باغ سے آم چوری کرنے کا الزام، دو نابالغ لڑکوں پرظلم ،رسی سے باندھ کر گوبر کھلایا گیا

باغ سے آم چوری کرنے کا الزام،دو نابالغ لڑکوں پرظلم،رسی سے باندھ کر گوبر کھلایا گیا

تلنگانہ/محبوب آباد: 2۔اپریل (سحر نیوز ڈاٹ کام)
دنیا جوں جوں ترقی کرتی جارہی ہے انسان اور انسانیت اتنی ہی پستی میں گرتے جارہے ہیں۔ گزشتہ چند سال سے ملک میں ایسے دل شکن نظارے عام ہوگئے ہیں کہ کسی بھی غلطی پر فیصلہ اور ساتھ ہی سزا کا تعین عوام کی جانب سے ہی کیا جارہا ہے اور اس سزا پر عمل آوری خود عوام ہی کرنے لگے ہیں۔

جبکہ کسی کو بھی سزا دینے کا حق صرف قانون اور عدالتوں کو ہی ہے۔ ملک میں عدالتیں ہیں اور قوانین ہیں لیکن چند افراد کی جانب سے بے خوف و خطر انسانیت اور قوانین کو پامال کرتے ہوئے سزا دینے کا جو نیا رحجان ملک اور سماج میں پھیل رہا ہے وہ سماج کیلئے ہی زیادہ خطرناک ہے چاہے وہ " بیف ” کھانے کے نام پر ہجومی تشدد Mob Lunching ہو یا ” لوجہاد "کے نام پر مارپیٹ  یا پھر بچے چُرانے کی جھوٹی افواہوں کے نام پر کیا جائے یا پھر باغ سے آم چُرانے کے نام پر نابالغ معصوم بچوں کیساتھ ہی کیا جائے!

رسی سے باندھ کر ایک نابالغ معصوم بچہ کو زبردستی گوبر کھلاتے ہوئے۔

اگر کوئی انسان کوئی جرم یا غلطی کرتا ہے تو لازمی ہے کہ اسکی شکایت پولیس سے کی جائے اس کے بعد عدالتیں طئے کریں گی کہ جرم کیا ہے اور سزا کیا دینا ہے؟
تلنگانہ کے محبوب آباد ضلع میں ایک ایسا انتہائی شرمناک اور انسانیت کو رُسوا کرنے والا معاملہ منظر عام پر آیا ہے جہاں دو نابالغ لڑکوں کو آم کے باغ میں رسی سے باندھ کر زبردستی گوبر کھلایا گیا اور انکے چہرے کو گوبر سے لیپ کر انہیں زدوکوب کیا گیا۔ ان لڑکوں پر الزام تھا کہ یہ دونوں اس آم کے باغ میں آم چرانے کی غرض سے آئے ہیں!! بات یہیں نہیں رُکی بلکہ انتہائی دیدہ دلیری کیساتھ ان ظالموں نے اس سارے انسانیت کو شرمندہ کرنے والے واقعہ کا ویڈیو بھی بناکر سوشیل میڈیا پر ڈال دیا جو کہ اب بالخصوص وہاٹس ایپ پر وائرل ہوگیا ہے۔

رسی سے باندھے گئے دوسرے نابالغ معصوم بچہ کو زبردستی گوبر کھلاتے ہوئے۔

محبوب آباد کے کنٹیا پالیم روڈ جو کہ تھوررو پولیس اسٹیشن کے حدو د میں کل شام پیش آنیوالے اس واقعہ کے متعلق سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نندیالا کوٹی ریڈی نے میڈیا کو بتایا کہ اس واقعہ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے ازخود (سوموٹوکے تحت) اس واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے ان دونوں نابالغ لڑکوں کو رسی سے باندھ کر ،انہیں گوبر کھلانے ، انکے چہروں پر گوبر لیپنے اور انکے ساتھ مارپیٹ کرنے میں ملوث دو افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن کی شناخت بنوتویاکو ساکن بوتھالا تانڈہ اور بنوتھوراملو ساکن ہاچو تانڈہ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ جو اس آم کے باغ کی چوکیدار بتائے گئے ہیں۔ ایس پی نندیالا کوٹی ریڈی کے بموجب ان دونوں افراد کے خلا ف آئی پی سی کی دفعات 342 ،324،504 اور سیکشن 75 کے تحت کیس درج رجسٹر کرلیا گیا ہے جس میں غیر انسانی طریقہ سے مارپیٹ ، خطرناک ہتھیاروں کا استعمال، جان بوجھ کر کسی کی بے عزتی کرنا ،اشتعال پیدا کرنا ، اور نابالغ بچوں پر ظلم کرنا جیسی دفعات شامل ہیں۔

رسی سے باندھ کر گوبر کھلانے کے بعد دونوں معصوم نابالغ لڑکوں کو لکڑی سے مارتے ہوئے۔

ساتھ ہی ایس پی نے واضح کیا کہ یہ دونوں نابالغ لڑکے اس آم کے باغ میں انکے گمشدہ کتے کو تلاش کرنے کیلئے داخل ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان دونوں لڑکوں کا تعلق بیدا بڈاگا طبقہ سے ہے جو کہ تھورور کے سائی نگر کے ساکن ہیں۔

سب انسپکٹر پولیس تھورور ایم ۔ کروناکر نے بتایا کہ اس ویڈیو کے سوشیل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی جائے مقام کا پتہ چلانےاور ان بچوں کی شناخت کرنے کیلئے پولیس ٹیموں کو متحرک کردیا گیا تھا بعدشناخت ان دونوں بچوں کو علاج کی غرض سے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اور لڑکوں کیساتھ غیر انسانی سلوک کرنے والے بنوتو یاکو اور بنوتھو راملو کو گرفتار کرتے ہوئے عدالت میں پیش کرکے جیل بھیج دیا گیا۔

ضرورت شدید ہے کہ سماج میں موجود ایسے ظالموں کیلئے سخت سزا کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