وہی چراغ بجھا جس کی لؤ قیامت تھی
نامور صحافی پدم شری ونود ُدوا نہیں رہے
نئی دہلی: 04۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
ملک کے ممتاز و نامور،غیر جانبدار اور بیباک سنیئر صحافی پدم شری ونود دُوا Vinod Dua# نہیں رہے ان کی عمر 67 سال تھی۔ونود دُوا 11 مارچ 1954 کو دہلی کے پناہ گزینوں کے کیمپ میں پیدا ہوئے تھے۔
ونود دُوا کو 2008 میں پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا تھا وہیں 1996 میں ان کی بہترین صحافتی خدمات پر رام ناتھ گوئنکا ایوارڈ دیا گیا تھا۔جبکہ 2017 میں انہیں ریڈ اِنک ایوارڈ بھی حاصل ہوا تھا۔
تجربہ کار صحافی ونود دُوا کوویڈ سے متاثر ہونے کے بعد طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ان کی دختر ملیکا دُوا نے اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ اپنے والد ونود دُوا کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ان کے پسماندگان میں دو دختران ہیں ایک مزاحیہ اداکارہ ملیکا دُوا اور بکل دُوا جو کہ ایک ماہر نفسیات ہیں۔
ونود دُوا کو گزشتہ ہفتہ دہلی کے اپولو ہسپتال کے انتہائی نگہداشت والے یونٹ میں منتقل کیا گیا تھا۔
ونود دُوا دوردرشن اور این ڈی ٹی وی میں خدمات انجام دینے کے ساتھ ہندی صحافت کے سب سے بڑےعلمبردار تھے۔انہیں حال ہی میں ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز ” دی وائر ” اور ” ایچ ڈبلیو نیوز ” کے ویب شوز میں موجودہ صحافت کے گرتے ہوئے معیار اور ملکی حالات پر بے باک اور بے لاگ تبصروں کے لیے جانا جاتا تھا۔
صحافتی اُصولوں اور اس کی ذمہ داریوں کا احساس رکھنے والا ایک بہت بڑا طبقہ ونود دُوا کی خدمات اور ان کی غیر جانبدارانہ صحافت کے لیے انہیں پسند کرتا تھا تاہم وہیں ان کے مخالفین بھی پیدا ہوگئے تھے!
گزشتہ سال ان کے ایک ایپی سوڈ پر ونود دُوا کے خلاف ہماچل پردیش میں بی جے پی لیڈر اجئے شام نے شملہ ضلع کے کمار سین پولیس اسٹیشن میں مختلف دفعات کے تحت ملک سے غداری کا ایک کیس درج کروایا گیا تھا۔تاہم سپریم کورٹ نے ونود دُوا کی درخواست پر اسے خارج کردیا تھا۔
https://www.facebook.com/hwnewsnetwork/videos/451305469940739
ونود دُوا اپنی صحافتی زندگی کے دؤران حکومت چاہے کسی بھی پارٹی کی ہو اس کی خامیوں اور ناکامیوں کو بہت ہی چابکدستی کے ساتھ اجاگر کیا کرتے تھے۔
اور تمام سیاسی جماعتوں کے اعلیٰ قائدین کے ساتھ ان کے بہترین روابط تھے۔ونود دوا کے انتقال کے بعد کئی اہم سیاسی قائدین نے پارٹی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر ونود دُوا کی خدمات کو خراج پیش کرتے ہوئے ان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔
ونود دُوا اردو زبان کے شیدائی تھے اور اپنے پروگرامس میں موجودہ حالات و واقعات کے مطابق برمحل اردو کی غزلیں اور اشعار استعمال کیا کرتے تھے۔
ونود دُوا کی دختر ملیکا دُوا نے اپنے انسٹاگرام پوسٹ میں اپنے والد ونود دُوا کی ایک ہنستی ہوئی تصویر کے ساتھ لکھا ہے کہ” ہمارے غیرت مند، نڈر اور غیر معمولی والد ونود دُوا کا انتقال ہو گیا ہے۔
انہوں نے ایک لازوال زندگی گزاری،دہلی کی پناہ گزین کالونیوں سے 42 سال سے زیادہ صحافتی کمال کی چوٹی پر پہنچ کر،ہمیشہ،ہمیشہ اقتدار سے سچ بولتے رہے۔وہ اب ہماری ماں،اپنی پیاری بیوی چنہ کے ساتھ جنت میں ہیں جہاں وہ گانا،کھانا پکانا،سفر کرتے رہیں گے اور ایک دوسرے کو دیوار سے اوپر لے جائیں گے”

جاریہ سال کے آغاز میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران کوویڈ انفیکشن کے بعد ونود دُوا کو ان کی اہلیہ ریڈیالوجسٹ پدماوتی دُوا کے ساتھ گروگرام (گرگاؤں) کے ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔محترمہ پدماتی دُوا کا جون میں انتقال ہو گیا تھا اور ونود دُوا تب سے اپنی بگڑتی صحت کے ساتھ جدوجہد میں مصروف تھے۔
اسی ہفتہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر ونود دُوا کے انتقال کی جھوٹی خبر وائرل کردی گئی تھی تاہم ان کی دختر ملیکا دُوا نے اس کی انسٹاگرام اور ٹوئٹر کے ذریعہ تردید کرتے ہوئے ان کی صحتیابی کے لیے دعا کی اپیل کی تھی۔
بالآخر ونود دُوا موت سے جنگ ہارگئے۔ونود دُوا کے انتقال سے بے باک، غیر جانبدار اور اُصولوں پر مبنی صحافت کا ایک باب ختم ہو گیا۔اور موجودہ دؤر میں ملک کی صحافت ایک سچے، ایماندار،عوام کا دکھ درد حکومتوں تک پہنچانے والے ایک سپاہی سے محروم ہوگئی۔

