سرکاری جائیدادوں پر تقررات کا نوٹیفکیشن یا بیروزگاری بھتہ!!
وزیراعلیٰ تلنگانہ چندراشیکھرراؤ کی جانب سے آج اسمبلی میں اہم اعلان کا امکان
عوام میں دس بجے صبح ٹی وی دیکھنے کے مشورہ پرتجسس!!
حیدرآباد: 09۔مارچ (سحر نیوز ڈاٹ کام)
وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کل 8 مارچ کو ونپرتی ضلع میں منعقدہ جلسہ عام سے اپنے خطاب کے دؤران اسمبلی میں ایک اہم اعلان کرنے کا انکشاف کرتے ہوئے ریاست کے عوام کومشورہ دیا کہ وہ 9 مارچ کی صبح 10 بجے ٹی وی ضرور دیکھیں۔
جس کے بعد ریاست کے بیروزگار نوجوانوں میں ایک امید جاگ اٹھی ہے اور ساتھ ہی ریاست کے عوام میں بھی تجسس پیدا ہوگیا ہے کہ آخر وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ ریاستی اسمبلی سےخطاب کے دؤران ریاست کے عوام اور بیروزگاروں کو کونسا تحفہ دینے جارہے ہیں؟
اس جلسہ میں وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے بیروزگاروں کے متعلق بھی بات کی ہے۔جس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ وہ 9 مارچ کو ریاستی اسمبلی سے سرکاری ملازمتوں پر تقررات کا نوٹیفکیشن (اعلامیہ)جاری کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں!اسی کے ساتھ یہ قیاس بھی لگایا جارہا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بیرزگار نوجوانوں کو ماہانہ بھتہ کا اعلان بھی کرسکتے ہیں!!جس کا انہوں نے 2018ء کے اسمبلی انتخابات کے موقع پر وعدہ کیا تھا!
اعداد و شمار کے مطابق ریاست تلنگانہ کے مختلف سرکاری محکمہ جات میں 70،000سے زائد جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔جن میں سے محکمہ پولیس اور محکمہ صحت میں سب سے زیادہ جائیدادیں خالی ہیں۔اس کے بعدمحکمہ آبپاشی،عمارات و شوارع اور محکمہ مال میں کئی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔اطلاع ہے کہ جدید تقررات کے لیے حکومت تلنگانہ تین تا چار ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے جارہی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ریاست میں اندرون ایک ماہ سرکاری ملازمتوں پر تقررات کے اعلامیہ کی اجرائی کا عمل مکمل کرلیا جائے گا!امکان ہے کہ اس معاملہ کو عدالتوں تک لے جائے جانے اور اس سے ہونے والی تاخیر سے بچنے کے لیے بھی حکومت منظم منصوبہ بناچکی ہے۔
وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اپنے دؤرہ ونپرتی کے موقع پر”منا اوورو۔منا بڈی”("ہمارا گاؤں۔ہمارا اسکول”)پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔اس پروگرام کے ذریعہ حکومت 7،289 کروڑ کے مصارف سے سرکاری اسکولوں کو کارپوریٹ طرز کے اسکولوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ ماہ جنوری کے اواخر میں بھدرادری کوتہ گوڑم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیر فینانس و صحت ٹی۔ہریش راؤ نے اعداد وشمار کے ساتھ انکشاف کیا تھا کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے حکومت نے ریاست میں روزگار کی فراہمی کو اولین ترجیح دی ہے۔اور ٹی ایس پی ایس سی،محکمہ پولیس،سنگارینی کالریز،گروکلس،محکمہ برقی اور میڈیکل ہیلتھ کے شعبہ میں جملہ ایک لاکھ 32 ہزار 899 ملازمتیں فراہم کی جاچکی ہیں۔
ریاستی وزیر فینانس ہریش راؤ نے اس کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف "تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن(ٹی ایس پی ایس)کے ذریعہ ہی 30،954 مخلوعہ جائیدادیں پُر کی گئی ہیں۔جبکہ تلنگانہ اسٹیٹ لیول پولیس رکروٹمنٹ بورڈ کے ذریعہ 31،972 پوسٹوں پر، جونیئر پنچایت سیکریٹری کے پوسٹس پر 9،355,سنگارینی کالریز کمپنی لمیٹیڈ میں 12،500،شعبہ برقی میں6،648، ڈی سی سی بی میں 1،571، ٹی آر ٹی کے ذریعہ 8،792، گروکلس میں 11،500 ٹیچرس کے پوسٹس پر بھرتی شامل ہیں۔
وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ نے کہا تھا کہ حکومت مزید 50،000 تا 60،000 ملازمتوں پر تقررات کے اقدامات کرنے میں مصروف ہے۔اور حکومت کی جانب سے متحدہ ریاست آندھراپردیش میں موجود نان لوکل کے عمل کو ختم کرکے تلنگانہ کے بیروزگاروں کو ہی صد فیصد ملازمتیں فراہم کی جارہی ہیں۔
ٹی۔ہریش راؤ نے یہ بھی کہا تھا کہ 95 فیصد ملازمتیں مقامی ملازمین کو حاصل مہیا کروانے کی غرض سے جدید زونل سسٹم رائج کرتے ہوئے اس کے لیے جی او 317 جاری کیا گیا۔اس پرمکمل عمل آوری کے بعد ہی جدید تقررات کے عمل کو یقینی بنانے نوٹیفکیشن جاری کرنا حکومت کا مقصد ہے۔

