کرناٹک میں ہندوستان کے پہلے دو "اومی کرون” کیس درج،متاثرین میں ایک غیر ملکی شامل
دونوں متاثرین کے رابطہ میں آنے والوں کی شناخت،طبی معائنے جاری
بنگلورو:02۔ڈسمبر (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز )
وزارت صحت نے آج جمعرات کو کہا ہے کہ ہندوستان میں”اومی کرون”قسم کے دو کوویڈ 19 کیسز کا پتہ چلا ہے،جس سے ہندوستان دنیا کا 30 واں ملک بن گیا ہے جس نے اس کورونا وائرس کی دوسری شکل کے تناؤ کی اطلاع دی ہے۔جس نے عالمی خطرے کو جنم دیا ہے!!۔
وزارت صحت کے جوائنٹ سکریٹری مسٹر لاؤ اگروال نے ایک نیوز بریفنگ میں بتایا کہ اومی کرون کے یہ دونوں معاملات کرناٹک میں درج ہوئے ہیں۔دونوں متاثرین مرد ہیں جن کی عمریں 66 اور 46 سال ہیں۔
وزارت صحت کے جوائنٹ سکریٹری لاؤ اگروال نے اس نیوز بریفنگ میں مزید کہا کہ ان کی رازداری کے تحفظ کے لیے ان دونوں کی شناخت فی الحال ظاہر نہیں کی جائے گی۔
وہیں این ڈی ٹی وی نے اپنے ذرائع سے یہ اطلاع دی ہے کہ 66 سالہ شخص غیر ملکی ہے جس کی جنوبی آفریقہ کے سفر کا ریکارڈ ہے جبکہ 46 سالہ متاثرہ بنگلورو میں ہیلتھ ورکر ہے۔وہیں پہلا متاثرہ مریض اس کے نتائج مثبت آنے کے سات دن بعد ہندوستان چھوڑ گیا۔
وزارت صحت کے جوائنٹ سکریٹری مسٹر لاؤ اگروال نے کہا کہ ان تمام افراد کا سراغ لگایا گیا ہے جو ان دونوں افراد کے ساتھ رابطے میں آئے تھے اور ان کے میڈیکل ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں کیسز ہلکے ہیں اور ابھی تک کوئی شدید علامات واضح نہیں ہوئی ہیں۔

وزارت صحت کے جوائنٹ سکریٹری مسٹر لاؤ اگروال نے کہا کہ ہمیں Omicron کا پتہ لگانے کے بارے میں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس سے آگاہی بالکل ضروری ہے۔اور کوویڈ قواعد پر مناسب طریقہ سے عمل کریں اور عوامی مقامات اور ہجوم میں جانے سے گریز کریں۔
دوسری جانب مرکز کی” کوویڈ۔19 ٹاسک فورس” کے سربراہ ڈاکٹر وی کے پال نے کہا ہے کہ صورتحال مکمل قابو میں ہے اور”جلد ہی کسی بھی وقت کوئی سخت روک نہیں لگائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی اشارے یہ بتاتے ہیں کہ بہت زیادہ تبدیل شدہ Omicron پچھلی قسموں کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ متعدی ہو سکتا ہے۔لیکن اس وبا کے جان لیوا ثابت ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔
"کوویڈ۔19 ٹاسک فورس” کے سربراہ ڈاکٹر وی کے پال نے ساتھ ہی کہا کہ”یہ اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا کہ آیا اومی کرون زیادہ شدید انفیکشن کا سبب بنتا ہے یا ڈیلٹا سمیت دیگر اقسام کے مقابلے کم ہے!”۔
یاد رہے کہ جاریہ سال اپریل اور مئی میں کوویڈ وباء سے لڑنے کے بعد اس میں بڑی حد تک کمی آئی تھی اور ہندوستان میں عام زندگی تقریباً بحال ہوگئی تھی۔
وہیں افریقن میڈیکل اسوسی ایشن کے ڈاکٹرس کے مطابق جنوبی آفریقہ میں کورونا وائرس کی یہ دوسری شکل”اومی کرون”دو ماہ قبل دریافت ہوئی تھی۔
تاہم گزشتہ ماہ کے اواخر میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس کا انکشاف کیا تھا۔جس کے بعد سے دنیا کے کئی ممالک چوکس ہوگئے ہیں اور مختلف پابندیاں عائد کی جارہی ہیں جن میں اومی کرون سے متاثرہ آفریقی ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے
دوسری جانب ہندوستان 15 دسمبر سے طئے شدہ بین الاقوامی پروازوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار تھا لیکن کل ہی اس منصوبے کو ملتوی کردیا گیا ہے اور مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ بین الاقوامی پروازوں کے دوبارہ آغاز کی تاریخ کا مقررہ وقت پر اعلان کیا جائے گا۔
ساتھ ہی مرکزی حکومت نے تمام ریاستی حکومتوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کو رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے سخت احتیاطی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

