تلنگانہ میں اقلیتوں کے لیے منظورہ سبسڈ ی لون کی رقم ایک ہزار کروڑ کی جائے
ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کوپولا ایشور سے کانگریسی وفد کی نمائندگی،یادداشت حوالے
راشن کارڈ کا لزوم برخاست کرنے آرگنائزنگ سیکریٹری عثمان محمد خان کا مطالبہ
حیدرآباد: 27۔ڈسمبر (پریس نوٹ/سحرنیوزڈاٹ کام)
ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کوپولا ایشور سےآج تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کےآرگنائزنگ سیکریٹری عثمان محمد خان کی قیادت میں کانگریسی قائدین کے ایک وفد نے دفتر تلنگانہ محکمہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن،واقع حج ہاوز نامپلی میں ملاقات کرتےہوئے انہیں ایک تحریری یاداشت حوالےکی۔اس موقع پر ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کوپالا ایشور سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا گیا کہ محکمہ اقلیتی مالیاتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے آبادی کے لحاظ سے ریاست کے اقلیتی طبقات مسلمانوں،عیسائیوں،سکھ اور جین طبقات کے لیے سبسڈی قرضہ جات کی اجرائی کے لیے ایک ہزار کروڑ روپئے مختص کیے جائیں۔

ساتھ ہی تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے آرگنائزنگ سیکریٹری عثمان محمد خان نے ان قرضہ جات کے لیے آن لائن درخواستوں کے ادخال میں پیش آنے والی پیچیدگیوں اور مشکلات سے بھی ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کو واقف کروایا۔جس پرریاستی وزیر اقلیتی بہبود کوپولا ایشور نے کانگریسی قائدین کے اس وفد کو تیقن دیا کہ اس سلسلہ میں تمام ممکنہ اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔
بعدازاں کانگریس لیڈرعثمان محمدخان نےمیڈیا سےبات کرتےہوئے کہاکہ ریاست میں برسر اقتدار بی آر ایس حکومت اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کرتی آرہی ہے۔انہوں نے اقلیتوں کو فراہم کئےجانےوالی قرضہ جات کی رقم کو 120 کروڑ روپئے سےبڑھا کر ایک ہزار کروڑ روپئےکرنے کا ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ 2016ء سے قرضہ جات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 120 کروڑ روپئے کی رقم انتہائی حقیر ہے اور یہ اقلیتوں کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔
عثمان محمدخان،آرگنائزنگ سیکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نےقرضہ جات کےحصول کےلیے آن لائن درخواستوں کے ادخال کےلیے راشن کارڈ کو لازمی قرار دئے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے حقیقی مستحقین کے پاس راشن کارڈ موجود نہیں ہے اورحکومت کو چاہئے کہ وہ راشن کارڈ کے لزوم کو برخاست کرے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ بھی تلنگانہ کانگریس کے آرگنائزنگ سیکریٹری عثمان محمد خان کی قیادت میں کانگریسی قائدین کے ایک وفد نے چیئرمین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن محمد امتیاز اسحاق سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ایک تحریری یاداشت حوالے کی تھی۔

بعدازاں ریاستی حکومت نے اقلیتوں کو فراہم کیےجانے والی قرضہ جات کی رقم کو 50 کروڑ روپیوں سے بڑھا کر 120 کروڑ روپئے کیا۔تاہم اس رقم کوناکافی قرار دیتے ہوئے عثمان محمد خان نے ایک ہزار کروڑ روپئے مختص کر نے کا ریاستی حکومت سے مطالبہ کیاہے۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ریاست کے تمام اقلیتی طبقہ کے مستحقین کو قرضہ جات حاصل نہیں ہوتے ہیں تو کانگریس پارٹی اس سلسلہ میں منظم احتجاج کرے گی۔


