ساحر لدھیانوی، ایک ممتاز ترقی پسند، انقلابی شاعر اور نامور گیت کار، 42 ویں برسی پرخصوصی مضمون

اِک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

ساحر لدھیانوی،ایک ممتاز ترقی پسند،انقلابی شاعر اور نامور گیت کار
42 ویں برسی کے موقع پر خصوصی مضمون

مضمون نگار: سید نوید جعفری
ترتیب و پیشکش: محمد یحییٰ خان

ساحر لدھیانوی نےسماج کے اُن تاریک پہلوؤں کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا جو انسانیت کے چہرے پر بدنماداغ ہیں۔ساحر لدھیانوی کی شاعری محض خیالات کی ترسیل،عقائد کی تبلیغ اور سیاسی پروپیگنڈے کے لیے نہیں،بلکہ اُنہوں نے اپنے محسوسات اور جذبات کی صورت گری کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔ساحر لدھیانوی نے جتنے تجربات شاعری میں کیے شاید ہی وہ دوسرے کسی بھی شاعر نے کم ہی کیے ہوں گے! انہوں نے سیاسی شاعری کی،رومانی شاعری کی،نفسیاتی شاعری کی،اور انقلابی شاعری کی ہے۔جس میں کسانوں اور مزدوروں کی بغاوت کا اعلان ہے۔

ساحر لدھیانوی نے تشبیہ،استعارہ اور کنائے کی زبان استعمال کرنے کےساتھ ساتھ اظہار کرنے کے بیانیہ ا ور خطیبانہ پیرایوں سے بھی کام لیا ان کی روح ہمیشہ محبت کی پیاسی رہی،ساحر لدھیانوی نے اس محرومی کوختم کرنے کےلیے امرتا پریتم سےلیکر سدھا ملہوترا تک متعدد عشق کیے مگر مستقل روحانی سکون اُنہیں میسر نہ آ سکا۔

ساحر نے بچپن اور جوانی میں بہت پر خطر اور کٹھن دن گزارے۔ جس کی وجہ سے ان کی شخصیت میں شدید تلخی گھل گئی تھی دنیا سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کی ایک لہر ان کی شخصیت میں رچ بس گئی تھی جس کا مظاہرہ وہ وقتا فوقتا کرتے رہتے تھے۔

ساحر نے شاید اسی کے پیش نظر یہ شعر کہا تھا کہ؎

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

ساحرکی شاعری معاشرتی ناانصافیوں کےخلاف وہ پُکار اور توانا آواز تھی جسے ہر دِل نے اپنی کہانی سمجھا،عوامی جذبات کوجب لفظوں کی صورت میں ساحر نے ڈھالا تو” تلخیاں”، ” پر چھائیاں "،” آؤ کہ خواب بُنیں” اور ” گاتا جائے بنجارہ ” کی صورت میں بے مثال شاعری سامنے آئی۔

تاج محل،اے شریف انسانوں،چکلے،شہکار،کبھی کبھی اِن جیسی دیگر کئی نظمیں جو اُردو ادب میں کلاسک کا درجہ رکھتی ہیں،اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں،اپنے گزرےہوئے ایام سےنفرت ہے مجھے،اپنی بےکارتمناؤں پہ شرمندہ ہوں،اپنی بے سود اُمیدوں پہ ندامت ہے مجھے، جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں کے مصداق،آزادی،مساوات،انصاف اور انسانیت کے لیے ساحر لدھیانوی زندگی بھرلڑتا رہا آواز بلند کرتا رہا، وہ ہمیشہ مردِ مجاہد رہا،وہ ظلم کے خلاف لکھتا رہا۔

آغاز ہی سےساحرلدھیانوی کےفن میں سماج کی فرسودہ روایات کےخلاف بغاوت کا عنصر موجود تھا۔وہ اپنی شاعری میں سماجی کی تلخ حقیقتوں کو نئے نئے زاویوں سے پیش کرتے تھے۔مثلاً اپنے زمانہٴ طالب علمی ہی میں اُنہوں نےنظم ”تاج محل” لکھ کر بزرگوں کی پوری نسل کو چونکا دیا تھا۔

اِس نظم میں ساحر نے شاہ جہاں کی عظمت کے گیت گانے کے بجائے اُن سینکڑوں گمنام کاریگروں اور مزدوروں کے حق میں بات کہی تھی جنہوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے اپنے شہنشاہ کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا تھا ساحر کی اس نظم کا آخری حصہ کچھ یوں ہے؎

یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ، یہ محل
یہ منقش درو دیوار یہ محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے

