ملک اور ریاست میں ایک ہفتہ قبل ہی مانسون کی آمد
محکمہ موسمیات حیدرآباد کی پیش قیاسی
حیدرآباد: 13۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام)
گرما کی شدت سے پریشان عوام اور خشک ہوتی ہوئی فصلوں سے فکرمند کسانوں کومحکمہ موسمیات نےخوشخبری دی ہے کہ جاریہ سال ملک اور ریاست تلنگانہ میں ایک ہفتہ قبل ہی مانسون داخل ہوسکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ماہرین نے پیش قیاسی کی ہے کہ جاریہ سال اپنے سالانہ معمول سے ایک ہفتہ ہی قبل مانسون کے کیرالا میں داخل کا امکان ہے۔
عام طور پر ہر سال یکم جون کو مانسون ریاست کیرالا میں داخل ہوا کرتا ہے اس کے بعد سارے ملک میں مانسون پھیل جاتا ہے۔تاہم اس سال 15 مئی تک مانسون مشرقی انڈومان سے ہوتے ہوئے خلیج بنگال میں داخل ہونے کے امکانات ہیں۔جس کے بعد جزائر انڈومان و نکوبار میں بارش کا آغاز ہوگا۔اس طرح مانسون کےریاست کیرالا میں ایک ہفتہ قبل ہی داخل ہونے اور بارش کے امکانات زیادہ ہیں۔

ساتھ ہی محکمہ موسمیات حیدرآباد کےماہرین نے یہ پیش قیاسی بھی کی ہے کہ 5 جون تا 8 جون کے درمیان ریاست تلنگانہ میں بھی مانسون کے سرگرم ہوجانے کا امکان ہے۔ماہرین موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جاریہ سال ملک اور ریاست تلنگانہ میں مانسون بہتر رہے گا اور اچھی بارش ہوگی۔یاد رہے کہ ہر سال ملک اور ریاست میں 12 جون سے مانسون کا آغاز ہوتا ہے۔
وہیں مانسون کے آغاز کے ساتھ ہی ریاست تلنگانہ کے ضلع عادل آباد میں زیادہ تر کپاس اورسویابین کی کاشت شروع کی جاتی ہے۔جبکہ نظام آباد ضلع میں کسان چاول،گنااور کپاس کی کاشت کو ترجیح دیتے ہیں۔
وہیں متحدہ ضلع ورنگل میں لال مرچ،کپاس اور چاول کی کاشت کی جاتی ہے۔یادرہے کہ متحدہ ضلع ورنگل ساری ریاست میں مرچ کی پیداوار کااپنا ایک ریکارڈ رکھتا ہے۔
جبکہ متحدہ اضلاع رنگاریڈی،محبوب نگر اور میدک میں پچاس فیصدسے زیادہ تور،کاٹن،دھان کی کاشت کی جاتی ہے۔
وہیں کھمم ضلع میں کپاس،مرچی،دھان،پام آئیل کی کاشت کی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق جاریہ سال ہونے والی غیر موسمی بارش کی وجہ سے ریاست میں زیرزمین آبی ذخائر کی حالت بہتر ہے اور یہی وجہ ہے کہ کسان سال میں دو فصلیں اگارہے ہیں۔

