یواے ای کی شہزادی ہندل قاسمی نے زی نیوز کے سدھیر چودھری کو متعصب دہشت گرد کہا، دُبئی میں منعقدہ سیمینار سے سدھیر چودھری باہر!

یو اے ای کی شہزادی ہندل قاسمی نے زی نیوز کے سدھیر چودھری کو متعصب دہشت گرد کہا
دُبئی میں منعقدہ سیمینار سے سدھیر چودھری باہر! ہندل قاسمی کا ٹوئٹ میں انکشاف!

متحدہ عرب امارات/نئی دہلی: 22۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

ایڈیٹر ان چیف/سی ای او زی نیوز سدھیر چودھری کو اس وقت مزید بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا ہے جب انہیں متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والے ایک سیمینار سے خطاب کرنے والے اسپیکرس کی فہرست سے بقول پرنسس ہندل قاسمی سدھیر چودھری کو ہٹادیا گیا ہے!!

یاد رہے کہ 20 نومبر کو متحدہ عرب امارات کی شہزادی ہندل فیصل القاسمی نے شدید احتراض کرتے ہوئے ٹوئٹر کے اپنے مصدقہ ہینڈل سے ایک ٹوئٹ کیا تھا جس میں انہوں نے سدھیر چودھری کو متعصب دہشت گرد قرار دیتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں منعقدہ سیمینار میں ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے ٹی وی اینکر کو جو کہ ملک کے 20 کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ان کے شوز کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف تشدد مچایا جاتا ہے ایسے شخص کو کیوں اور کس مقصد سے خطاب کے لیے سیمینار میں مدعو کیا جارہا ہے؟ 

دراصل متحدہ عرب امارات میں موجود”انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا (آئی سی اے آئی) ابوظہبی شاخ نے 25 اور 26 نومبر  کو اپنے سالانہ بین الاقوامی سیمینار میں شرکت اور خطاب کے لیے زی نیوز کے سی ای او سدھیر چودھری کو مدعو کیا تھا جو کہ ابوظہبی کے فیئر ماؤنٹ بابل بحر میں ہونا طئے پایا ہے۔

اس سیمینار کے تشہیری مواد میں باقاعدہ سدھیر چودھری کی تصویر بھی موجود ہے۔سدھیر چودھری کے ساتھ اس سیمینار میں 18 اسپیکرس خطاب کرنے والے ہیں جن میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے وائس چیئرمین اور سی ای او کیلکی مستری کا نام بھی نمایاں ہے۔

بعدازاں 20 نومبر کو ہی ایک اور ٹوئٹ میں متحدہ عرب امارات کی شہزادی ہندل فیصل القاسمی نے آئی سی اے آئی کو ٹیاگ کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ” کیوں میرے پُرامن ملک میں اسلاموفوب اور نفرت پھیلا رہے ہو؟ پرنسس ہندل قاسمی اپنے انگریزی اور عربی ٹوئٹس کے ذریعہ سدھیر چودھری کو متحدہ عرب امارات کے سیمینار میں شرکت کے لیے مدعو کیے جانے کے خلاف شدید اعتراض کرتی رہیں۔ 

پھر متواتر اسی دن اپنے تیسرے ٹوئٹ میں پرنسس ہندل قاسمی نے لکھا کہ 2019 اور 2020 میں سدھیر چودھری نے زی نیوز پر شوز چلائے جہاں انہوں نے مخالف شہریت قوانین کے خلاف مظاہروں کی قیادت کرنے پر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا۔

اس نے شاہین باغ، نئی دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں شہریت کے احتجاج کی قیادت کرنے پرمسلم طلباء اور خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے فرضی کہانیاں چلائیں۔

