لڑکی کو ڈسنے والے سانپ کو مارکر ماں سانپ اور لڑکی کے ساتھ ہسپتال پہنچ گئی،ڈاکٹرس پریشان، مریض فرار

لڑکی کو ڈسنے والے سانپ کو مارکر ماں سانپ اور لڑکی کے ساتھ ہسپتال پہنچ گئی
ڈاکٹرس پریشان، مریض فرار،لڑکی کی جان بچ گئی

ٹاملناڈو: 29۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ماں آخر ماں ہوتی ہے جو اپنی اولاد کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔کرناٹک کی ایک ماں نے اپنی بیٹی کو ڈسنے والے سانپ کو مارا پھر تھیلی میں اس سانپ کو ڈال کر سانپ کے ڈسنے سے متاثرہ اپنی بچی کو لے کر فوری ہسپتال پہنچ گئی۔

جب اس ماں نے تھیلی سے نکال کر اس سانپ کو بھی ڈاکٹرس کے سامنے رکھ دیا کہ اسی سانپ نے اس کی بچی کو ڈس لیا ہے تو اس ماں کی ہمت اورسانپ کو دیکھ کر ڈاکٹرس حیران وششدر رہ گئے۔جبکہ ہسپتال میں موجود چند مریضوں نے خوفزدہ ہوکر وہاں سے فرار ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔

کرناٹک کے ڈینکنی کوٹہ تعلقہ کے بائیلا کاڈو موضع کی ساکن منی کی پانچ سالہ لڑکی سنچنا شری اپنے مکان کے باہر کھیل رہی تھی کہ اسے ایک چھوٹے سے سانپ نے ڈس لیا۔

جس کے بعد لڑکی کے چیخنے اور رونے کی آواز پر ماں منی فوری گھر سے نکل کر بیٹی کے پاس پہنچی تو وہاں ایک سانپ موجود تھا جسے ماں نے فوری قریب ہی موجو د لکڑی سے مار دیا اور سانپ کو ایک تھیلی میں ڈال لیا۔

مقامی افراد نے جب یہ منظر دیکھا تو ماں سمیت لڑکی کو سرکاری ہسپتال منتقل کیا جہاں ماں منی نے اپنی بیٹی کو دکھاتے ہوئے ڈاکٹرس سے کہا کہ اسے سانپ نے ڈس لیا ہے اور ساتھ ہی اس نے تھیلی سے سانپ نکال کر ڈاکٹرس کو دکھایا کہ اسی سانپ نے لڑکی کو ڈسا ہے۔

خاتون کے ہاتھ میں موجود سانپ میں ابھی جان باقی تھی جسے دیکھ کر ڈاکٹرس حیرت میں پڑگئے جبکہ وہاں موجود کئی مریض اور دیگر افراد یہ منظر دیکھ کر وہاں سے فرار ہوگئے۔

اس کے بعد ڈاکٹرس نے متاثرہ لڑکی کو فوری طبی امداد پہنچائی جس سے پانچ سالہ سنچنا شری کی جان بچ گئی۔ڈاکٹرس نے کہا کہ متاثرہ لڑکی کو فوری طور پر ہسپتال پہنچانے سے اس کی جان بچ گئی۔

بعد ازاں ڈاکٹرس نے ماں منی سے پوچھا کہ سانپ کو بھی اپنے ساتھ ہسپتال لانے کی ضرورت کیا تھی؟ تو ماں منی نے انہیں بتایا کہ ڈسنے والا سانپ کونسا ہے اگر وہ آپ لوگوں کو معلوم ہوجائے تو علاج میں آسانی ہوگی یہ سوچ کر وہ سانپ کو اپنے ساتھ لائی ہے۔