صحافی سمیت 8 یوٹیوبرس کے پولیس اسٹیشن میں کپڑے اُتاردئیے گئے
جمہوریت کے چوتھے ستون کو لاک اپ میں برہنہ کردیا گیا
یا تو حکومت کی گودی میں بیٹھ کر ان کی تعریفیں کرو یا جیل جاؤ
نئے بھارت کی سرکار سچ سے ڈرتی ہے:راہول گاندھی کا ٹوئٹ
بھوپال:09۔اپریل (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
مدھیہ پردیش پولیس نے اس وقت محکمہ جاتی تحقیقات کا حکم دیا جب ایک صحافی،کیمرہ مین اور یوٹیوبرسمیت 8 نوجوانوں کے کپڑے اُتارکر مدھیہ پردیش کے سدھی ضلع کے کوتوالی تھانے میں کھڑا کی جانے والی تصویرسوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔جبکہ این ڈی ٹی وی کے مطابق ان 8 نوجوانوں میں ایک نیوز چینل کے صحافی رنیش تیواری،ان کا کیمرہ مین،ایک یوٹیوبر ان کے کیمرہ مین کے علاوہ دیگرسماجی کارکن ہیں۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق یہ تصویر 2 اپریل کو لی گئی تھی اور سوشل میڈیا پر اس پیغام کے ساتھ وائرل ہوئی تھی کہ”بی جے پی ایم ایل اے کیدارناتھ شکلا کے خلاف رپورٹنگ کرنے پرصحافیوں کو پولیس اسٹیشن میں اس طرح برہنہ کیا گیا۔بتایا گیاہے کہ ان تمام 8 نوجوانوں کو 18 گھنٹوں تک اسی حالت میں پولیس اسٹیشن کے لاک اپ میں رکھا گیا۔!!
اب حکومت مدھیہ پردیش کی ہدایت کے بعد سب ڈویژنل پولیس آفیسر گائتری تیواری اس معاملہ کی تحقیقات کریں گے۔جوبھی قصوروار پایا جائے گا۔اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
مدھیہ پردیش جہاں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں اس طرز کے واقعہ کے خلاف کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی ٹوئٹر پر ہندی اخبار میں اس تصویر کے ساتھ شائع خبر کے تراشہ کو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”جمہوریت کے چوتھے ستون کو لاک اپ میں برہنہ کردیا گیا،یا تو حکومت کی گودی میں بیٹھ کر ان کی تعریفیں کرو یا جیل جاؤ ،نئے بھارت کی سرکار سچ سے ڈرتی ہے”
سدھی کے ایس پی مکیش شریواستو نے میڈیا سے کہا کہ ملزمین کے ذریعہ کیےگئے جرم سے قطع نظر اس طرح کی کارروائی (برہنہ کرنا) قابل قبول نہیں ہے۔
ادھر اسٹیشن ہاؤس آفیسر ابھیشیک سنگھ نے کہا کہ تحویل میں لیے گئے ان ایک صحافی سمیت 8 نوجوان فری لانس جرنلسٹوں کو پولیس اسٹیشن کے لاک اپ میں رکھا گیا تھا۔اور "ان کے کپڑے احتیاطی طور پر اس لیے اتارے گئے تھے کہ وہ خودکشی نہ کرلیں”۔جسےمضحکہ خیز بیان ہی مانا جائے گا۔
تحقیقاتی عہدیدار گائتری تیواری نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر ٹاؤن انسپکٹر منوج سونی اور اسٹیشن ہاؤس آفیسر ابھیشیک سنگھ کو پولیس لائن سے منسلک کیا گیا ہے۔چونکہ ابھیشیک سنگھ اس وقت تھانے میں موجود تھے اس لیے ان کا تبادلہ بھی کیا جا رہا ہے۔
سدھی کے ایس پی مکیش شریواستونے میڈیا کو بتایا کہ کوتوالی پولیس نے 2 اپریل کو ایک تھیٹر آرٹسٹ نیرج کندر کو بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی اور ان کے خاندان کو بدنام کرنے کے معاملہ میں گرفتار کیا تھا۔بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے 16 مارچ کو کوتوالی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کروایا تھا۔تفتیش کے دوران پولیس نے فیس بک سے پوسٹس اور آئی پی ایڈریس کی تفصیلات طلب کیں۔تحقیقات کے بعد نیرج کندر کا اس فیس بک آئی ڈی سے تعلق ہونے کا پتہ چلا تھا جسے گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق اس معاملہ میں جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 151 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور چند گھنٹوں بعد رہا کردیا گیا تھا۔
اسکرول کے مطابق اپنی رہائی کے بعد صحافی نیرج کندر الزام عائد کیا ہے کہ کپڑے اتارے جانے کے بعد ان سے پریڈ کروائی گئی۔اور دھمکی دی گئی کہ بی جے پی رکن اسمبلی یا پولیس کے خلاف کچھ لکھا گیا تو یہی حال ہوگا!!

