ملک کومضبوط بنانا ہے تو نفرت کوختم اور امن کوبڑھانا ہوگا، نفرت پھیلائی جا رہی ہے اور ملک کوتقسیم کیا جا رہا ہے:راہول گاندھی

ملک کو مضبوط بنانا ہے تو نفرت کو ختم اور امن کوبڑھانا ہوگا
نفرت پھیلائی جا رہی ہے اور ملک کوتقسیم کیا جا رہا ہے
سچ کو زیادہ دن نہیں چھپایا جاسکتا،سری لنکا میں سچ باہر آگیا ہے!!
میڈیا اور سرکاری ادارے آرایس ایس اور بی جے پی کے صد فیصد قبضہ میں
راہول گاندھی کی شرد یادو سے ملاقات،میڈیا سے بات چیت

نئی دہلی: 08۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے کہا ہے کہ اگر ملک کو مضبوط بنانا ہے تو پہلے نفرت کو ختم کرنا ہوگا،ملک میں امن و قومی ہم آہنگی کومضبوط کرنا لازمی ہے۔

راہول گاندھی نے آج جمعہ 8 اپریل کو دہلی میں سابق مرکزی وزیر،راشٹریہ جنتا دل کے 74سالہ سینئر قائد و سیاسی رہنما شرد یادو سے ملاقات کے بعد ملک کی موجودہ حالت پر مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ملک میں مذہبی منافرت کو ہوا دئیے جانے،پڑوسی ملک سری لنکا کے حالات اور دیگر امور پر تفصیلی بات چیت کی۔

شرد یادو سے ملاقات کے بعد راہول گاندھی نے کہا کہ”میں اس سے اتفاق کرتا ہوں کہ ملک بہت خراب حالت میں ہے۔نفرت پھیلائی جارہی ہے اور ملک کوتقسیم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں قوم کو ایک ساتھ لانا ہے اور ایک بار بھائی چارہ کے راستے پر چلنا ہے جو ہماری تاریخ کا حصہ رہا ہے”۔

راہول گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں ہم آہنگی نہیں ہوگی اور جہاں نفرت بڑھے گی وہاں مہنگائی کا بڑھنا بھی طئے ہے اور اس نفرت کی وجہ سے ملک کی معیشت سدھر ہی نہیں سکتی اور نہ روزگار مل ہی نہیں سکتا۔کیونکہ یہ سماج کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ملک کو مضبوط بنانا ہے تو سب سے ضروری چیز ملک میں امن و امان اور قومی ہم آہنگی لازمی ہے۔

بی جے پی کے لوگ سمجھتے ہیں کہ نفرت پھیلاکر،لوگوں کو ڈرا کر،لوگوں کو مارکر ملک کی معیشت کو مضبوط کیا جاسکتا ہے جو کہ غلط سوچ ہے۔راہول گاندھی نے ایک میڈیا نمائندہ کے سوال پر کہا کہ آج جو ملک کی معاشی حالت ہے روزگار کی حالت ہے اس کا آپ تصور ہی نہیں کرسکتے۔

راہول گاندھی نے متنبہ کیا کہ جو آنے والا وقت ہے اس کو آپ نے اپنی پوری زندگی میں سوچا تک نہیں ہوگا!!کیونکہ ملک کے روزگار کی جو ریڑھ کی ہڈی ہے وہ ٹوٹ گئی ہے۔چھوٹے کاروباری ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں اور جو اس ریڑھ کی ہڈی کو انہوں نے توڑا ہے اس کے نتائج اگلے دو چار سال میں ظاہر ہوں گے۔راہول گاندھی نے زور دے کر کہا کہ”بھیانک نتائج،بھیانک نتائج”۔

راہول گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی ساوتھ کوریا کی تقلید کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں یہ پہلے سوچنا ہوگا کہ ہم ہیں کیا اور یہاں کیا چل رہاہے؟ایک اور میڈیا نمائندہ کےسوال پر راہول گاندھی نے زور دے کر کہا کہ”میڈیا کے ساتھ مل کر آپ سچائی کو ایک سال دو سال دبا سکتے چھپاسکتے ہو۔ لیکن جب یہ سچائی نوجوانوں کے پیٹ تک اور ان کے والدین کے پیٹ تک پہنچتی ہے تو پھر اس وقت میڈیا اس کو سنبھال نہیں سکتا۔ 

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو تین سال سے میڈیا،سرکاری اداروں،آرایس ایس اور بی جے پی قائدین نے سچائی کو چھپایا ہے۔اب آہستہ آہستہ یہ سچ باہر آرہا ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ وہی ہوا ہے سری لنکا میں اور "سری لنکا میں اب سچائی باہر آگئی ہے”۔!!

