بلقیس بانوکیس: 11 درندوں کی رہائی اور راجستھان میں دلت طالب علم کی ہلاکت کے خلاف
تانڈور میں ویلفیئرپارٹی آف انڈیا کااحتجاج اور دستخطی مہم،درندوں کو واپس جیل بھیجنے کا مطالبہ
ریاستی صدر سید کمال اطہر نے کہا حکومت گجرات نے قانون کا مذاق اڑایا ہے
وقارآباد/تانڈور:21۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام)
گجرات میں 2002ء میں مسلم نسل کشی کے دوران بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت ریزی،اس کی تین سالہ لڑکی کو زمین پر پٹک اور ان کے دیگر سات افراد خاندان سمیت 14 بے گناہ مسلمانوں کے قتل میں ملوث 11 درندہ صفت حیوانوں کی آزادی کا امرت مہوتسو کے نام پر جیل سے رہائی کے گجرات حکومت کے فیصلہ اور راجستھان کے جھالورضلع کے ایک خانگی اسکول میں پانی پینے پر ٹیچر کی جانب سے تیسری جماعت کے طالب علم کو زدوکوب کے باعث اس طالب علم کی موت کے خلاف ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی جانب سے وقارآبادضلع کےتانڈورمیں اندراچوک پر صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا تلنگانہ سید کمال اطہر کی قیادت میں احتجاج منظم کیا گیا۔جس میں بڑی تعداد میں ذمہ داروں اورنوجوانوں نے حصہ لیتے ہوئے نعرے لگائے۔اس موقع پر بڑے پیمانے پر رات دیر گئے تک دستخطی مہم بھی چلائی گئی۔

صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا تلنگانہ سید کمال اطہرنے اس موقع پر کہا کہ 2002ء میں گجرات میں گودھرا ٹرین واقعہ کے بعدمنظم پیمانے پر کی گئی مسلم نسل کشی کے دوران کھیتوں میں پناہ لی ہوئیں حاملہ بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت ریزی اور14 مسلمانوں کےقتل میں ملوث اور عدالت کے ذریعہ مجرم قراردئیے گئے 11 مجرموں کی گجرات حکومت کی جانب سے یوم آزادی ہند کے موقع پر رہائی انصاف کا کھلا مذاق ہے۔
انہوں نے گجرات حکومت کے اس اقدام پرتنقید کرتےہوئے کہا کہ ایک حاملہ خاتون کی اجتماعی عصمت ریزی اور 14 مسلمانوں کے قتل میں ملوث ان 11 درندہ صفت قاتلوں اور زانیوں کو سماج میں کھلا چھوڑکر گجرات حکومت نے دستور اور قانون کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے فیصلہ کی بھی شدید خلاف ورزی کی ہے جس پر ساری دنیا تنقید کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں مرکزی حکومت اور محکمہ وزارت داخلہ کی خاموشی افسوسناک ہے۔
سید کمال اطہر نے کہا کہ ان 11 درندوں کو جیل سے رہاء کرکےحکومت گجرات نے ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ خود بلقیس بانو کو عدم تحفظ کا پیغام دیا ہے۔جنہوں نے کئی سال تک قانونی لڑائی کے ذریعہ انصاف حاصل کیا تھا اور ان 11 درندوں کو 2008ءمیں عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
ساتھ ہی صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا تلنگانہ سید کمال اطہر نے راجستھان کے جھالورضلع کے ایک خانگی اسکول میں پانی پینے پرٹیچر کی جانب سے تیسری جماعت کےطالب علم کو زدوکوب کےباعث اس طالب علم کی موت پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے 75 سال بعد بھی اور ترقی کے اس دور میں ذات پات کی تفریق انتہائی شرمناک حرکت ہے۔انہوں نے حکومت راجستھان سے مطالبہ کیا کہ اسکولی ٹیچر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا تلنگانہ سید کمال اطہر نے اس معاملہ میں سپریم کورٹ سے ازخود کارروائی کرنے کامطالبہ کیا اورکہاکہ ان رہا شدہ 11 درندوں کو دوبارہ واپس جیل بھیجا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی جانب سے بڑے پیمانے پر پورے ملک میں دستخطی مہم کا آغاز کیا گیا ہے اور یہ تمام دستخطیں صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو روانہ کی جائیں گی۔اور ان سے اس معاملہ میں مداخلت کی اپیل کی جائے گی۔
تانڈور میں منعقدہ اس احتجاج اور دستخطی مہم میں ویلفیئر پارٹی آف انڈیا،یوتھ ویلفیئر تانڈور کے علاوہ دلت طبقہ کے قائدین اور نوجوانوں ہدایت اللہ،نصرت علی،محمدفہیم خان،ساجد پٹیل،ایم اے متین ایڈوکیٹ،محمد یوسف،محمد ایاز،مولانا مبارک،آدم خان،سردارعلی،محمد فاروق قریشی اوردیگر شریک تھے۔


