واٹس ایپ نے ہندوستان میں ماہِ مارچ میں 47 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس پر پابندی عائد کردی

واٹس ایپ نے ہندوستان میں ماہِ مارچ میں 47 لاکھ اکاؤنٹس پر پابندی عائد کردی
غیر مصدقہ واٹس ایپ”ایپ” استعمال کرنے والے ہوشیار،مختلف فیچرز متعارف

نئی دہلی: 05/مئی
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

دنیا بھر میں فوری پیغامات کی ترسیل اور وصول کےلیےمشہورسوشل میڈیا پلیٹ فارم واٹس ایپ پر وقفہ وقفہ سےصارفین کی سہولت اور انہیں مزید آسانی پیدا کرنے کی غرض سے کئی ایک تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔تاہم جو اس کے استعمال میں ماہرنہیں ہیں وہ صرف پیغامات،فوٹوز، ویڈیوز، لنکس اور آڈیوز بھیجنے اور اسٹاٹس لگانے کی حد تک ہی واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔

واٹس ایپ انتظامیہ نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہاہے کہ جاریہ سال ماہِ مارچ میں تقریباً 47 ملین واٹس ایپ اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی گئی اور ان میں سے 17 لاکھ اکاؤنٹس پر صارفین کی جانب سے کسی بھی قسم کی رپورٹ سے پہلے ہی پابندی لگا دی گئی تھی۔جبکہ اس سے قبل واٹس ایپ نے ماہِ فروری میں تقریباً 46 لاکھ ہندوستانی صارفین کےواٹس ایپ ااکاؤنٹس پر پابندی لگا دی تھی۔واٹس ایپ اکاؤنٹس کی ہندوستان کے ایس ٹی ڈی کوڈ 91+ کے ذریعہ شناخت کی جاتی ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت ہندوستان کی ماہانہ رپورٹ کے عنوان سے پیر کو جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ یکم مار چ 2023ء سے 31 مارچ 2023ء کے درمیان 47,15,906 واٹس ایپ اکاؤنٹس پر پابندی لگادی گئی۔ان میں سےصارفین کی رپورٹ سےقبل 16,59,385 واٹس ایپ اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

جاری کردہ اس رپورٹ میں کہاگیا ہےکہ ہم خاص طور پر روک تھام پر توجہ مرکوز کررہے ہیں کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ نقصان پہنچنے کے بعد اس کا پتہ لگانے سے قبل نقصان ان سرگرمیوں کو ہونے سے روکنا زیادہ بہتر ہے۔واٹس ایپ کی جانب سےواٹس ایپ کےغلط استعمال اور واٹس ایپ کے نجی استعمال کے دؤران اس کےصارفین کی جانب سے بدسلوکی کا پتہ لگانے کاعمل تین مراحل پرمشتمل ہوتاہے۔رجسٹریشن کےوقت ، پیغام رسانی کے دوران اور منفی آراء کے جواب میں جو اسے صارف کی رپورٹس اور بلاکس Blocks# کی شکل میں موصول ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ کئی افراد کی جانب سے کسی واٹس ایپ صارف کو بلاک کر دیاجاتا ہے یا پھر بلاک کے ساتھ اس واٹس ایپ نمبر کی رپورٹ بھی کی جاتی ہے تو واٹس ایپ ایسے نمبر کو بلاک کر دیتا ہے۔ گروپس میں دن رات وقفہ وقفہ سے مختلف مواد تصاویر، ویڈیوز، سوشل میڈیا لنکس، پورٹلس/ سائٹس کے لنکس کو فارورڈ اور شیئر کرنے کی لت میں مبتلاء صارفین اس کا سب سے زیادہ شکار ہوسکتے ہیں۔!!

ساتھ ہی نجی طور پرکسی کو ملک مخالف مواد,سیاسی،فلمی یا سماجی نامورشخصیتوں،خواتین اوربچوں کی ذاتی زندگی پر اہانت آمیز مواد اورفحش فلموں Porn Movies# کے ویڈیوز، ان کےلنکس یا فحش تصاویر کو آپس میں شیئر کرلینے والوں کو بھی واٹس ایپ بلاک کر دیتا ہے۔یہی کارروائی میٹا کمپنی کے انسٹاگرام اور فیس بک پر بھی کی جاتی ہے۔یاد رہے کہ واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام میٹا Meta# کمپنی کی ہی ملکیت ہیں۔

واٹس ایپ کاشمار سب سے زیادہ استعمال ہونے والےسوشل میڈیا ایپ میں ہوتا ہے۔جو دنیاکے 180 ممالک میں 60 مختلف زبانوں کے ساتھ زیراستعمال ہے،اور روزآنہ 100 بلین مختلف مواد پرمشتمل پیغامات/ویڈیوز/آڈیوز اور تصاویرواٹس ایپ کےذریعہ بھیجے اورحاصل کیےجاتے ہیں۔

دستیاب اعداد وشمار کے مطابق واٹس ایپ کے استعمال میں ہندوستان ساری دنیا میں سرفہرست ہے۔جہاں اس کے سب سے زیادہ صارفین موجود ہیں جن کی تعداد 487.5 ملین ہے۔جبکہ برازیل میں واٹس ایپ کے 118.5 ملین،امریکہ میں 79.6 ملین،انڈونیشیا میں 84.8 ملین،روس میں67 ملین اور میکسیکو میں 60 ملین استفادہ کنندگان ہیں۔

واٹس ایپ نے گذشتہ دنوں کئی فیچرس متعارف کروائے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہےکہ اگر آپ کسی کو کوئی مواد بھیجتے ہیں اور غلطی سے اس کو ڈیلیٹ کرتے ہیں تو چیٹ باکس میں دو سیکنڈ کے لیے وہاں فوری Undo# (منسوخ) کا آپشن نظر آئے گا جس کو دباکر آپ ڈیلیٹ شدہ مواد دوبارہ اس چیٹ باکس میں واپس لاسکتے ہیں۔

اسی طرح اب واٹس ایپ نے کئی دن قبل پول Poll# (رائے شماری)کا فیچر بھی فراہم کردیا ہے۔اس پول کے ذریعہ کسی مسئلہ پر بالخصوص گروپس میں ارکان کی رائے حاصل کی جاسکتی ہے۔جس کے ذریعہ گروپ کے ارکان کو سوال کے ساتھ جوابات کے تین سے زیادہ آپشن دئے جاسکتے ہیں۔اور گروپ کے ارکان اپنے حساب سے اس پول باکس میں موجود جوابات کو کلک کرکے اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ 

دوسری جانب واٹس ایپ صارفین کے لیے لازمی ہے کہ وہ مصدقہ اور اوریجنل واٹس ایپ کا ہی استعمال کریں، کیونکہ اس سے ملتے جلتے نام والے کئی واٹس ایپ ایپ موجودہیں۔جن میں واٹس ایپ بلیو،واٹس ایپ جی بی، واٹس ایپ گولڈ، جی بی واٹس ایپ مِنی، واٹس ایپ پلس اور دیگر شامل ہیں۔
اگرچہ واٹس ایپ نے چند سال قبل صارفین کو GB WhatsApp# جیسی موڈیڈ ایپس ModedApp# کے استعمال پر عارضی طور پر پابندی لگنے کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔لیکن کئی لوگ اس سے باز نہیں آتے اور اب بھی اس قسم کے ایپس استعمال کیے جارہے ہیں۔جو کہ غیر محفوظ مانے جاتے ہیں۔جنہیں واٹس ایپ بناء کسی اطلاع کبھی بھی بند کرسکتا ہے۔