نامور شاعر و گیت کار،ممتاز ترقی پسند انقلابی شاعر ساحر لدھیانوی کااصل نام عبدالحئی تھا وہ 8 مارچ 1921ء کولدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ان کے والدچودھری فضل محمد کا شمار شہر کے معروف اور معزز لوگوں میں ہوتا تھا۔انہوں نے اولاد نرینہ کی خواہش میں یکے بعد دیگرے گیارہ شادیاں کیں ساحر کی والدہ سرور بیگم سے ان کی شادی خفیہ تھی۔اخفا کی وجہ یہ تھی کہ ساحر کی والدہ کو وہ خاندانی لحاظ سے اپنے ہم پلہ نہیں سمجھتے تھے اور اسے اپنے سماج و رتبے سے کم تر خیال کرتے تھے کہ ان کے علی الاعلان رشتہ ازدواج قائم کرلیں۔

ساحر کی پیدائش کے بعد ساحر کی والدہ نے اپنے اور بیٹے کےحقوق کے لیے جدوجہد کرنی شروع کردی بالآخر جب ان کی فریاد کی سنوائی کہیں نہ ہوئی تو وہ اپنی فریاد لے کر عدالت کے دروازے پر جا پہنچیں۔بہر حال ساحر کے والدین کی مقدمہ بازی تقسیم ملک تک جاری رہی۔

اس دوران اپنے والد کی شفقت سے محروم تنہا والدہ کی سر پرستی میں ساحر کی پرورش ان کے ننیہال ہی میں ہوئی جب اسکول جانے کی عمر ہوئی تو ان کا داخلہ مالوہ خالصہ اسکول میں کروادیا گیا جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اس زمانہ میں لدھیانہ اردو کا متحرک اور سرگرم مرکز تھا یہیں سے انہیں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور میٹرک میں پہنچتے پہنچتے وہ شعر کہنے لگے۔

1939ء میں اسکول پاس کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا اسی زمانہ میں ان کا سیاسی شعور بیدار ہونے لگا اور وہ کمیونسٹ تحریک کی طرف راغب ہوگئے۔ملک اور قوم کے حالات نے ان کے اندر سرکشی اور بغاوت پیدا کر دی تھی انہوں نے مالوہ خالصہ اسکول سے انٹرنس پاس کیا اور پھر گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں دا خلہ لیا۔اس سے پہلے ان کی سیاسی گر میوں کا آغاز ہو چکا تھا۔

ساحر کے والد انگریزی حکومت کے وفادار تھے لیکن انگریزی حکومت ساحر کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی۔اسی وجہ سے وہ انٹر کے بعد اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور لدھیانہ سے لاہور منتقل ہوگئے۔فرقہ وارانہ فسادات میں ساحر کی والدہ جنہوں نے انہیں بڑے لاڑ پیار سے پالا تھا کہیں گم ہوگئیں۔ساحر کے لیے یہ حا دثہ بہت الم ناک تھا بہر حال تلاش بسیار کے کافی عرصہ بعد مل گئیں۔

ساحر ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے۔اس طرح ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ پاکستان کے ماحول میں اپنے آپ کو موزوں نہیں پاتے اسی وجہ سے وہ راتوں رات ہندوستان واپس آگئے اور اپنی عمر کے آخر تک ہندوستان ہی میں رہے۔

بی اے کے آخری سال میں وہ اپنی ایک ہم جماعت ایشر کور پر عاشق ہوئے اور کالج سے نکالےگئے وہ کالج سے بی۔اے نہیں کرسکے لیکن اس کالج کی اسی رومانی فضا نے ان کو ایک خوبصورت رومانی شاعر بنا دیا۔

ان کا پہلا مجموعہ”تلخیاں” 1944ء میں شائع ہوا اور ہاتھوں ہاتھ لیاگیا۔کالج چھوڑنے کے بعد وہ لاہورچلے گئے اور دیال سنگھ کالج میں داخلہ لے لیا لیکن اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ وہاں سے بھی نکالے گئے پھر ان کا دل تعلیم کی طرف سے اچاٹ ہوگیا۔

وہ اس زمانہ کے معیاری ادبی رسالہ "ادب لطیف”کے ایڈیٹر بن گئے بعد میں انہوں نے سویرا اور اپنے ادبی رسالہ شاہکار کی بھی ادارت کی۔ساحر لدھیانوی نے ایسی بھی شاعری کی ہے جو تخلیقی طور پر ساحری کے زمرہ میں آتی ہے۔ان کی ادبی خدمات کےاعتراف میں انہیں 1971  میں حکومت ہند نے پدم شری کے خطاب سے نوازا۔
1972ء میں مہاراشٹرا حکومت نے انہیں” جسٹس آف پیس” ایوارڈ دیا۔1973ء میں” آؤ کہ کوئی خواب بُنیں” کی کامیابی پر انہیں”سویت لینڈنہرو ایوارڈ” اور مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ ملا۔ 1974ء میں مہاراشٹر حکومت نے انہیں” اسپشل ایکزیکیوٹیو مجسٹریٹ نامزد کیا۔

