چیوڑلہ میں بے قابو لاری نے ترکاری فروش کسانوں کو رؤند دیا، بشمول خاتون چار ہلاک،تین شدید زخمی
حادثہ کے بعد لاری درخت سے ٹکرا کر رک گئی، ڈرائیور ڈھائی گھنٹوں تک تباہ شدہ کیبن میں پھنسا رہا
وزیراعلیٰ ریونت ریڈی، رکن پارلیمان، چیف وہپ،سابق وزیر اور دیگر کا اظہار افسوس
حیدرآباد/وقارآباد : 02۔ڈسمبر
( سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ خصوصی)
حیدرآباد۔بیجاپور نیشنل ہائی وے نمبر 44 ان دنوں سڑک حادثات کےباعث انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا مرکز بن کر رہ گیا ہے۔روزآنہ اس ہائی وے پر حادثات ایک معمول بن کر رہ گئے ہیں۔لیکن حکومت اور عہدیداروں کی خاموشی معنی خیز ہے۔! کل یکم۔ڈسمبر سے آج تک اس شاہراہ پر ہونےوالے دو الگ الگ سڑک حادثات میں 6 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔اس اہم اور مصروف نیشنل ہائی وے کی توسیع کے کاموں میں تعطل کےباعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہورہی ہیں اس کےلیے ذمہ دار کون ہیں؟ مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت یا محکمہ پولیس؟
آج شام چیوڑلہ کے آلور گیٹ کے قریب پیش آئے ایک انتہائی خوفناک حادثہ میں ایک تیز رفتار اور بے قابو لاری نے سڑک کے کنارے ترکاریاں اور سبزی فروخت کرنےوالے کسانوں کو رؤند دیا۔اس افسوسناک واقعہ میں چار کسانوں کی جائے حادثہ پر ہی دلخراش موت واقع ہوگئی ۔ جبکہ زائداز 15 دیگر کسانوں کے بھی شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔مہلوکین میں ایک خاتون اور زخمیوں میں دو خواتین بھی شامل ہے۔
آج شام 5 بجے حیدرآباد ۔بیجاپور نیشنل ہائی وے پر پیش آئے اس خوفناک حادثہ کی تفصیلات کے مطابق لاری نمبر AP 29 TS 0945 حیدرآباد کی جانب سے وقارآباد کی سمت کی آ رہی تھی کہ آلور گیٹ کے قریب جہاں کسان روزآنہ کی طرح اپنے کھیتوں میں اگائی گئیں تازہ ترکاریاں اور سبزیاں فروخت کرنے کی غرض سے سڑک کے کنارے اپنی دکانات لگا کر بیٹھے تھے کہ اچانک اس بے قابو لاری نے اپنے راستے سے ہٹ کر سڑک کی دائیں جانب بیٹھے ہوئے ترکاری فروش کسانوں کو روند دیا۔جسکے باعث تین ترکاری فروش کسانوں کی جائے حادثہ پر ہی دلخراش موت واقع ہوگئی اور ایک کسان ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاسکا۔
آج رات جاری کیے گئے سرکاری بیان میں ہلوکین کی شناخت این۔راملو ( 48سالہ،ساکن آلور)،ڈی۔کرشنا (22 سالہ،ساکن آلور)اور شیاملا سجاتا (38 سالہ، ساکن نین چیرو) کے طور پر کی گئی ہے جبکہ چوتھے مہلوک کی شناخت نہیں ہوپائی ہے۔وہیں آکولہ پدمماں، شیاملا بالامنی اور موگلیہ کو شدید زخمی بتایا گیا ہے جنہیں علاج کی غرض سے ڈاکٹر مہندرریڈی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس اور زخمیوں کو گاندھی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
کسانوں کو رؤندتی ہوئی لاری قریب ہی موجود ایک تناور برگد کے پیڑ سے ٹکراکر رک گئی۔اس لاری کی رفتار اور حادثہ کی نوعیت کا اندازہ اس بات لگایا جاسکتا ہےکہ لاری کے روندنے کے باعث مہلوکین کی نعشیں ناقابل شناخت ہوگئیں اور برگد کے پیڑ سے ٹکرانے کے بعد اس لاری کا اگلا حصہ تباہ ہوکر درخت میں دھنس گیا،اس لاری کازخمی ڈرائیور زائد از دھائی گھنٹوں تک اپنی نشست پر پھنس گیاتھا جسے کسی طرح نکالا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق لاری ڈرائیور نشہ کی حالت میں گاڑی چلا رہا تھا اور ایک بس کو اوور ٹیک کرنے کے بعد وہ لاری پر اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکا اور بے قابو ہوکر لاری سڑک کی دائیں جانب کسانوں کو رؤندتی ہوئی نکل گئی۔ حادثہ کی اطلاع کے فوری بعد پولیس جائے حادثہ پر پہنچ گئی۔زخمیوں کوعلاج کی غرض سے اور نعشوں کو بغرض پوسٹ مارٹم چیوڑلہ کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اس حادثہ کے باعث اطراف کے دیہاتوں اور مہلوکین کے افراد خاندان میں غم اور افسوس کی لہر دوڑ گئی۔بڑی تعداد میں لوگ جائے حادث پر جمع ہوگئے تھےجنہوں نے زخمیوں اور مہلوکین کی ہسپتال منتقلی میں مدد کی۔اس حادثہ کے باعث اس اہم اور مصروف شاہراہ پر جائے حادثہ سے تلنگانہ اسٹیٹ پولیس اکیڈیمی (اپا جنکشن Appa Junction) تک سڑک کی دونوں جانب ٹریفک مسدود ہو گئی تھی۔
اس دلخراش حادثہ اور چار کسانوں کی ہلاکت پر اطراف کے دیہاتوں کے عوام اور اپوزیشن قائدین نے شدید احتجاج منظم کیا۔ان کا مطالبہ تھا کہ یہ قومی شاہراہ حادثات کا مرکز بن گئی ہے اس کی توسیع کی جائے، مہلوکین اور زخمیوں کو مناسب ایکس گریشیاء دیا جائے۔یاد رہے کہ کل اسی شاہراہ کے خانہ پور کے قریب پیش آئے ایک سڑک حادثہ میں پروڈوٹور کا ساکن ایک جوڑا ہلاک ہوگیا تھا۔
آج کے اس حادثہ میں چار کسانوں کی موت پر وزیراعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے افراد خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ زخمیوں کے موثر علاج کی عہدیداروں کو ہدایت دی۔

رکن پارلیمان چیوڑلہ کونڈا وشویشورریڈی نے بھی دہلی سے بیان جاری کرتے ہوئے اس حادثہ اور اموات پرشدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔جبکہ چیف وہپ ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی،رکن اسمبلی چیوڑلہ کالے یادیا، سابق ریاستی وزیر پی۔سبیتا اندرا ریڈی، بی آر ایس قائد پی۔ کارتیک ریڈی اور دیگر قائدین نے چیوڑلہ ہسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی اور پولیس سے حادثہ کی تفصیلات حاصل کیں۔
” یہ بھی پڑھیں "
مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے
دستار پہ بات آ گئی ہوتی ہوئی سر سے
پروین شاکر کے 72 ویں یوم پیدائش پر علامہ اعجاز فرخ کا خصوصی مضمون
عالمی شہرت یافتہ شاعرہ کا کلام آج بھی سوشل میڈیا کی زینت بنتا ہے
ویڈیوز، مضمون اور منتخب کلام اس لنک پر ⬇️
پروین شاکر کے 72 ویں یوم پیدائش پر علامہ اعجاز فرخ کا خصوصی مضمون


