مدھیہ پردیش :دیڑھ ماہ سے جیل میں قید تین نوجوانوں کے خلاف، رام نومی جلوس میں تشدد کا الزام، کیس درج، ایک کا مکان منہدم

سب جرم ہماری ذات سے منسوب ہیں محسنؔ
کیا ہمار ے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے؟

دیڑھ ماہ سے جیل میں قید تین نوجوانوں کے خلاف
رام نومی جلوس میں تشدد کا الزام،کیس درج،ایک کا مکان منہدم
مدھیہ پردیش پولیس کے اس کارنامہ پر حیرت کا اظہار

بھوپال: 15۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

تین ایسے افراد جو اقدام قتل کے الزام کے تحت پہلے ہی سے جیل میں قید ہیں۔ان کے خلاف پولیس نے 10 اپریل کو رام نومی کی شوبھا یاترا کے دؤران جلوس پر پتھراؤ اور فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ماخوذ کرتے ہوئے ان کے ناموں کو بھی اپنی ایف آئی آر میں درج کرلیا ہے۔یہ واقعہ ریاست مدھیہ پردیش کے بڑوانی ضلع کا ہے۔

پولیس کے اس کارنامہ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ان فسادات کے معاملے میں پولیس کی جاریہ تحقیقات کے انداز پر سوال اٹھائے جارہے ہیں!۔ان میں سے وہ ایک جیل میں قید نوجوان شہباز بھی شامل ہے جس کا خاندان ضلع انتظامیہ کے عتاب کا شکار ہوا جنہوں نے مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کے مکان کو منہدم کردیا۔

 

یہ تینوں نوجوان جو گزشتہ ماہ مارچ میں اپنی گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں پر الزام ہے کہ انہوں نے 10 اپریل کو بڑوانی ضلع کے سیندوا میں ایک موٹر سائیکل کو آگ لگا دی تھی۔جو ان دو اضلاع میں سے ایک ہے جہاں رام نومی کے موقع پر فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئی تھیں۔یاد رہے کہ رام نومی کے جلوس کے دؤران مدھیہ پردیش کے کھرگون اور بڑوانی میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔

کھرگون میں اتوار کو شوبھایاترا کے دؤران مسلمانوں پر پتھراؤ کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت کی ہدایت پر مقامی انتظامیہ نے 50 سے زائد دکانات اور مکانات کو بلڈوزرس کی مدد سے تہس و نہس کرکے تمام کو بے گھر بنادیا۔حکومت اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مکانات غیر قانونی اور سرکاری اراضی پر تعمیر کیے گئے تھے۔

ان میں سے ایک مکان  مزدور پیشہ حسینہ فخرو کا بھی شامل ہے جس کی تعمیر کے لیے”پردھان منتری آواس یوجنا اسکیم”کےتحت ڈھائی لاکھ روپئے کی رقم ملی تھی اورخاندان نے گھر بنانے کے لیے پائی پائی کی شکل میں ایک لاکھ جوڑ کر یہ مکان بنایا تھا۔بلڈوزروں سے رؤندے گئے اس گھر کی تعمیر 6 ماہ قبل مکمل ہوئی تھی۔اس معاملہ میں 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور میڈیا اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ اس میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے!!

مدھیہ پردیش کے بڑوانی میں رام نومی کے جلوس کے دؤران تشدد اور آگ زنی کے الزامات کے تحت شہباز،رؤف اور فخرو پر اسی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے جہاں ان پر اقدام قتل کا کیس درج کرکے جیل بھیجا گیا تھا۔!!

جب میڈیا نے اس بارے میں پوچھا تو پولیس عہدیداروں کا کہنا تھا کہ”شکایت کنندہ کے بیان کی بنیاد پر یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے”۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر پولیس عہدیدار منوہر سنگھ نے کہا کہ ہم اس معاملہ کی تحقیقات کریں گےاور جیل سپرنٹنڈنٹ سے اس کی تفصیلات حاصل کریں گے۔رام نومی جلوس کے موقع پر تشدد کے الزام میں ماخوذ کیے تینوں شہباز،رؤف اور فخرو یہ تینوں 5 مارچ کو اقدام قتل کے الزام کے تحت گرفتار کیے گئے تھے اور وہ جیل میں ہیں۔

شہباز کی ماں سکینہ نے الزام عائد کیا ہے کہ فرقہ وارانہ تصادم کے بعد ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔یہاں پولیس آئی،میرا بیٹا تقریباً ڈیڑھ ماہ سے جیل میں ہے،اسے لڑائی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا لیکن پولیس نے ہمیں باہر نکال دیا،میرا بچہ جیل میں ہے تو میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ اس کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج کی گئی۔ہم نے پولیس والوں کو بتایا کہ وہ جیل میں ہے لیکن کوئی ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ہم نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی،وہ میرے چھوٹے بیٹے کو بھی لے گئے ہیں۔

"عہدیداروں نے نے تقریباً 45 مکانات اور دکانوں پر بلڈوزر چلا دیا۔جن میں 16 مکانات اور 29 دکانیں منہدم کردیں۔