آپسی بھائی چارہ ہندوستان کو عالمی طاقت بنانے کے لیے ضروری
سدبھاؤنا منچ کی انعامی تقریب سے ڈاکٹرمحمد اسلم فاروقی پرنسپل کا خطاب
ظہیرآباد:13۔مئی(پریس نوٹ/سحرنیوزڈاٹ کام )
ہندوستان کثرت میں وحدت مثال کا عالمی سطح پر منفرد ملک ہے،جہاں مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے لوگ صدیوں سے ایک گلستان کی طرح مل جل کر رہتے آرہے ہیں۔ہندوستان عالمی طاقت کے طور پر ابھرے اس کے لیے ضروری ہے کہ یہاں آپسی اتحاد اور بھائی چارہ کو فروغ دیا جائے تاکہ دنیا بھر میں ہندوستان کی اچھی تصویر ابھرے اور گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد سدبھاؤنا کی ایک بہترین مثال ہے جہاں سبھی مذاہب اور فرقوں کے طلبہ مل جل کر تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمداسلم فاروقی،پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیرآبادنے سدبھاؤنامنچ ظہیر آباد کی جانب سے منعقدہ انعامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے سدبھاؤنا منچ ظہیرآباد کی جانب سے ڈگری کالج طلباء کے لیے منعقدہ تحریری مقابلوں میں کامیاب طلباء کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ انعام یافتہ مضامین کو کالج میگزین میں شائع کیا جائے گا۔جناب عبدالجبارسکریٹری سدبھاؤنامنچ ظہیرآباد نے اس تقریب کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ سدبھاؤنامنچ ظہیرآباد بلا لحاظ مذہب و ملت لوگوں کی خدمت کررہا ہے۔غرباء میں بلانکٹ تقسیم کرنا، موسم گرما میں ٹھنڈے پانی کا انتظام اور سدبھاؤنا پروگراموں کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپسی بھائی چارہ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت اور ہر ہندوستانی شہری کی ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹرمحمدغوث صدر شعبہ سیاسیات نے کہا کہ ہندوستان میں دانشورطبقہ چپ ہے جسے سامنے آکر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ملک میں پائیدار ترقی کے لیے امن اورآپسی بھائی چارہ ضروری ہے،غربت،عدم مساوات،جانبداری اور نفرت سماجی برائیاں ہیں جن سے بچنا چاہئے۔
ڈاکٹر رویندرریڈی وائس پرنسپل نے سدبھاؤنامنچ کے مقاصد کی ستائش کی اور کالج کے طلبہ سے کہا کہ وہ بھی سدبھاؤنا کی عملی مثال بنیں.
ڈاکٹر عائشہ بیگم صدر شعبہ اردو نے کہا کہ اتحاد سے قوم مضبوط ہوتی ہے ہندوستان کی کثرت میں وحدت کی خوبی کو برقرار رکھنے کے لیے ہم سب کو عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،اردو زبان دلوں کو جوڑنے والی زبان ہے جس کے ذریعہ عالمی بھائی چارے کے پیغام کو عام کیا جائے۔
صدر سدبھاؤنامنچ رام چندرصاحب نےطلبہ سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے مقاصد کے لیے ایک دوسرے میں تفریق پیدا کرتے ہیں۔ دنیا میں کئی مذاہب ہیں تاہم ایک خدا کا تصورہمیں ایک دوسرے کو جوڑے رکھتا ہے،عام انسان مل جل کر رہنا چاہتا ہے.اس کے لیے سماجی سطح پر سدبھاؤنامنچ آپسی بھائی چارے کے پیغام کو عام کررہا ہے۔

اس موقع پر تحریری مقابلے میں انعام اول حاصل کرنے والی طالبہ شہناز بیگم متعلم بی اے،سال آخر اردو میڈیم،کو ایک ہزار روپئے نقد رقم،یادگار مومنٹو اور کتاب دی گئی۔اسی طرح ایم انیتا بی ایس سی سال اول تلگو میڈیم کو انعام دوم پانچ سو روپے نقد مومنٹو اور کتاب سدبھاؤنا منچ کی جانب سے بطور انعام دیا گیا۔
اس تقریب کی نظامت جناب سید رؤف،رکن سدبھاؤنا منچ نے کی۔تقریب میں جناب سنگپا،نائب صدر،دیگر اراکین جناب دیوداس،جناب سریش،جناب ایس کے ولی،جناب رابرٹ لوکن،جناب محمدغوث،جناب چندرا پرکاش، کالج کے اساتذہ ڈاکٹرسریندر،مظفرکلیان، بالاجی،بدر سلطانہ،محمد تنویر کے علاوہ طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔جناب چندرا پرکاش نے شکریہ ادا کیا۔سدبھاؤنامنچ کے تمام اراکین کا پرنسپل ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی اور اساتذہ کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا۔

