ادے پور میں کنہیالال کے قتل کی ہرطرف سے شدید مذمت،قتل کے دونوں ملزم گرفتار ،ایک ملزم پاکستانی تنظیم سے رابطہ میں تھا

بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں میں
مرض پرانا ہے اس کا نیا علاج بھی ہو

ادے پور میں کنہیالال کے قتل کی ہرطرف سے شدید مذمت،دونوں ملزم گرفتار
ایک ملزم پاکستان کی تنظیم دعوت اسلامی سے رابطہ میں تھا،مزید تین گرفتاریاں
این آئی اے اس واقعہ کی تفتیش کرے گی: وزیراعلیٰ راجستھان اشوک گہلوٹ

حیدرآباد: 29۔جون
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک )

پیغمبراسلامﷺ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور واقعہ معراجؐ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والی نوپورشرما جو کہ اس وقت بی جے پی کی قومی ترجمان تھیں اور جنہیں بعدازاں پارٹی سے 6 سال کے لیے خارج کردیا گیا کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والےراجستھان کے ادے پور کے ساکن ایک نوجوان کنہیالال کے قتل کے واقعہ نے ملک اور سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز کو دہلاکر رکھ دیا ہے۔اور یہ واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے جس کی کسی بھی حال میں اور کسی بھی پہلو سے ہرگز تائید نہیں کی جاسکتی۔

اطلاعات کے مطابق کنہیالال نے دس دن قبل نوپورشرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کیا تھا۔کنہیا لال جو کہ پیشہ سے ٹیلر تھا دو حملہ آور منگل کے دن دن دہاڑے اس کی دکان میں داخل ہوئے اور خنجروں سے حملہ کرتے ہوئے اس کا گلا کاٹ کر قتل کردیا۔ان کی دیدہ دلیر ی دیکھیں کہ انہوں نے اس واقعہ کی ویڈیو بھی بنائی اورقتل کا اعتراف کرتے ہوئے ایک اور ویڈیو کوسوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اسلام کی توہین کا بدلہ لیا ہے۔

اس قتل کے بعد وزیراعلیٰ راجستھان اشوک گہلوت نے بتایا کہ کنہیالال کے قتل میں ملوث دونوں ملزموں کو جسمندسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے نام غوث محمد اور ریاض ہیں۔اس واقعہ کے بعد ریاست راجستھان میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے۔

وزیراعلیٰ اشوک گہلوٹ نے آج اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ”ادےپور کے واقعہ کے بعد آج ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیاگیا۔پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ واقعہ بنیادی طور پر دہشت پھیلانے کے مقصد سے کیا گیا۔دونوں ملزموں کےدیگر ممالک سے روابط کے بھی شواہدملے ہیں۔

وزیراعلیٰ نےکہا کہ اس واقعہ کا معاملہ یواے پی اے UAPA#کے تحت درج کیا گیا ہے۔لہذا اب مزید اس قتل کی تفتیش”نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی "این آئی اے NIA# کرے گی۔جس میں راجستھان اے ٹی ایس مکمل تعاون کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ پوری ریاست میں امن و امان کو یقینی بنائے اور بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کرنےوالوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

وہیں ڈائرکٹر جنرل آف پولیس(ڈی جی پی) راجستھان مسٹر ایم ایل لاتھرنے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ادے پور میں کنہیالال کے بہیمانہ قتل کی ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ دو اہم ملزمان میں سے ایک کا رابطہ پاکستان میں قائم ” دعوت اسلامی تنظیم” سے تھا اور اس نے 2014 میں کراچی کا دورہ کیا تھا۔پولیس نے اب تک اس قتل کے سلسلے میں مزید تین لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں وزیر اعلیٰ اشوک گہلوٹ نے لکھا ہے کہ”اس قتل معاملہ میں ملوث دو ملزموں کوواقعہ کے اندرون 6 گھنٹے گرفتار کرنے والے پانچ پولیس عہدیداروں تیج پال،نریندر،شوکت،وکاس اور گوتم کو عہدہ پر ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے”۔

راجستھان کے ادے پور میں ہوئے کنہیالال کے قتل کی ملک کی مذہبی،ملی،سیاسی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شدید مذمت کی ہے۔کہ یہ عمل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔اور جو کوئی اس قتل کے معاملہ میں ملوث ہیں بعدتحقیقات انہیں سخت سزا دی جائے۔