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں بھی سچائی باہر آئے گی۔انہوں کہا کہ فرق کیا ہے؟ ہندوستان کو بانٹا بھی گیا ہے۔ہندوستان میں الگ الگ گروپس بنادئیے گئے پہلے یہ ایک دیش ہوا کرتا تھا۔ہندوستان میں الگ الگ ملک بنادئیے گئے اور ان سب کو ایک دوسرے سے لڑایا جارہا ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ یہ درد یہاں بھی باہر آئے گا تو تشدد (ہنسا) بھی ہوگا!راہول گاندھی نے زور دیکر کہا کہ” ابھی مت مانو میری بات دو تین سال رکو۔”

پٹرول ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں پر میڈیا کے سوال پر راہول گاندھی نے کہا کہ تسلط اور جبر کے ساتھ عوام پر اپنے فیصلے لادے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ "میڈیا صد فیصد ” حکومت کے کنٹرول میں ہے”۔انہوں نے کہا کہ سی بی آئی،ای ڈی اور دیگر اداروں پر کنٹرول کرلیا گیا ہے۔

” میڈیا سے کی گئی راہول گاندھی کی مکمل بات چیت اے بی پی نیوز کے اس 13 منٹ کے ویڈیو میں سنی جاسکتی ہے”

 

راہول گاندھی نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر حکومت کے ہاتھ میں ہے پہلے لاؤڈ اسپیکر مختلف پارٹیوں کے پاس جاتا تھا۔اب لاؤڈ اسپیکر صرف آر ایس ایس اور بی جے پی کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب سچائی لوگوں کے پیٹ کو لگے گی تب یہ لاؤڈ اسپیکر ناکام اور فیل ہوجائے گا۔

انتباہ : اس ویب سائٹس سے بلاء اجازت 

خبروں کے سرقہ کی کوشش نہ کریں۔

ورنہ قانونی چارہ جوئی کی جائے گی"

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے کہا کہ جو بھی اپوزیشن جماعتیں بی جے پی اور آرایس ایس کے خلاف ہیں سب کو ایک ساتھ آنا چاہئے۔راہول گاندھی نے کہا کہ کس طرح ایک ساتھ آنا چاہئے اس کا فریم ورک تیار کیا جارہا ہے اور بات چیت جاری ہے۔

راہول گاندھی نے طنزیہ کیا کہ چین پر پارلیمنٹ میں بات نہیں ہوگی۔انہوں نے روس۔یوکرین جاریہ جنگ کے متعلق کہا کہ یوکرین کا موقف یہ ہے کہ روس کہتا ہے کہ ہم یوکرین کے مرکزی زیر انتظام علاقوں کو نہیں مانتے۔اس مسئلہ پر روس نے یوکرین پر حملہ کردیا۔اور روس کا مقصد یوکرین،نیٹو،امریکہ کے اتحاد کو توڑنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی اصول کو چین ہندوستان پر لاگو کرتا ہے۔چین کہہ رہا ہے کہ ہماچل پردیش اور لداخ اس کا حصہ ہے اور اس نے اپنی فوج بٹھادی ہے۔لیکن مرکزی حکومت اس حقیقت کو قبول کرنے تیار نہیں ہے۔اور میں شروع سے کہہ رہاہوں کہ حقائق کو تسلیم کرو اگر حقائق تسلیم نہیں کیے گئے اور کوئی تیاری نہیں کی گئی تو معاملہ خراب ہوگا۔

قبل ازیں سینئر سیاسی رہنما و سابق مرکزی وزیر شرد یادو نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ”راہول گاندھی کو کانگریس کا سربراہ بنایا جانا چاہئے”۔میڈیا کے سوال پر شرد یادو نے کہا”کیوں نہیں؟اگر کوئی کانگریس کو چوبیس گھنٹے چلاتا ہے تو وہ راہول گاندھی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ انہیں پارٹی کا صدر بنایا جانا چاہئے۔تب ہی کچھ بڑا ہو سکتا ہے۔”