جدید برقی قوانین کے خلاف کل 8 اگست کو تلنگانہ کے ملازمین برقی اپنی خدمات کا بائیکاٹ کریں گے

جدید برقی قوانین کے خلاف کل 8 اگست کو تلنگانہ کے ملازمین برقی اپنی خدمات کا بائیکاٹ کریں گے
جزوی یا مکمل طور پر برقی سربراہی مسدود ہونے سے عوام کو پیش آسکتی ہیں مشکلات!!

حیدرآباد: 07۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام)

مرکزی حکومت کی جانب سے اصلاحات کے نام پر لائے جانے والے جدید برقی قوانین کی محکمہ برقی کے ملازمین مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کررہے ہیں۔اس سلسلہ میں ملازمین برقی مرکزی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر منظم طریقہ سے احتجاج کا آغاز کرنے والے ہیں۔

اس سلسلہ میں تلنگانہ کے ملازمین برقی کی یونین کی جانب سے مہادھرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ساتھ ہی اعلان کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے لائے جانے والے جدید قوانین کے خلاف کل بروز پیر 8 اگست کو ریاست تلنگانہ میں ملازمین برقی مکمل طور پر اپنی خدمات کابائیکاٹ کریں گے۔اور خدمات کے بائیکاٹ کے ساتھ ریاست کے تمام اضلاع،شہروں اور ٹاؤنس میں دھرنے منظم کیے جائیں گے۔اس کے لیے پاور انجینئرس اسوسی ایشن،ملازمین برقی کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) نے آج ایک پوسٹر جاری کیا ہے۔

محکمہ برقی کےتمام ملازمین کی جانب سے کل خدمات کےبائیکاٹ کےاعلان کے بعد اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ تلنگانہ میں کل برقی سربراہی میں تعطل پیدا ہوسکتا ہے؟ یا پھر مکمل طور پر برقی سربراہی معطل ہوسکتی ہے!؟

محکمہ برقی کے ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر اس دؤران برقی خدمات معطل ہوجاتی ہیں تو فوری طور پر برقی بحالی مشکل ہی ہوگی کیونکہ تمام ملازمین اپنی خدمات سے بائیکاٹ کررہے ہوں گے۔ساتھ ہی انہوں نے عوام سے اپیل بھی کی ہے کہ اگران کےاحتجاج کےدؤران کل برقی سربراہی مسدود ہوجاتی ہے تو عوام ان کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ وہ اپنے حقوق کی لڑائی لڑرہے ہیں۔

ملازمین برقی کی یونین نے کہاہے کہ اگر کل برقی سربراہی معطل ہوجاتی ہے تو وہ برقی بحالی کے کام نہیں کریں گے اور اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ جدید برقی قوانین خود عوام مخالف ہیں۔

ساتھ ہی محکمہ برقی کے ملازمین نےانتباہ دیا ہے کہ اگر مرکزی حکومت ان جدید قوانین سے دستبردار نہیں ہوتی ہے تو وہ اپنی خدمات کا غیر معنہ مدت تک بائیکاٹ جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت نے جدید برقی قوانین نافذ کردئیے تو اس سے کئی مسائل پیدا ہوں گے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس قانون کا نفاذ مرکزی حکومت کی جانب سے برقی شعبہ کوبھی خانگیانے کا ایک منصوبہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ خانگی کمپنیوں کو ایک روپیہ کے صرفہ کے بغیر موجودہ برقی لائنوں سے برقی حاصل کرنے کی سہولت ہوجائے گی۔اور ساتھ ہی ان جدید قوانین سے صارفین پر بھی زائد مالی بوجھ عائد ہوگا۔