ریاست کے بیروزگاروں کے لیے حکومت تلنگانہ کی سوغات، وزیراعلی نے کیا 91 ہزار 142 مخلوعہ سرکاری جائیدادوں پر تقررات کا اعلان

ریاست کے بیروزگاروں کے لیے حکومت تلنگانہ کی سوغات
وزیراعلی چندراشیکھرراؤ نے ریاستی اسمبلی میں تمام محکمہ جات میں
91 ہزار 142 مخلوعہ سرکاری جائیدادوں پر تقررات کا اعلان کیا 

حیدرآباد: 09۔مارچ(سحر نیوزڈاٹ کام)

وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے آج ریاستی اسمبلی کے فلور سے ریاست تلنگانہ کے بیروزگاروں کو سب سے بڑی سوغات دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ریاست کے تمام سرکاری محکمہ جات میں مخلوعہ جملہ 91,142 جائیدادوں پر تقررات کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

" وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ اسمبلی میں اعلان کرتے ہوئے۔( دو منٹ کا ویڈیو) یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

اس طرح کل ونپرتی ضلع کے جلسہ عام میں کیے گئے اپنے اعلان کو وزیراعلیٰ نے آج عملی شکل دیتے ہوئے ریاست کے بیروزگاروں کے چہروں پر مسکراہٹ اور ان کے سرپرستوں کو سب سے بڑی راحت فراہم کی ہے۔

وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کل 8 مارچ کو ونپرتی ضلع میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سنسنی خیز مشورہ دیا تھا کہ ریاست کے بیروزگار کل 9 مارچ کو دس بجے صبح ٹی وی دیکھیں۔اس کے بعد اس بات کو تقویت پہنچی تھی کہ وزیراعلیٰ سرکاری مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا اعلان کرسکتے ہیں!

ریاست تلنگانہ کو جہاں دیگر ریاستوں کی بہ نسبت کئی معاملات میں ملک کی دیگر ریاستوں پر سبقت حاصل ہے وہیں آج ریاست تلنگانہ ایسی ریاست بن گئی ہے جس کے وزیراعلیٰ نے 91.142 سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔جس کا ارکان اسمبلی نے میزیں تھپتھپاکر خیر مقدم کیا۔

ریاستی اسمبلی میں اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے اعلان کہا کہ ریاست کے مختلف سرکاری محکمہ جات میں 91،142 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کنٹراکٹ ملازمین کو مستقل کیے جانے کے بعد جو 80,039 جائیدادیں باقی رہ جاتی ہیں ان پر تقررات کے لیے آج ہی سے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا سنسنی خیز اعلان کرتے ہوئے سب کو چونکا دیا۔اس طرح وزیراعلیٰ نے کنٹراکٹ ملازمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے 11،103 ملازمین کی جائیدادوں کومستقل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں بھی راحت فراہم کی۔

ساتھ ہی وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے یہ اعلان بھی کیا کہ محکمہ پولیس کو چھوڑکر دیگر تمام سرکاری محکمہ جات کے ملازمین کی حد عمر میں اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اٹینڈر کے عہدہ سے لے کر آر ڈی او کے عہدہ تک 95 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو ہی حاصل ہوں گی۔صرف پانچ فیصد ملازمتیں کھلے زمرہ (Open Category) کے تحت رہیں گی۔اور ان میں سے بھی چند عہدے عام زمرہ کے تحت مقامی افراد کو ہی حاصل ہوں گی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 95 فیصد ملازمتیں ریاست کے بیروزگاروں کو ہی حاصل ہوں اس کے لیے صدر جمہوریہ ہند سے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کیا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح تم کو ملازمتیں حاصل ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ شیڈول 9 اور 10 کا تنازعہ حل ہوجائے تو وہاں بھی ملازمتوں کی فراہمی ممکن ہوگی اور مزید 10 تا 20 ہزار ملازمتوں کے مواقع حاصل ہوں گے۔  

آج ریاستی اسمبلی سے اپنے 51 منٹ طویل خطاب کے دؤران وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں تلنگانہ کے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف ہی علحدہ ریاست تلنگانہ کے لیے طویل جدوجہد کا آغاز کیا گیا تھا۔چند افراد کی جانب سے شروع کی گئی اس جدوجہد عوامی جدوجہد میں تبدیل ہوگئی اور 14 سالہ طویل صبرآزما اور پرامن جدوجہد کے بعد ریاست تلنگانہ حاصل کی گئی۔

وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد درپیش مسائل کو حل کرنے میں مرکزی حکومت آج تک ناکام ہے۔محکمہ برقی کے ملازمین کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو حاصل ہونے والی جائدادوں پر تنازعات پیدا کیے جارہے ہیں۔اور ساتھ ہی ریاست کے چیف سیکریٹری سمیت 14 آئی اے ایس عہدیداروں کے معاملہ میں بھی تنازعہ پیدا کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے پانی کے حصہ کے لیے اب بھی جدوجہد کی جارہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں شعبہ زراعت کی ترقی عروج پرہے اور کسانوں کی جانب سےمختلف فصلیں اُگائی جارہی ہیں لیکن مرکزی حکومت نے ان فصلوں کی خریدی سے انکار کرتے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھادئیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں پانی اور بجلی کا مسئلہ حل کرلیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ ھکومت آندھراپردیش غیرضروری مسائل کو اٹھارہی ہے۔تلنگانہ آر ٹی سی کے ہسپتال میں اپنا حصہ طلب کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کی تقسیم بھی باقاعدگی کے ساتھ نہیں کی گئی۔

وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے اپنے خطاب میں ریمارک کیا کہ دیگر جماعتوں کے لیے سیاست محض ایک کھیل ہے جبکہ ٹی آر ایس پارٹی کے لیے یہ ایک عوامی فلاح و بہبود کا بیڑہ اٹھانا اور منصوبہ کے ساتھ کام کرنا ہے۔ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے کہا کہ انتھک جدوجہد کے ذریعہ علحدہ ریاست تلنگانہ حاصل کی گئی اور اس معاملہ میں دیگر سیاسی جماعتوں کا کیا رول رہا اس سے ریاست کے عوام بخوبی واقف ہیں۔

اپنے مخصوص انداز میں وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے کہا کہ ان کی ساکھ اور خود انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن وہ اس کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

TelanganaCM #JobsNotification #TelanganaAssembly#