دراصل بدقسمتی سے گزشتہ چند سال کے دؤران مختلف طریقوں سےموب لنچنگ کےواقعات،مسلمانوں کی کھلے عام نسل کشی کی دھمکی،مسلم بیٹیوں اور بہوؤں کو گھروں سے نکال کرعصمت ریزی کرنے کی دھمکیوں،سڑکوں پر کھلے عام مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی نے اس ملک کا امن و چین اورعوام کے سکون کو غارت کرکے رکھ دیا ہے۔روز ایک نیا شوشہ،روز ایک نفرت بھرا لہجہ!پھر اوپرسے ملک میں جاری شرانگیزی اور نفرت انگیز مہم کے خلاف حکومتوں اور عدالتوں کی خاموشی!!

یاد رہے کہ اسی راجستھان کے راجسمند میں چار سال قبل شمبھو لال ریگڑ نے ایک مسلم مزدور افرازل پر پٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا تھا اور باقاعدہ اس کی ویڈیو بناکرسوشل میڈیا پر وائرل کیاتھا۔جب شمبھولال کو ادے پور کی عدالت میں پیش کیاگیا تھاتب ہزاروں نوجوان عدالت پہنچ گئے تھے جو کہ شمبھو لال کے حمایتی تھے حتیٰ کہ عدالت پر چڑھ کر زعفرانی پرچم تک لہرادیا گیاتھا۔

وہیں موب لنچنگ اور دیگرمسلم مخالف کارروائیوں کے ملزمین کو اس ملک میں ہیروؤں کی طرح پیش کیا جانا بھی اتنا ہی قابل مذمت ہے جتنا کہ ادے پور میں ہوا کنہیالال کا قتل۔اس لیے اب لازمی ہے کہ مجرم جس مذہب سے بھی تعلق رکھتے ہوں ان کے جرائم ناقابل قبول مانے جائیں اور ساتھ ہی پولیس کے ساتھ ساتھ عدالتوں،قانون نافذ کرنے والی سرکاری ایجنسیوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے۔ 

سینئر اداکار نصیرالدین شاہ نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ آج جوسماج میں نفرت پھیلی ہوئی ہے اس کے ذمہ دار ٹی وی نیوز اور سوشل میڈیا ہیں۔انہوں نے وزیراعظم نریندرمودی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس نفرت انگیز ماحول کوختم کرنے کے لیے آگے آئیں۔

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کل جاری کردہ اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ کسی بھی مذہبی مقدس شخصیت کی شان میں گستاخی کرنا ایک سنگین جرم ہے، پی جے پی کی ترجمان ونمائندہ نپور شرما نے پیغمبر اسلامﷺ کی شان میں جو اہانت کی حرکت کی ہے،وہ مسلمانوں کے لئے بے حد تکلیف دہ ہے،نیز حکومت کا اس پر کوئی کارروائی نہیں کرنا زخم پر نمک رکھنے کے مترادف ہے،لیکن اس کے باوجود قانون کو اپنے ہاتھ میں لینااورکسی شخص کو بطور خود مجرم قرار دے کرقتل کر دینانہایت قابل مذمت حرکت ہے،نہ قانون اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ اسلامی شریعت اس کو جائز ٹھہراتی ہے۔

اس لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اُدے پورمیں پیش آنے والے واقعہ کی سخت مذمت کرتا ہے،بورڈ اس مسئلہ میں شروع سے ایک طرف مسلمانوں سے اپیل کرتا رہا ہے کہ وہ صبر سے کام لیں اور قانونی راستہ اختیار کریں،دوسری طرف حکومت سےاپیل کرتا رہاہے کہ یہ مسلمانوں کے لئے بہت ہی جذباتی مسئلہ ہے۔اس لئے کسی بھی مقدس مذہبی شخصیت کی اہانت کے سلسلہ میں سخت قانون بننا چاہئے اور ایسے مسائل میں فوری طور پر کارروائی کرنی چاہئے، بورڈ ایک بار پھر مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ہرگز قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیں اور ایسے کسی بھی عمل سے بچیں جو سماجی یکجہتی اور ہم آہنگی کو متأثر کرتی ہو۔