پھر 21 نومبر کو اپنے ایک اور ٹوئٹ میں متحدہ عرب امارات کی شہزادی ہندل فیصل القاسمی نے لکھا کہ”جب کوئی مجرم معاشرے میں زہر اگلتا ہے،تو یہ تشدد کو دعوت دیتا ہے جس سے گھروں، کاروباروں اور مساجد کو جلایا جاتا ہے۔ایک MuslimHolocaust# شروع کیا گیا ہے،دوسری اقلیتوں, دلتوں اور سکھوں کے ساتھ زیادتی کو پولیس بیٹھ کر دیکھتی ہے۔میں متحدہ عرب امارات میں ایسی نفرت کا خیر مقدم نہیں کروں گی” ۔

بعدازاں 21 نومبر کو متحدہ عرب امارات کی شہزادی ہندل فیصل القاسمی اپنے ٹوئٹر  کے مصدقہ اکاؤنٹ پر ایک لیٹر پوسٹ کرتے ہوئے لکھتی ہیں” سدھیر چودھری ابوظہبی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس میں مقررین کے پینل سے باہر ہوگئے "۔

جو کہ یہ لیٹر ان کی جانب سے”انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا (آئی سی اے آئی) ابوظہبی شاخ کو لکھا گیا ہے۔

جس میں لکھا گیا ہے”سدھیر چودھری صحافتی میدان کی ایک مشہورشخصیت ضرور ہیں لیکن وہ کئی ایک کریمنل معاملات میں ملوث ہیں  اور سدھیر چودھری 2012 میں جندال گروپ کو بلیک میل کرنے کے معاملہ میں تہاڑ جیل میں پندرہ دن قید رہ چکے ہیں اور سدھیرچودھری کئی ایک جھوٹی،مخالف اسلام اور نفرت انگیز خبروں کی تیاری میں بھی ماخوذ ہیں

اس لیٹر میں پرنسس نے مطالبہ کیا ہے کہ سیمینار کے شرکاء سے سدھیرچودھری کو ہٹایا جائے۔22 نومبر کو کیے گئے اپنے ایک ٹوئٹ میں متحدہ عرب امارات کی شہزادی ہندل فیصل القاسمی نے وضاحت کی ہے کہ” صرف اس لیے کہ آپ اسلامو فوب ہیں،یہ مجھے ہندو فوب نہیں بناتا”۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ 7 مئی 2002ء کو کیرالا میں زی نیوز کے ایڈیٹر انچیف اور زی نیوز پر ڈیلی نیوز اینڈ اینالیسس (ڈی این اے) کے پرائم ٹائم شو کے میزبان سدھیر چودھری کے خلاف غیر ضمانتی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ” 11 مارچ 2020ء کو زی نیوز ٹی وی چینل نے ڈی این اے پروگرام نشر کیا۔ملزم سدھیر چودھری نے ایک ایسا پروگرام پیش کیا جس سے مسلمانوں کے مذہب کی توہین ہوئی ہے۔

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس پروگرام میں انتہائی غیر ذمہ داری کے ساتھ یہ نفرت انگیز مہم چلائی تھی جس میں سدھیر چودھری نے اپنی ذہنی اپج پرمشتمل لؤ جہاد، اکنامی جہاد، لینڈ جہاد، کورونا جہاد، ہسٹری جہاد، میڈیا جہاد، فلم اینڈ سانگ جہاد، سیکولرازام جہاد، آبادی جہاد ،تعلیمی جہاد، مظلوم جہاد، ڈائرکٹ جہاد جیسی کئی قابل اعتراض اصطلاحات گھڑی تھیں کہ جس سے خود مسلمان بھی واقف نہیں ہیں!!

کیرالا میں درج اس ایف آئی آر کی نقل کو سدھیر چودھری نے خود اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹوئٹ کیا تھا۔

اس سلسلہ میں آج یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا (آئی سی اے آئی) کے 30 ارکان نے اپنے ایک مکتوب کے ذریعہ مطالبہ کیا تھا کہ مقررین کے پینل سے سدھیر چودھری کو ہٹادیا جائے۔تاہم آئی سی اے آئی کے ذمہ داران نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ کم مدت میں سدھیر چودھری کو پینل آف اسپیکرس سے ہٹانا اور ان کے متبادل کے طور پر کسی اور اسپیکر کو مدعو کرنا ممکن نہیں ہے!!