شاد نگر ہائی وے پر فلمی طرز کا حادثہ،ایک ساتھ 9 کاریں ٹکراگئیں
ایک کار ڈرائیور کے اچانک بریک لگانے سے عجیب و غریب حادثہ
حیدرآباد :21۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام)
تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے مضافاتی ضلع رنگاریڈی کے شادنگر میں آج اچانک ایک ایسا عجیب و غریب حادثہ پیش آیا ہے جو کہ زیادہ تر فلموں میں ہی دیکھا جاسکتا ہے۔جہاں پیچھے سے آنے والی 9 کاریں ایک دوسرے سے ٹکراگئیں۔خوش قسمتی سے ان کاروں میں محفوظ مسافرین معمولی زخموں کے بعد اس حادثہ میں محفوظ رہے۔
حیدرآباد۔بنگلورو نیشنل ہائی وے نمبر 44 پر آج دوپہر 40-1 بجے پیش آئے اس حادثہ کی تفصیلات کے مطابق شادنگر ہائی وے پرحسب معمول تیز رفتارگاڑیاں دوڑ رہی تھیں کہ رسوئی ہوٹل کے قریب تیز رفتاری کے ساتھ سامنے جارہی ایک کار کے ڈرائیور نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ اور ہائی وے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی کار کو اچانک بریک لگادئیے۔جس کے باعث پیچھے آنے والی جملہ 9 کاریں عقب سےاس کار کےساتھ ایک دوسرے سے ٹکراگئیں اور ایک دوسرے میں پھنس گئیں۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ منظر کسی فلم کامنظر نظر آرہا تھاکہ ایک ہی قطار میں تیزرفتار دؤڑ رہیں کاریں اس طرح ایک ساتھ ٹکراکر رک گئیں۔ان کاروں میں خواتین اور بچے بھی سوارتھے جوکہ خوش قسمتی سے محفوظ رہےجنہیں معمولی چوٹیں آئیں۔تاہم تمام کاروں کاروں کے اگلے حصے تباہ ہوگئے۔
بتایاجاتاہے آج اتوار کی تعطیل کےباعث تفریح کی غرض سے جارہے لوگوں کی کاریں بھی ان میں شامل ہیں۔اس حادثہ کےبعدان حادثہ کا شکار کاروں میں سوار مسافرین نے راحت کی سانس لی کہ اس طرح اچانک پیش آنے والے حادثہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس حادثہ کی اطلاع کے فوری بعد شاد نگر پولیس کے عہدیدار جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔اس حادثہ کے باعث حیدرآباد۔بنگلورو اہم و مصروف ہائی وے کے علاوہ حیدرآباد۔بیجاپور نیشنل ہائی وے پر ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا۔اور پولیس کی جانب سے حادثہ کی شکار تمام کاروں کو سڑک سے ہٹاکر ٹریفک نظام بحال کیا گیا۔اس سلسلہ میں شادنگر پولیس مصروف تحقیقات ہے۔

یاد رہے کہ 22 مئی کو بھی ضلع رنگاریڈی کے ہی چیوڑلہ کے قریب بیجاپور۔حیدرآباد نیشنل ہائی وے پر ایک ایسا ہی حادثہ پیش آیا تھا۔جس میں 7 کاریں بالکل اسی طرز پر عقب سے ٹکراگئی تھیں۔اس وقت بھی سامنے جانے والی کار کے ڈرائیور کی جانب سے اچانک بریک لگائے جانے سے یہ حادثہ پیش آیا تھا۔اس حادثہ میں بھی سات کاروں کو نقصان پہنچا تھا۔اور تمام مسافر محفوظ رہے تھے۔