ان کی نظموں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوچکے ہیں 8 مارچ کو ان کےیوم پیدائش کےموقع پر محکمہ ڈاک نے 2013 میں ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔25 اکتوبر 1980ء کو 59 سال کی عمر میں وہ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔

ساحرلدھیانوی نے اپنی زندگی میں بہت سے عروج و زوال دیکھے۔ان کی شاعری انہی جذبات کی عکاس ہے اپنے شعری اثاثے میں انہوں نے تلخیاں،پر چھائیاں،آؤ کہ کوئی خواب بنیں اور گیتوں کا مجموعہ گاتا جائے بنجارہ جیسی شاعری چھوڑی ہے۔

تقسیم ہند سے پہلے کے برسوں میں اپنی انگریز دشمنی کی بناء پر ساحر کو لدھیانہ چھوڑکر لاہور جانا پڑاجہاں اُنہوں نے اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لیا۔ لاہور میں رہتے ہوئے اُن کے فن کو اور جلا ملی وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے اور اُن کا نام فیض،علی سردار جعفری، کیفی اعظمی اور مجاز جیسے نامور شعراء کے ساتھ لیا جانے لگا۔

نغمہ نگاری کے تحت شمار کی جانے والی ساحر کی غزلوں کے رموز و نکات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتاہے اس لیے تلخیاں کی تعداد سے دیکھا جائے تو ساحر کی غزلیں خال خال ہی نظر آ ئیں گی۔مگر تینوں مجموعوں کی تعداد پر غور کیا جائے تو اتنی غز لیں تو بہر حال ہو ہی جاتی ہیں کہ ان کی غزلوں کے فن و شعور پر غور کیاجاسکے۔

ساحر لدھیانوی کے یہاں غزل اپنے تمام لوازم کےساتھ غزل ہی رہتی ہےجس میں کلاسیکیت،رومانیت،تجربات و مشاہدات کی آمیزش،سماجی ، و سیاسی کشمکش اور ترک الفت کو پیش گیا ہے۔ان کی غزلوں کی تازگی،نغمگی،تغزل و تاثر آفرینی نے مجموعی طور پر تازگی اور نیا پن پیدا کیا ہے۔ساحر کی غزلیں موضوعات کے تنوع کے لحاظ سے محدود ہوکر بھی اشعار کی تازگی،سادگی،سنجیدگی و پر کاری کو برقرار رکھتی ہے۔

ساحر لدھیانوی کی شاعری کی ابتدا تو ان کی ذات سےہوئی لیکن جلد ہی کائنات تک پہنچ گئی ان کی سیاسی و انقلابی نظموں کے ساتھ ان کے تحقیقی شعور میں بھی پختگی آ تی گئی اور اسلوب و آہنگ نکھرتا و سنورتا گیا اس کے علاوہ ساحرکے اسلوب کی ایک صفت نغمگی اور تغزل بھی ہے۔

نغمگی،موسیقیت اور تغزل کے امتزاج نے ان کی نظموں،غزلوں اور نغموں میں وہ تاثر کی شدت پیدا کردی کہ قاری و سامع اس میں کھوکر رہ جاتا ہے۔بالخصوص غزل تو تغزل کے بغیر حسن بے نمک ہی ہوگی،چنانچہ ساحر نے اگر ایک طرف غزل کو زندگی کی صدائے وقت سے دوچار کروایا تو دوسری طرف ایک نئے انداز کا تغزل بھی پیش کیا ہے۔

مختصر طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ساحر ان چند شعرا میں سے ہی ایک ایسے منفرد اور ترقی پسند شاعر ہیں جن کا نام انکی خوبصورت نغمگی کے لیے دنیائے فانی میں ہمیشہ مشہور باقی و زندہ رہے گا۔

ساحر لدھیانوی نے شاعر اور اس کے مداحوں کےلیے ایک حقیقت سے بھرپورمشہورنظم لکھی تھی۔جسے فلم کبھی کبھی میں شامل کیا گیا تھا۔

میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہے
پل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہے
٭٭
مجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آ کر چلے گئے
کچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے کچھ نغمے گا کر چلے گئے
٭٭
وہ بھی اک پل کا قصہ تھے میں بھی اک پل کا قصہ ہوں
کل تم سے جدا ہو جاؤں گا گو آج تمہارا حصہ ہوں
٭٭
کل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والے
مجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والے
٭٭
کل کوئی مجھ کو یاد کرے کیوں کوئی مجھ کو یاد کرے
مصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے

