یوکرین کے عوام زیر زمین میٹرو اسٹیشنوں اورتہہ خانوں میں پناہ لینے پرمجبور، ڈاکٹرز زچگیوں کی انجام دہی، زخمیوں اور مریضوں کے علاج میں مصروف

ہم جو اِنسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

یوکرین کے عوام زیر زمین میٹرو اسٹیشنوں اور تہہ خانوں میں پناہ لینے پرمجبور
ڈاکٹرز زچگیوں کی انجام دہی،زخمیوں اور مریضوں کے علاج میں مصروف

نئی دہلی: 09۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

روس کی جانب سے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کے بعد ہزاروں امواتیں ہوئی ہیں وہیں لاکھوں شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔عمارتیں زمین دوز اور عوامی زندگیاں سہاروں کی تلاش میں پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہورہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کا اندازہ ہے کہ 1.5 ملین سے زیادہ لوگ یوکرین سے اپنے پڑوسی ممالک پولینڈ،ہنگری اور سلوواکیہ ہجرت کرچکے ہیں۔

چونکہ یوکرین کے مختلف شہروں میں  گولہ باری اور فوجی لڑائی جاری ہے ایسے میں یوکرین میں روسی فوجیوں کی پیش قدمی کے بعد بہت سے یوکرینی شہری اب بھی ملک سے بحفاظت نکل جانے کی کوشش کررہے ہیں۔یا پھر روسی فوجیوں کی پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے وہیں رہنے کا ارادہ کرلیا ہے۔

ان میں سے زیادہ تر شہری زیر زمین پناگاہوں،میٹرو ریلوے اسٹیشنوں اور تہہ خانوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔جہاں ڈاکٹرس زچگیوں کی انجام دہی،نوزائیدہ بچوں اور زخمیوں کے ساتھ ساتھ دیگر مریضوں کو انہی زیر زمین میٹرو اسٹیشنوں اورتہہ خانوں میں علاج فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

شمال مشرقی شہر خارکیف یوکرین کا دوسرا سب سے بڑا،جنوب میں کھیرسن اور بندرگاہی شہر ماریوپول کو روس کے حملے کے دو ہفتوں بعد بھی شدید حملوں اور جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔1.4 ملین آبادی والے شہر خارکیف Kharkiv کو فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،جس میں ایک فوجی ہسپتال بھی تباہ ہوگیا ہے۔

یوکرین کے دارالحکومت کئیف Kyiv’s# کے زیر زمین میٹرو اسٹیشنوں میں ہزاروں شہری پناہ لیے ہوئے ہیں جن میں ضعیف شہریوں، خواتین اور بچوں کے ساتھ ان کے پالتو جانور بھی ساتھ ہیں۔بین الاقوامی میڈیا اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ حاملہ خواتین انہی میٹرو اسٹیشنوں میں بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور فوٹوز اس بات کے گواہ ہیں کہ کیسے روس نے یوکرین پر حملہ کرتے ہوئے ان بے گناہ جنگ وجدال سے دور رہنے والے شہریوں اور ان کے پالتو بے زبان جانوروں کی پرسکون زندگیوں کو میٹرو اسٹیشنوں کے پلیٹ فارمز پر پہنچادیا!

یوکرین میں میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لینے والے ان انسانوں جن میں مرد،خواتین،ضعیف افراد اور بچوں کے ساتھ ان کے پالتو جانورں اور وہاں پیدا ہونے والے بچوں پرمشتمل غمگین کردینے والے ویڈیوز اور فوٹوز دیکھنے کے بعد بھی دہشت گردی اور جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے نام پر فلسطین،افغانستان،عراق،شام،لیبیا اور دیگر مسلم ممالک پر کروڑہا ٹن بارود اور آگ کے گولے برساکر لاکھوں معصوم انسانوں اور بچوں کو شہید کرنے اور ان ممالک کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے والے دنیا کے چند ممالک کے سنکی سربراہوں کی خاموشی واقعی افسوسناک ہے۔ساحر لدھیانوی نے شائد اسی تناظر میں کہا تھا کہ؎ 

ہم جو اِنسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں  

*****

” قارئین کی خواہش پر ساحرلدھیانوی کی شہرہ آفاق نظم ” اے شریف انسانوں” کا ویڈیو یہاں پیش ہے۔”