وقارآبادضلع میں ذات کی تذلیل سے دلبرداشتہ خاتون نے
خود پر پٹرول چھڑک کر دفتر ڈی ایس پی تانڈور کے روبرو خودسوزی کی کوشش کی
سب انسپکٹرس اور خاتون پولیس ملازمین نے انتہائی اقدام سے باز رکھا
وقارآباد؍تانڈور:26۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
وقارآباد ضلع کے تانڈور میں آج ایک خاتون نے یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ گاؤں کے چند لوگوں کی جانب سے ذات کے نام پر اس کی اور اس کے بچوں کی تذلیل کرتے ہوئے انہیں ہراساں کیا جارہا ہے۔خود پر پٹرول چھڑک کر خودسوزی کی کوشش کی تاہم وہاں موجود ملازمین پولیس نے چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خاتون کو اس انتہائی اقدام سے باز رکھتے ہوئے بچالیا۔

آج دفتر ڈی ایس پی تانڈور کے روبرو پیش آئے اس افسوسناک واقعہ کی تفصیلات متاثرہ خاتون اور پولیس کے مطابق تانڈور منڈل کے موضع کوتلا پور کی ساکن رینوکا کی چند سال قبل کورکوپلی راجیا کے ساتھ شادی ہوئی تھی۔
کورکو پلی راجیا بحیثیت سرکل انسپکٹر پولیس خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہیں تین بچے ہیں تاہم چند وجوہات کے باعث راجیا نےرینوکا سے علحدگی اختیار کرلی تھی جس کے بعد سے رینوکا اپنے بچوں کے ساتھ کوتلاپور میں ہی مقیم ہے۔
اسی دؤران رینوکا اور ان کے بھائی میں جائداد کا تنازعہ پیدا ہوگیا اور اس کی شکایت رینوکا نے کرنکوٹ پولیس اسٹیشن میں درج کروائی

رینوکا نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بھائی اور اسی موضع کے ساکن چنا وینکیا گوڑ،کاپو رگھوپتی ریڈی،کوٹم لالپا،نیلی نرسملو کے بشمول دیگر 12 افرادنے اس پر حملہ کیا اور حال ہی میں ان کے بچوں کی ذات کی تذلیل بھی کی۔
رینوکا کا الزام ہے کہ انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ انہیں بچوں سمیت گاؤں سے باہر نکال دیا جائے گا۔
اسی مسئلہ کی شکایت ڈی ایس پی تانڈورلکشمی نارائنا سے کرنے کی غرض سے آج رینوکا اپنے بچوں کے ساتھ دفتر ڈی ایس پی تانڈور پہنچیں اور اچانک اپنے ساتھ بوتل میں لایا ہوا پٹرول خود پر چھڑک کر خودسوزی کی کوشش کی۔
تاہم وہاں موجود سب انسپکٹران پولیس ایڈو کونڈالو اور گیری اپنے ساتھ موجود پولیس جوانوں اور خاتون ملازمین پولیس کے ساتھ انتہائی چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رینوکا کو اس اقدام سے بازرکھا۔
بعدازاں ڈی ایس پی تانڈورلکشمی نارائنا اور سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور (اربن) جلندرریڈی کی ہدایت پر رینوکا کو تانڈور کے گورنمنٹ ضلع ہسپتال منتقل کیا گیا۔
وہاں اس خاتون سے دونوں سب انسپکٹران نے اقدام خودسوزی کی وجہ دریافت کی تو رینوکا نے انہیں بتایا کہ انہیں اور ان کے بچوں کو بہت زیادہ ہراساں کیا جارہا ہے اور مذکورہ بالا تمام افراد کو فوری گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
بعد ازاں پولیس کی جانب سے رینوکا کی کونسلنگ کی گئی اور انہیں تیقن دیا کہ ان کی شکایت پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

