ناسک کے ٹول پلازہ پر ایک دوسرے کے بال پکڑ کر
گالی گلوچ کے ساتھ دو خواتین کی ایک دوسرے کو مار پیٹ
لڑائی موبائل فون کے کیمرہ میں قید،سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل
حیدرآباد: 16۔ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
انٹرنیٹ،اسمارٹ فون اورسوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز انسانی سہولتوں اور سائنسی ترقی کی ایجاد کے شاہکار مانے جاتے ہیں۔لیکن افسوس کہ سوشل میڈیاسے تفریح حاصل کرنے کےبجائے اسےمذہبی منافرت کا اڈہ بنادیا گیا۔انٹرنیٹ کےاستعمال کےذریعہ بالخصوص نوجوانوں کی جانب سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اسے غلط چیزوں کےلیے استعمال کیا جانے لگا۔!!
وہیں اسمارٹ فون نے لوگوں کو دیوانہ بناکر رکھ دیاکہ جس کے بغیر زیادہ تر لوگوں نے خود کا جینامشکل بنالیا۔اس اسمارٹ فون کو قابو میں رکھنے کے بجائے انسان خود اس اسمارٹ موبائل فون کے جادو کا شکار ہوگئے۔وہیں اسی انٹرنیٹ،سوشل میڈیا اور اسمارٹ فون کی مدد سے چوروں،جعلسازوں اور دھوکہ بازوں کی ایک نئی کھیپ پیدا ہوگئی جو مختلف سائبر جرائم کے ذریعہ مختلف طریقوں سے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔
اب اسمارٹ فون زیادہ تر لوگوں کے لیےمشکلات پیدا کررہا ہے،ہر کسی کے پاس اسمارٹ فون ہونے سےسڑکوں پرہونے والے حادثات،قتل کی وارداتوں،لڑائی جھگڑے کے فوری ویڈیوز لیےجاتے ہیں۔اور انہیں فوری سوشل میڈیا پرڈال دیا جاتا ہے۔اس طرح ان واقعات کے ویڈیوز سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر وائرل ہوجاتے ہیں اور کئی دنوں تک یہ وائرل کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
ایک دؤر تھا کہ اگر سڑک پر دو افراد بحث یا لڑائی جھگڑا کرنے لگ جائیں تووہاں اطراف میں موجود لوگ بیچ بچاؤ کرکے دونوں کو سمجھابجھا کر وہاں سے روانہ کردیا کرتے تھے۔لیکن افسوس کہ ترقی کےساتھ انسانی تنزلی کی یہ حالت ہوگئی ہےکہ سڑکوں اور عام مقامات پرقتل اور جھگڑوں کےواقعات کو مداخلت کرتے ہوئےروکنے کےبجائے وہاں جمع ہونے والے لوگوں کی زیادہ تر تعداد اس واقعہ کی ویڈیو کشی میں مصروف ہوجایا کرتی ہے۔یا پھر خاموش تماشائی بن کر یہ سب دیکھتے رہ جاتے ہیں۔یا خاموشی کے ساتھ وہاں سے گزرجاتے ہیں!!

آج سوشل میڈیا پرمہاراشٹرا کے ناسک ضلع کا ایک چونکا دینے والا ویڈیو وائرل ہوگیا ہے۔دستیاب اطلاعات کےمطابق یہ ویڈیو ناسک ضلع کے پمپلگاؤں ٹول پلازہ کا ہے۔جہاں پر دو خواتین شدید لڑائی میں مصروف ہیں۔ان میں سے ایک خاتون ٹول پلازہ کی ملازمہ ہے جبکہ دوسری مسافر نظر آرہی ہے۔بتایا جارہا ہے کہ یہ واقعہ چہارشنبہ کو ٹول چارجس کی ادائیگی کے مسئلہ پر پیش آیا ہے۔اور اس کے ویڈیوز وائل ہوگئے۔
وہیں انیل گوڑنے اس ویڈیو کوٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”ناسک میں ٹول اداکرنے کے تنازعہ پر دو خواتین آپس میں لڑ پڑیں۔ایسے معجزے صرف بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں ہی ہوں گے”۔
35 سیکنڈ کے اس ویڈیو کلپ میں دونوں خواتین کو ایک دوسرے کےبال کھینچتے اور ایک دوسرے کوکئی بار تھپڑ مارلیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔جبکہ اس لڑائی کےدؤران بھی زیادہ ترلوگ اس لڑائی کا ویڈیو بنانے میں مصروف نظر آرہے ہیں جبکہ چندتماشائیوں کی طرح اس لڑائی کو دیکھتے ہوئے کھڑے ہیں۔بعدازاں چند ٹول پلازہ کی دیگر خاتون ملازمین مداخلت کرتے ہوئے اس لڑائی کو روکنے میں مصروف نظر آرہی ہیں۔
اس ویڈیو میں ساڑھی پہنی ہوئیں دو خواتین کو بار بار ایک دوسرے کو مکے مارتےہوئے،گالی گلوچ اور تھپڑ مارتے دیکھاجاسکتاہے۔ان میں سے ایک کو مراٹھی میں زبانی بحث کےدوران اپنی ساڑھی پھاڑ دینے کی دھمکی بھی دیتے ہوئے سنا گیا ہے۔ویڈیو کے آخر میں،تماشائیوں کاہجوم پھر مداخلت کرتے ہوئے اور خواتین کوعلحدہ کرتے ہوئے دیکھا جاتا جاسکتاہے۔
مسٹرراج ماجی Mr Raj Maji@ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے بھی اس ویڈیو ٹوئٹ میں آئی جی پولیس ناسک رینج کوٹیگ کرتےہوئے اس کے کیاپشن میں لکھا گیا ہے کہ”ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہےکہ ناسک کے قریب پمپلگاؤں ٹول بوتھ پر خواتین کے درمیان زبردست لڑائی ہوئی۔


