وردی میں ملبوس پولیس آفیسر باپ نے اپنی پولیس آفیسر بیٹی سے سلامی لی
باپ اور بیٹی کی زندگی کا خوشگوار اور قابل فخر لمحہ
سوشل میڈیا پر تصویر ہوئی وائرل،ہرطرف سے ستائش
نئی دہلی:03-نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے آفیشل انسٹاگرام پر پولیس وردی میں ملبوس ایک خاتون کی تصویر شیئر کی گئی ہے جو ایک پولیس عہدیدار کو سلام (سیلوٹ) کر رہی ہیں۔اور ان کے سیلوٹ کو قبول کرتے ہوئے پولیس عہدیدار بھی اس سیلوٹ کے جواب میں وردی میں ملبوس خاتون کو سیلوٹ کررہے ہیں۔
انٹرنیٹ پر وائرل اس خوبصورت اور یادگار لمحے پرمشتمل اس تصویر کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ کیمرہ میں قید کیا گیا ہے۔
انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی جانب سے شیئر کردہ اس تصویر کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ” قابل فخر باپ قابل فخر بیٹی کی طرف سے سلامی (سیلوٹ)لے رہا ہے۔”
انڈو تبتن بارڈر پولیس کے آفیشل انسٹا گرام اکاؤنٹ پر مزید تفصیلات لکھتے ہوئے اس نوجوان خاتون کی شناخت محترمہ اپیکشا نمبادیا کے طور پر کی ہے۔جنہوں نے اتر پردیش کے مراد آباد میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر پولیس اکیڈمی سے گریجویشن کی تکمیل کی ہے۔
ان کے والد اے پی ایس نمبادیا،انڈو تبتن بارڈر پولیس(آئی ٹی بی پی) میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ہیں۔
یہ تصویر محترمہ نمباڈیا کے پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شرکت کے فوراً بعد لی گئی تھی۔
کالج سے گریجویشن کرنے کے بعدمحترمہ اپیکشانمبادیا اترپردیش پولیس میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس(ڈی ایس پی) کے طور پر شامل ہوں گی
مسٹر نمبادیا کا خاندان پولیس فورس میں خدمات انجام دینے والا ہے اور مسٹر اے پی ایس نمبادیا ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) وردی میں ان کے خاندان کی” تیسری نسل ” کے عہدیدار ہیں۔

تبت سے منسلک سرحد کے لیے ملک کی اہم سرحدی گشتی تنظیم انڈو تبتن بارڈر پولیس ITBP# کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے محترمہ اپیکشا نمبادیا کی مزید دو تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں۔جن میں سے ایک تصویر میں اپیکشا نمبادیا اپنی ماں بملیش نمبادیا کے ساتھ نظر آرہی ہیں جو اس تقریب میں موجود تھیں۔
جبکہ دوسری تصویر میں دونوں باپ اور بیٹی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے کیمرے کو دیکھ کر مسکرا رہے ہیں۔
انسٹا گرام پر اس خوبصورت لمحہ میں قید تصویر کو 21,128 سے زائد صارفین نے لائیک کیا ہے اور سینکڑوں نے ان پولیس عہدیدار باپ اور بیٹی کی جم کر ستائش کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دے رہے ہیں اور ان سے نیک خواہشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔
انگریزی کا ایک قول ہے کہ :-


