چیف منسٹرمہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے کا اپنے عہدہ اور قانون ساز کونسل کی رکنیت سے بھی استعفیٰ کا اعلان

چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے کا اپنے عہدہ اور
قانون ساز کونسل کی رکنیت سے بھی استعفیٰ کا اعلان

ممبئی: 29۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے نے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے چند گھنٹے قبل آج رات اپنے عہدہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

شیوسینا میں بغاوت اور ایکناتھ شنڈے کو شیوسینا کے 38 اور سات آزاد ارکان اسمبلی کی تائید کے بعدمہاراشٹرا میں شیوسینا،نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس کی تائید سے قائم مہاوکاس گھاڑی حکومت اقلیت میں آگئی تھی۔زائد از دس دن کے سیاسی بحران کے دؤران آج گورنر مہاراشٹرا بھگت سنگھ کوشیاری نے کل 30 جون جمعرات کو ادھو ٹھاکرےکوایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی تھی۔

ادھو ٹھاکرے نے اپنے استعفیٰ کے اعلان کے بعد کہا کہ میں ڈرنے والا نہیں ہوں،لیکن سڑکوں پر شیوسینکوں کا خون بہانے کے بجائے میں دستبردار ہو جاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ مجھے عہدہ کی پرواہ نہیں ہے، مجھے اپنے شیو سینکوں کی حمایت کی پرواہ ہے۔ساتھ ہی ادھو ٹھاکرے نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

منگل کو دہلی میں وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا سے ملاقات کے بعد، مہاراشٹراسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر اور ریاست کے سابق چیف منسٹر دیویندر فڈنویز نےمنگل کورات تقریباً 10 بجے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو تحریک عدم اعتماد کا خط سونپا تھا۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق مہاراشٹر میں شیوسینا لیڈر اور وزیر ایکناتھ شنڈے کی بغاوت سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے دؤران ایک ہفتہ انتظار کرنے کے بعد منگل کو بی جے پی حرکت میں آگئی۔مہاراشٹر کے سابق چیف منسٹرواپوزیشن لیڈر دیویندر فڈنویز نے کئی ارکان اسمبلی کے ساتھ راج بھون میں گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کی تھی۔

فڈنویزنے گورنر مہاراشٹرا کوشیاری سے درخواست کی کہ وہ ادھو ٹھاکرے حکومت کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دیں۔بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویز کا دعویٰ تھا کہ شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کے اتحاد والی مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) حکومت اقلیت میں آ گئی ہے۔