گورنر تلنگانہ تملسائی سندر راجن کی جانب سے شعبہ صحت پر تنقید ناقابل قبول
اپوزیشن لیڈر کی طرح برتاؤ ٹھیک نہیں،طبی عملہ کے جذبات مجروح نہ کیے جائیں
تانڈور میں منعقدہ تقریب میں وزیرصحت ہریش راؤ اور وزیرتعلیم سبیتا ریڈی کی برہمی
وقارآباد /تانڈور:09۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
ریاستی وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ نے ریاستی گورنر تملسائی سندر راجن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ملک میں ریاست تلنگانہ کی طبی خدمات ایک مثال ہیں اور اس کی ستائش کی جاتی ہے۔ایسے میں ریاستی گورنر کی جانب سےریاست میں طبی سہولتوں کے فقدان کا الزام ناقابل قبول ہے۔جبکہ ریاستی وزیرتعلیم مسز پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ ایک دستوری عہدہ پر موجود ریاستی گورنرتملسائی سندر راجن کی جانب سے ایک اپوزیشن جماعت کے لیڈر کی طرح سیاسی بیانات ٹھیک نہیں۔
یہ دونوں ریاستی وزراء آج وقارآبادضلع کے تانڈور میں نیشنل گارڈن میں منعقدہ تقریب میں شرکت کرتےہوئے اے این ایمز اور آشاورکرس میں ساڑیوں کی تقسیم کے ریاستی سطح کے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے خطاب کیا۔

وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاستی گورنر کی جانب سے تلنگانہ کےشعبہ صحت پر تنقید انتہائی قابل افسوس اور ناقابل قبول ہے جس کی مذمت کی جاتی ہے۔وزیرصحت نے کہا کہ گورنر خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں اور ایک اہم عہدہ پر رہ کر ایسی تنقیدافسوسناک ہی کہی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملک کی بی جے پی اور کانگریس اقتدار والی ریاستوں سے موازنہ کیا جائے تو ریاست تلنگانہ شعبہ صحت میں بھی اول نمبر پر ہے۔اوراس شعبہ میں تلنگانہ ریاست کیرالا اور تمل ناڈو جیسی ریاستوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ٹی۔ہریش راؤ نے کہاکہ خودمرکزی حکومت ریاست کو اس کے لیے ایوارڈس دے رہی ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھراؤ نے 500 کروڑ کےصرفہ سے شعبہ صحت کو ترقی دی ہے۔ریاستی وزیر صحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ نے مرکزی حکومت کے زیر انتظام بی بی نگر کے ایمس ہسپتال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں طبی سہولتوں کا فقدان ہے،جہاں نہ کوئی مریض ہے نہ طبی سہولتیں دستیاب ہیں۔جہاں علاج تو دور زچگیاں تک نہیں ہوتی ہیں۔اور نہ ہی بلڈ بینک موجود ہے۔
انہوں نے ریاستی گورنر کومشورہ دیاکہ وہ ریاست تلنگانہ کےعادل آباد اور سدی پیٹ کے علاوہ دیگر اضلاع ہسپتالوں کا دؤرہ کرتے ہوئے عوام کو دی جارہیں طبی سہولتوں کا خود مشاہدہ کریں۔وزیرصحت نے کہا کہ ریاستی گورنر ایسے غلط الزامات کے ذریعہ ریاست میں دن رات خدمات انجام دے رہے ڈاکٹرس،طبی عملہ،اے این ایم ورکرس اور آشا ورکرس کے جذبات کو ٹھیس پہنچارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ وہ گورنر کی صوابدید پر ہی چھوڑتے ہیں اور مشورہ دیا کہ ریاستی گورنر ہر معاملہ میں تنقید کا سلسلہ بند کردیں۔
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیرتعلیم مسز پی۔سبیتا اندراریڈی نےبھی ریاست کےشعبہ صحت پرریاستی گورنر کی تنقید کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک اونچے اور دستوری عہدہ پر موجود ریاستی گورنرتملسائی سندرراجن کی جانب سے ایک اپوزیشن جماعت کے لیڈر کی طرح سیاسی بیان بازی کرنا ٹھیک نہیں۔

اس تقریب میں رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی،رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیرٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی،صدرنشین ضلع پریشد مسز پی۔سنیتا مہیندرریڈی،رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی،ضلع کلکٹروقارآبادکے۔نکھیلا،ریاستی ڈائرکٹرمحکمہ پبلک ہیلتھ ڈاکٹر جی سرینواس راؤ،محکمہ بہبود خواتین و اطفال کی عہدیدار شویتا موہنتی،صدرنشین بلدیہ تاٹی کونڈاسواپنا پریمل،نائب صدرنشین بلدیہ دیپانرسملو کے علاوہ دیگر عہدیدار اور پارٹی قائدین شریک تھے۔