 

ساحرلدھیانوی کو فلمی دنیا سےبھی بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ان کے کئی مقبول گیت آج بھی اپنا جادو قائم رکھے ہوئے ہیں۔

ساحر لدھیانوی کو 1963میں فلم تاج محل کے نغمہ” جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا” کےلیے اور 1976 میں فلم کبھی کبھی کے لیے” کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے” کو”بہترین گیت کار” کا فلم فیئر ایوارڈحاصل ہواتھا۔

جبکہ فلم سادھنا(1959)کےگیت”عورت نے جنم دیا مَردوں کو،مَردوں نے اسے بازار دیا”۔فلم دھول کا پھول(1960)کے شہرہ آفاق نغمہ” تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا،انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا”۔فلم گمراہ (1964) کے گیت”چلو ایک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں”۔،فلم ہمراز (1968) کے گیت”نیلے گگن کےتلے،دھرتی کاپیارپلے”،فلم آنکھیں(1969)کےگیت”ملتی ہےزندگی میں محبت کبھی کبھی”۔فلم کبھی کبھی (1977) کے گیت” میں پل دو پل کا شاعر ہوں”۔اور دادا کے گیت”دل کے ٹکڑے،ٹکڑے کرکے مسکراکے چل دئیے”۔فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کیے گئے تھے۔ 

25 اکتوبر 2022 کو ساحر لدھیانوی کی 42 ویں برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش ہے۔

ساحر لدھیانوی کے لکھے ہوئے چند مشہور گیتوں کے ویڈیوز یہاں پیش ہیں۔

٭٭”  کیا ملیے ایسے لوگوں سے جن کی فطرت چھپی رہے "(فلم: عزت)

** تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا۔(فلم دھول کا پھول)
** کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے۔ (فلم کبھی کبھی)

** میں پل دو پل کا شاعر ہوں۔ (فلم کبھی کبھی)
** یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے۔ (فلم پیاسا)
** میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا۔ (فلم ہم دونوں)

** جائیں تو جائیں کہاں،سمجھے گا کون یہاں۔ (فلم نوجوان)
** ساتھی ہاتھ بڑھانا۔ (فلم نیادور)
** چلو ایک بار بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں۔( فلم گمراہ)

 

** کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا۔ (فلم ہم دونوں)
** نہ منہ چھپاکے جیو اور نہ سرجھاکے جیو۔ ( فلم ہمراز)
** جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں۔ (فلم پیاسا)
** برباد محبت کی دعا ساتھ لیے جا۔ (فلم لیلیٰ مجنوں)
** ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں۔ (ہم دونوں)
** وقت سے دن اور رات۔ (فلم وقت)
** ائے میری زہرہ جبیں،تجھے معلوم نہیں۔ (فلم وقت)
** تم اگر ساتھ دینے کا وعدہ کرو۔ ( فلم ہمراز)
** یہ دل تم بن کہیں لگتا نہیں ہم کیا کریں۔ (فلم عزت)

** کیا ملیے ایسے لوگوں سے جن کی فطرت چھپی رہے۔ (فلم عزت)
** بابل کی دعائیں لیتی جا۔ (فلم نیل کمل)
** ایشور اللہ تیرو نام۔ (فلم نیا راستہ)
** نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے۔ ( فلم داستاں)
** میرے دل میں آج کیا ہے تو کہے تو میں بتادوں۔ (فلم داغ)
** عورت نے جنم دیا مردوں کو ، مردوں نے اسے بازار دیا۔ ( فلم سادھنا)

** جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا۔ (فلم تاج محل)
** ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی۔ (فلم آنکھیں)

** دل کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے مسکراکے چل دئیے۔ (فلم دادا)
** جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کو پیار سے پیار ملا

ساحر لدھیانوی کے چند مشہور اشعار یہاں پیش ہیں:-

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
٭٭
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
٭٭
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
٭٭
ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو
کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا
٭٭
مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کر سکے
کچھ خار کم تو کر گئے گزرے جدھر سے ہم
٭٭
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
٭٭
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں
میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا
٭٭
تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم
٭٭
اپنی تباہیوں کا مجھے کوئی غم نہیں
تم نے کسی کے ساتھ محبت نبھا تو دی
٭٭
اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ
جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے
٭٭
گر زندگی میں مل گئے پھر اتفاق سے
پوچھیں گے اپنا حال تری بے بسی سے ہم
٭٭
تو مجھے چھوڑ کے ٹھکرا کے بھی جا سکتی ہے
تیرے ہاتھوں میں مرے ہاتھ ہیں زنجیر نہیں
٭٭