ٹی۔20 میچ میں ٹیم انڈیا کے خلاف پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کامیابی
اپنے واٹس ایپ پر اسٹاٹس لگانا راجستھان کی خاتون ٹیچر کو مہنگا پڑگیا
ملازمت سے برطرف،اشتعال انگیزی پھیلانے کے الزام کے تحت کیس بھی درج
جئے پور: 26۔اکتوبر(سحر نیوزڈاٹ کام)
واٹس ایپ صارفین کی زیادہ تر تعداد اپنے واٹس ایپ پر اسٹیٹس لگانے کی شوقین ہوتی ہے۔جن میں زیادہ تر مذہبی،ادبی یا شعری مواد واٹس ایپ اسٹاٹس پر لگایا جاتا ہے۔ان میں فیملی سے متعلق ویڈیوس اور تصاویر بھی ہوتی ہیں۔
تاہم بہت سے واٹس ایپ صارفین کبھی کبھار ایسے واٹس ایپ اسٹیٹس بھی لگادیتے ہیں جو کسی کی دلآزاری کا سبب بھی بن جاتا ہے! اور کسی تنازعہ کو جنم دیتا ہے۔کیونکہ ایسے لوگ نہیں جانتے کہ ان کی موبائل ڈائرکٹری میں جتنے موبائل نمبرس محفوظ ہوتے ہیں وہ سارے ان واٹس ایپ اسٹیٹس کو دیکھ سکتے ہیں۔

ایسے میں راجستھان کے اُدئے پور ضلع کی ساکن ایک خاتون ٹیچر ہندوستان اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان اتوار کو کھیلے گئے آئی سی سی ٹی۔20 میچ کے بعد جس میں پاکستان نے دس وکٹ سے کامیابی حاصل کی تھی پر اسٹیٹس لگانا اتنا مہنگا پڑگیا کہ وہ جہاں اپنی ملازمت سے محروم ہوگئیں وہیں ان کے خلاف فساد برپا کرنے کی غرض سے اشتعال پھیلانے کی دفعہ کے تحت ایک کیس بھی درج رجسٹر کرلیا گیا۔
راجستھان کے اُدئے پور کی ساکن ٹیچر فاطمہ عطاری اپنی نادانی اور ناسمجھی کے باعث جہاں خود مصیبت کا شکار ہوگئیں وہیں فرقہ پرست اور تنگ نظر ٹولے کو غذا بھی فراہم کردی!!جو سوشل میڈیا پر مسلمانوں کو غدار ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ ٹیم انڈیا کے خلاف پاکستانی ٹیم کی جیت کے بعد زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں نے پٹاخے پھوڑے ہیں! بھلے ہی وہ پٹاخے کرواچوت کی مناسبت سے جلائے گئے ہوں یا پھر کسی کی شادی کی بارات میں!!
اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق اتوار کو ہوئے کرکٹ میچ میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی شکست اور پاکستانی ٹیم کی جیت کے بعد فاطمہ عطاری جو کہ راجستھان کے ضلع اُدئے پور کے نیرجا مودی اسکول میں ٹیچر کی خدمات انجام دیتی ہیں نے اپنے واٹس ایپ اسٹاٹس پر میچ کا ٹی وی اسکرین شاٹ لگاتے ہوئے نیچے لکھا کہ "Jeeeet gayeeee….We wonnn جیت گئے … ہم جیت گئے۔!!

جس کے بعدان کے کسی طالب علم یا ان کے کسی طالب علم کے سرپرست نے ان کے اس واٹس ایپ اسٹاٹس کا اسکرین شاٹ لے کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا جہاں سے وہ وائرل ہوگیا۔
اور یہ اسٹاٹس اسکول انتظامیہ تک بھی پہنچادیا گیا جس کے فوری بعد سوجاتیہ چیرٹیبل ٹرسٹ جس کی جانب سے یہ اسکول چلایا جاتا ہے کی ایک میٹنگ طلب کی گئی بعد ازاں چیرمین نیرجا مودی اسکول مہندرسوجاٹیہ نے بتایا کہ اس میٹنگ میں غوروخوص کے بعد اس اسکول کی ٹیچر فاطمہ عطاری کو ان کی خدمات سے برطرف کردیا گیا ہے۔

بعدازاں اس وائرل سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد امبا ماتا پولیس اسٹیشن کے عہدیدار نرپت سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ فاطمہ عطاری کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 153 (فساد برپا کرنے کے ارادے سے اشتعال انگیزی پھیلانا)کے تحت ایک کیس درج رجسٹر کرلیا گیا ہے۔
” فاطمہ عطاری کا ویڈیو بیان ٹوئٹر کے اس لنک پر دیکھا جاسکتا ہے ”
فاطمہ عطاری ٹیچر نے بعدازاں ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں اپنے واٹس ایپ اسٹاٹس کے لیے معذرت کی گئی اور کہا کہ وہ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھیں۔
اپنے ویڈیو پیغام میں فاطمہ عطاری نے کہا ہے کہ کسی نے انہیں میسج کیا اور پوچھا کہ کیا آپ پاکستان کو سپورٹ کرتی ہیں؟ چونکہ پیغام میں ایموجیز تھے اور یہ تفریحی ماحول تھا میں نے جواب دیا ہاں لیکن اس کا کہیں بھی یہ مطلب نہیں کہ میں پاکستان کی حمایت کرتی ہوں۔
فاطمہ عطاری نے کہا کہ میں ایک ہندوستانی ہوں اور مجھے ہندوستان سے پیار ہے۔میں ہندوستان سے اتنا ہی پیار کرتی ہوں جتنا کہ ہر کوئی کرتا ہے۔
فاطمہ عطاری نے کہا کہ” جیسے ہی انہیں احساس ہوا کہ ان سے غلطی سرزد ہوئی ہے انہوں نے اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس کو ڈیلیٹ کر دیا۔ساتھ ہی انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ” اگر میں نے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔”
دوسری جانب ٹیم انڈیا اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے میچ کے دؤران ٹی وی سے لیا گیا ایک خوبصورت اسکرین شاٹ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے!


