جنوبی افریقہ سے کورونا کی نئی قسم ” اومی کرون" کا تیزی سے پھیلاؤ
حکومت تلنگانہ چوکس، وزیرصحت ہریش راؤ نے کل اتوار کوطلب کیا ہنگامی اجلاس
حیدرآباد: 27۔نومبر (سحرنیوز ڈاٹ کام)
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے کورونا وائرس کی نئی قسم ” اومی کرون " Omicron Variant ” کے پہلی مرتبہ جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے کے بعد اس کے تیزی کے ساتھ پھیلنے کے ممکنہ خدشات کے مدنظر جنیوا میں کل جمعہ کے روز ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کا کہنا ہے کہ "اومی کرون”کے حقیقی خطرات ابھی تک سمجھ میں نہیں آسکے ہیں لیکن ابتدائی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ وائرس کے تیزی سے پھیلنے والی اقسام کے مقابلے میں یہ نئی قسم زیادہ تیزی سے دوبارہ مرض میں مبتلا کرسکتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو کوویڈ۔19 میں مبتلاء ہونے کے بعد صحت یاب ہوگئے ہیں وہ بھی اومی کرون کا شکار ہوسکتے ہیں۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوپائی ہے کہ موجودہ کوویڈ ویکسین اور کورونا وائرس کی دونوں لہروں کے دؤران استعمال کی گئیں مختلف ادویات اور طریقہ علاج اس”اومی کرون”کے خلاف کتنا موثر اور کارگر ثابت ہوگا؟ بتایا جارہا ہے کہ اس بات کا پتہ لگانے کے لیے کئی ہفتے درکار ہوں گے!۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا مزید کہنا ہے”اومی کرون کی متعدد اقسام ہیں اور ان میں سے بعض انتہائی تشویش ناک ہیں۔”WHOنے تمام ممالک سے کورونا وائرس کی اس نئی قسم "اومی کرون” پر گہری نظر رکھنے،اس کی تحقیق کرنے اور جانچ رپورٹس سے آگاہ کرنے کی اپیل ہے۔
ساتھ ہی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے تمام ممالک کے عوام سے بھی اس وائرس کے سلسلہ میں بہت زیادہ چوکنا رہنے کے لیے کہا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ کسی شخض کے اومی کرون سے متاثر ہونے کا پتہ اب بھی پی سی آر ٹسٹ ہی کے ذریعہ لگایا جائے گا یعنی کورونا وائرس کی جانچ کا موجودہ طریقہ کار کام کرتا رہے گا۔
ڈبلیو ایچ او کی ترجمان کرسٹیان لنڈمیئر نے ملکوں سے فوری طور پر سفری پابندیاں عائد نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام کو ”خطرات پر مبنی اور ایک سائنسی اپروچ‘‘ اپنانے کی ضرورت ہے۔لنڈمیئر کا کہنا تھا”اس وقت ہم سفری پابندیاں عائد کرنے کے خلاف ہیں۔‘‘ (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے متعلق تفصیلات ڈی ڈبلیو نیوز سے بشکریہ حاصل کی گئی ہیں)۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ سمیت دیگر ممالک میں اومی کرون” کے تیزی کے ساتھ پھیلاؤ کی اطلاعات کے فوری بعد حکومت تلنگانہ چوکس ہوگئی ہے۔اور اس سلسلہ میں غور و خوص کے لیے ریاستی وزیر صحت ٹی۔ہریش راؤ نے کل بروز اتوار 28 نومبر کو ریاستی میڈیکل اینڈ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہدیداروں کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

اطلاع ہے کہ حکومت تلنگانہ نے طئے کیا ہے کہ اومی کرون سے متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافرین کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے اقدامات کیے جائیں۔اور اس طرح کی ہدایت مرکزی حکومت نے ملک کی تمام ریاستوں کو پہلے ہی جاری کردی ہے۔اور وزیراعظم نریندر مودی اس معاملہ میں عہدیداروں کے ساتھ غور و خوص کرچکے ہیں اور ان عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریاستی حکومتوں سے ربط میں رہیں۔
ساتھ ہی وزیراعظم نریندر مودی نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ مختلف ممالک سے ہندوستان پہنچنے والے مسافرین کو قورنطین کیا جائے اور ساتھ ہی کورونا کی تشخیص اور کوویڈ ٹیکہ اندازی میں تیزی پیدا کی جائے۔
ریاستی وزیرصحت ٹی۔ہریش راؤ کی جانب سے کل اتوار کو طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں امکان ہے کہ یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ چونکہ جنوبی آفریقہ سے حیدرآباد ایرپورٹ کے لیے راست فلائٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے لیکن جنوبی آفریقہ سے تلنگانہ پہنچنے والے مسافرین براہ ممبئی، دہلی اور دیگر شہروں تک پہنچ کر حیدرآباد آسکتے ہیں تو ایسے مسافرین کی شناخت کی جائے اور ان کی فوری تشخیص کا انتظام کیا جائے۔
کئی ریاستوں نے بین الاقوامی فلائٹ سے آنے والے مسافرین کے لیے مختلف پابندیاں عائد کردی ہیں۔وہیں حکومت مہاراشٹرا نے مختلف ممالک سے مہاراشٹرا پہنچنے والے بین الاقوامی مسافرین کے لیے یہ شرط لاگو کردی ہے کہ کوویڈ ویکسین کے دونوں ٹیکے لینے والے ہی مہاراشٹرا میں داخل ہوں!
ایسے میں امکان ہے کہ حکومت تلنگانہ بھی اس سلسلہ میں مختلف ممالک سے حیدرآباد ایرپورٹ پہنچنے والے مسافرین پر کئی پابندیاں عائد کرسکتی ہے! اور اومی کرون متاثرین کی نشاندہی اور ان کی تشخیص کے معاملہ قواعد و ضوابط کا بھی اعلان کیا جاسکتا ہے۔
