مدھیہ پردیش میں تین کمسن بچوں کو جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا، چپل سے بے تحاشہ پٹائی کرنے والا گرفتار، دوسرا فرار

بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں میں
مرض پرانا ہے اس کا نیا علاج بھی ہو

مدھیہ پردیش میں تین کمسن بچوں کو جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا
چپل سے بے تحاشہ پٹائی کرنے والا گرفتار، دوسرے ملزم کی تلاش جاری، ویڈیو وائرل

حیدرآباد : 06۔ڈسمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ملک کی کئی ریاستوں کے شہروں میں مسلمانوں کیخلاف بڑھتی ہوئی نفرت سے آج ہر ذی حس اور سیکولر نظریہ کا انسان پریشان اور مایوس نظر آتا ہے۔!! کل ہی اتر پردیش کے مرادآباد کے ایسے کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل تھےجس میں دیکھا گیاکہ ایک پاش سوسائٹی میں ڈاکٹر اشوک بجاج کے فلیٹ کو مسلم ڈاکٹر محمد یوسف اور ڈاکٹر اقریٰ کی جانب سےخریدے جانے کے بعد احتجاج کیا گیا حتیٰ کہ مقامی ضلع کلکٹر سے ان کے خلاف شکایت بھی کی گئی کہ 400 ہندو خاندانوں کی اس سوسائٹی میں ایک مسلم خاندان انہیں ہرگز برداشت نہیں ہے اور وہ خود کو عدم تحفظ کا شکار مانتے ہیں۔!

اب سوشل میڈیا پر ایک انتہائی قابل مذمت ویڈیو وائرل ہوگیا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو نوجوانوں کی جانب سے تین کمسن بچوں کی پٹائی کی جا رہی ہے ان میں سے ایک اپنی چپل سے ان معصوموں کی پٹائی کررہا ہے اور ان دونوں کی جانب سے ان تین بچوں کو جئے شری رام کا نعرہ لگانے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔!!

میڈیا اطلاعات کےمطابق یہ دل دہلا دینے والا دو منٹ کا ویڈیو مدھیہ پردیش کے رتلام کا ہے اور یہ قابل مذمت واقعہ ایک ماہ قبل پیش آیا تھا تاہم اس کا ویڈیو اب سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا ہے۔ان میں ایک لڑکا ندیم (نام تبدیل)13 سالہ نے پولیس میں باقاعدہ شکایت درج کروائی ہےکہ وہ تینوں تالاب کے قریب بیٹھے ہوئےتھےکہ دو نوجوان وہاں پہنچے اور ان تینوں کو پکڑ لیا اس کمسن لڑکے کی شکایت کے مطابق انہوں نے ان کے مسلم ہونے کے باعث انکے ساتھ گالی گلوچ اور مار پیٹ کی۔

اس وائرل شدہ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ اس درندگی کا شکار ہونے والے تینوں بچے نابالغ ہیں جن میں ایک لڑکا یتیم بتایا گیا ہے۔یہ واقعہ رتلام کے امرت ساگر قدیم باغ کے قریب جس کی تزئین و آرائش جاری ہے کے پاس پیش آیا جہاں یہ بچے کھیل رہے تھے۔

حملہ آوروں نے ان بچوں سے”جئے شری رام” کا نعرہ لگانے کا مطالبہ کیا اور انہیں چاقو سے بھی ڈرایا۔ چپل سے پٹائی کے دوران جب ایک بچہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا توحملہ آوروں میں سے ایک نے خبردار کیا کہ” اگر تو نے اللہ کہا تو ہم تجھے تالاب میں پھینک دیں گے۔” ایک بچے نے بتایاکہ” انہوں نے زبردستی ہم سے جئے شری رام کا نعرہ لگوایا اور ہماری ایک ویڈیو بنائی۔اس واقعہ کے متعلق کسی کو بھی بتانے پر جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی۔یہ کمسن بچے اپنی جان بچانےکے خوف سے وہاں سے فرار ہوکر یہ بچے محفوظ جگہ پر پہنچ گئے اور خوف کی وجہ سے اپنے گھر والوں کو اس دل دہلادینے والے خوفناک واقعہ کے متعلق نہیں بتایا تھا۔

ان بچوں کے وکیل سعید عمران کھوکر نے میڈیا کو بتایاکہ درندگی کا شکار ان تین بچوں میں سب سے چھوٹا لڑکا صرف سات سال کا ہے جو شدید صدمہ کا شکار تھا۔درمیانی بچہ بھی سب سے چھوٹا تقریباً سات سال کا ہی ہے۔اس واقعہ کےبعد اس نے صدمہ سے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیاتھا۔ہمیں اس کی بڑے پیمانے پر کونسلنگ کرنی پڑی تاکہ اسے دروازہ کھولنے پر مجبور کیا جاسکے انہوں نے بتایاکہ اس بچہ کا خاندان اس واقعہ سے مکمل خوفزدہ اور ہراساں ہے۔

اس درندگی کا شکار یہ بچے واقعہ کے بعد سے خوفزدہ اور صدمہ کا شکار تھے اور اس وقت انہوں نے کارروائی کرنے کافیصلہ کیا جب ان کا ویڈیو وائرل ہوگیا۔جس کے بعد وہ پولیس سے اس واقعہ کی شکایت کرنے پر آمادہ ہوئے۔ویڈیو گردش کرنے کے بعد سب سے بڑے لڑکےشمیم (نام تبدیل) نے پولیس اسٹیشن میں اس واقعہ کی شکایت کرتے ہوئے ان دونوں کیخلاف ایف آئی آر درج کر وائی۔

نیوز لانڈری کی رپورٹ کےمطابق اس ویڈیو کے وائرل ہونےکےبعد رتلام پولیس نے مناک پولیس اسٹیشن میں ان دونوں درندوں کے خلاف کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے ان میں سے ایک کو گرفتارکرلیا ہے۔اسٹیشن ہاؤز آفیسر سریندر سنگھ گراڈیا کے حوالے سے نیوز لانڈری نے اپنی رپورٹ میں لکھاہےکہ ویڈیو میں جو بچوں کو چپل سے پیٹ رہا ہے اس کو پولیس نے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرتےہوئے عدالتی تحویل میں بھیج دیا کیونکہ وہ نابالغ ہے اور اس کی عمر 17 سال ہے۔! ایک اور اطلاع میں بتایا جا رہا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث دونوں کو پولیس نے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کے بعد” بال سدھار گھر ” بھیج دیا ہے۔

اور ان دونوں ملزموں کےخلاف 296، 115(2)، 126(2)، 351(2)، 196، اور 3(5) BNS کی دفعات کےتحت کیس درج کیا گیا ہے۔جبکہ متاثرہ بچوں کی عمر 11 اور 13 سال کے درمیان ہے۔جو کہ دوسری، پانچویں اور چھٹی جماعت کے طالب علم ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر افسوسناک اور درندگی پر مشتمل اس واقعہ کا ویڈیو دیکھنے کے بعد ایک بہت بڑا طبقہ اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوال کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا یہ زہر کتنی اندر تک سرائیت کر گیا ہے؟ اور یہ نفرت کب ختم ہوگی۔؟؟

نامور شاعر نِدا فاضلی نے کبھی کہا تھا کہ

بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں میں
مرض پرانا ہے اس کا نیا علاج بھی ہو