مولانا محمود اسعد مدنی ،صدر جمعیتہ علما ء ہند نے بھی پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے ادے پور قتل کے واقعہ کو انسانیت پر بدنما داغ قرار دیا ہے۔آج 29 جون کو جاری کردہ اس پریس نوٹ میں ادے پور میں ایک غیرمسلم ٹیلر کے قتل اور اس کےبعد قاتلوں کی جانب سےویڈیو بناکر اسے جائز ٹھہرانے کو انسانیت کے نام پر بدنما داغ اور مذہب اسلام کو بدنام کرنے والا عمل قرار دیا ہے کہ یہ واقعہ ملک اورقانونی نظام کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیتہ علما ء ہند ہر طرح کی شدت پسندی کے خلاف ہےاور مطالبہ کرتی ہے کہ بلا تفریق مذہب و ملت ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔مولانا محمود اسعد مدنی ،صدر جمعیتہ علما ء ہند نے اپنے صحافتی بیان میں کہا ہے کہ یہ نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ شرپسندوں اور فرقہ پرست عناصر کے سلسلہ میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کا رویہ جانبدارانہ ہوتاہے۔

جس کی وجہ سےاس طرح کے حالات رونما ہورہے ہیں۔اس لیے یہ نہایت ضروری ہےکہ یہ واقعہ ہویارسول اللہ ﷺکا سانحہ ہو،سرکاریں چاق و چوبند ہوکر عبرت ناک کارروائی انجام دیں تاکہ ایسے واقعات پھل پھول نہ سکیں۔مولانا مدنی نے اس موقع پر ملک کے تمام لوگوں سے امن و امان قائم رکھنے کی خصوصی اپیل کی اور کہا کہ فرقہ واریت کے خلاف بلا تفریق مذہب و ملت ہر طبقہ کے افراد اٹھ کھڑے ہوں۔

صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ”میں ادے پور واقعہ  کی سخت مذمت کرتا ہوں،مجھے امید ہے کہ راجستھان حکومت سخت کارروائی کرے گی۔اگرپولیس زیادہ چوکس ہوتی تو ایسا نہ ہوتا…بنیاد پرستی پھیل رہی ہے…نوپور شرما کو گرفتار کیا جانا چاہیے،محض معطلی کافی نہیں”

اداکار نصیرالدین شاہ نے فیس بک پر اس قتل کے متعلق لکھا ہےکہ”ہر آدمی کی موت مجھے گھٹاتی ہے۔یہ مت پوچھو جس کے لیےگھنٹی بجتی ہے وہ تمہارے لیے بجتی ہے”۔

سابق کرکٹر عرفان پٹھان نے اس واقعہ کے متعلق ٹوئٹ کیا کہ اس سے کوئی غرض نہیں کہ تمہارا عقیدہ کیا ہے؟ کسی کے جذبات مجروح کرنا یا معصوم لوگوں کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے۔

اداکار کمال خان نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”پیغمبر اسلامؐ نے کسی کوبھی جسمانی اذیت نہیں دی تھی تو اسلام کےنام پر کوئی بھی جرم کرنے کے لیے اسلام کو استعمال نہ کرے”۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایک گروپ ایسا بھی نظرآرہا ہے جو سوال اٹھارہے ہیں کہ جب مسلمانوں کا قتل ہورہا تھا تب یہ مذمت کرنے والے کہاں تھے؟

تو ان کے لیے یہی جواب بہتر ہے کہ” نبی کریم ﷺکے نام پر انسانی جان کا قتل کرنا انتہائی گھناؤنی حرکت ہے۔وہ لوگ جو اس کو Justify کررہے ہیں وہ بہت غلط کررہے ہیں۔اگر آپ اسی طرح لاقانونیت کی تائید کریں گےتب آپ کومسلمانوں کی لنچنگ یاقتل کے خلاف آواز اٹھانے کا بھی کوئی حق نہیں ہوگا۔کیوں کہ ہرکوئی اپنا اپنا جواز نکال کر ایک دوسرےکوقتل کرے گاجس کے نتیجہ میں فساد پیدا ہوجائے گا۔قانون کمزور ہی صحیح لیکن اس کی حکمرانی ضرور ہے اس کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے "۔

نامور شاعر سلیم کوثر نے کبھی کہا تھا کہ؎

آدمی،آدمی کو کھائے چلا جاتاہے

کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر