایواناتی اور برجیش بھٹی کو ان کے گھروں سے اٹھایا اور لاٹھیوں سے مارتے ہوئے 100 میٹر تک لے گئے۔جس کی وجہ سے دو افراد دھنساایواناتی اور سمپت بھٹی کی افسوسناک موت واقع ہوگئی اور برجیش بٹھی نامی شخص شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہے۔حملہ آور مارپیٹ کرتے ہوئے جئے شری رام کے نعرے لگاتے رہے۔
قانون اور سزا سے بے خوف گروہ نے اس قابل مذمت اور انسانیت سوز واقعہ کی ویڈیو بھی بنائی اور پھر اسے سوشیل میڈیا پر وائرل کردیا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ پولیس کے آنے کے بعد یہ مزید پر تشدد ہوگئے۔ایف آئی آر میں 6 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے،کیس میں اب تک 13 افراد کی گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔اسٹیشن انچارج کے مطابق ملزمان میں بجرنگ دل اور شری رام سینا کے ارکان شامل ہیں۔ملزمان کی شناخت سامنے آنے کے بعد وزیر داخلہ ان کے دفاع میں سامنے آئے اور اعلی حکام نے اسے تحقیقات کا معاملہ قرار دینا شروع کردیا ہے۔
گاؤں کے لوگوں کو اس کیس میں انصاف ملنے کا یقین نہیں ہے۔اسی بادلیار چوکی کے انچارج قبائلی کمل تمرام کو برطرف کردیا گیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں قبائلی اور دیگرسیاسی پارٹیوں اور تنظیموں کو ساتھ مل کر لڑائی لڑنے کی ضرورت ہے۔

