وزیراعلیٰ تلنگانہ چندراشیکھرراؤ سے بہار کے اپوزیشن قائد تیجسوی یادو کی ملاقات، لالوپرساد یادو سے فون پر بات

وزیر اعلیٰ تلنگانہ چندراشیکھرراؤ سے بہار کے اپوزیشن قائد تیجسوی یادو کی ملاقات
لالوپرساد یادو کی فون پر بات،قومی سیاست میں داخل ہونے کی خواہش
کے سی آر کے تھرڈ فرنٹ کی تشکیل کی جانب بڑھتے قدم!!

حیدرآباد:11۔جنوری (سحرنیوزڈاٹ کام)

وزیر اعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ سے آج حیدرآبادکے پرگتی بھون میں سابق وزرائے اعلیٰ بہارلالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کے فرزند تیجسوی پرساد یادو جو کہ بہار اسمبلی میں راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے اپوزیشن قائد ہیں نے دیگر پارٹی قائدین کے ساتھ ملاقات کی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ کے سی آر نے تیجسوی یادو اور دیگرپارٹی قائدین کا خیرمقدم کیا۔بہار سے حیدرآباد پہنچے آر جے ڈی کے اس وفد میں بہار کے سابق وزیر عبدالباری صدیقی،سابق رکن اسمبلی سنیل سنگھ،سابق رکن اسمبلی بھولا یادو کے علاوہ دیگر شامل تھے۔بتایا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ کی دعوت پر اس وفد نے حیدرآباد پہنچ کر ان سے ملاقات کی ہے۔

ماناجار ہا ہے کہ اس ملاقات کے دؤران وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھر راؤ اور بہار اسمبلی کے اپوزیشن قائد تیجسوی یادو نے ملک میں جاری فرقہ پرستی اور مرکز کی بی جے پی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے متعلق تبادلہ خیال کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف ملک کی تمام علاقائی جماعتوں کے سربراہوں اور سیکولر لیڈرس کو ایک پلیٹ فارم جمع ہونے کی خواہش کا اظہار کیا اور تیجسوی یادو نے وزیراعلیٰ کے چندرا شیکھر راؤ سے امید ظاہر کی کہ وہ اس سلسلہ میں منصوبہ تیارکریں گے تاکہ بی جے پی مخالف مہم کو مزید تیز کیا جاسکے۔

اطلاع ہے کہ اس موقع پر وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے سابق وزیر اعلیٰ بہار لالوپرساد یادو سے فون پر بات کرتے ہوئےان کی صحت کے متعلق تفصیلات حاصل کیں اور ان کی جلد مکمل صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔بتایا جاتا ہے اس گفتگو کے دؤران لالو پرساد یادو نے وزیراعلیٰ کے سی آر اور ان کی قیادت میں ریاست تلنگانہ کی تیز رفتار ترقی کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات اور قیادت کی ملک کو ضرورت ہے اور کہا کہ ملک کو مزید بربادی سے بچانے کے لیے کے سی آر کا قومی سیاست میں آنا ضروری ہے۔

اس موقع پر ریاستی وزیرآئی ٹی،بلدی نظم و نسق کے۔تارک راما راؤ نے بھی تیجسوی یادو سے ملاقات کی۔قبل ازیں وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے ایک یادگار مومنٹو تیجسوی یادو کے حوالے کیا جبکہ بہار سے خصوصی طور پر لایا گیا ایک مومنٹو تیجسوی یادو نے وزیراعلیٰ کے حوالے کیا۔اس موقع پر ریاستی وزیرداخلہ محمدمحمودعلی،پرشانت ریڈی،ریاستی نائب صدر منصوبہ بندی کمیشن ونود کمار،ایم ایل سی پی۔راجیشور ریڈی،رکن پارلیمان سنتوش کمار،ٹی آر ایس قائد شراون کمار ریڈی بھی موجود تھے۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے 14 ڈسمبر کو اپنے افراد خاندان کے ساتھ تمل ناڈو کا دؤرہ کرتے ہوئے تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن سے ان کے افراد خاندان کے ساتھ خوشگوار ملاقات کی تھی۔جس کے بعد کہا گیا تھا کہ ان دونوں چیف منسٹرس نے بی جے پی قیادت والی ریاستوں اور دیگر جماعتوں والی ریاستوں کے ساتھ مرکزی حکومت کے رویہ اور دوہرے معیار پر بھی بات کی ہے؟اور ان دونوں نے اس پر اتفاق کیا کہ مرکزی حکومت ریاستوں کے حقوق کو سلب کرنے میں مصروف ہے!!

اس وقت سیاسی ماہرین نے امکان جتایا تھا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ چاہتے ہیں کہ ریاستوں کے حقوق کے تحفظ کےلیے ان کی جانب سے مرکزی حکومت کے خلاف کھولے گئے محاذ میں چیف منسٹر تمل ناڈو ایم کے اسٹالن کو بھی شامل کیا جائے!۔

بعدازاں گزشتہ ہفتہ حیدرآباد میں منعقدہ سی پی آئی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی غرض سے پہنچے چیف منسٹر کیرالا پنیار وجئے کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ قائدین نے بھی وزیراعلیٰ کے سی آر سے خیرسگالی ملاقات کی تھی جن میں سی پی آئی کے قومی سیکریٹری سیتارام یچوری ، سابق چیف منسٹر تریپورہ مانک سرکار،پولیٹ بیورو کے ارکان رام چندرن پلّے،بالا کرشنن،ایم اے جے بی،سی پی آئی کے قومی قائدین ڈی۔راجہ،پارلیمنٹری پارٹی قائد رکن پارلیمان بنئے وشوم، وزیر فینانس کیرالا راجن کے علاوہ سی پی آئی تلنگانہ کے قائدین چاڈا وینکٹ ریڈی ،کے۔سامباشیواراؤ اور دیگر شامل ہیں۔اس اہم ملاقات کی تفصیلات واضح نہیں کی گئی تھیں۔

تلنگانہ کے کسانوں سے دھان کی خریدی سے مرکزی حکومت کے انکار کے بعد سے وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ مرکزی حکومت اور بی جے پی کے خلاف سخت تیور اپنائے ہوئے ہیں۔

مرکزی حکومت کے خلاف خود وزیراعلیٰ اور ٹی آر ایس پارٹی کے وزرا،ارکان پارلیمان،ارکان اسمبلی،ارکان قانون ساز کونسل اور پارٹی کارکن اب تک تین مرتبہ ریاستی سطح پر احتجاج منظم کرچکے ہیں۔

ایسے میں وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ کی جانب سے تمل ناڈو اور کیرالا کے وزرائے اعلیٰ اور آج بہار کے اپوزیشن نوجوان قائد تیجسوی یادو سے ملاقات کے بعد سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ قومی سطح پر غیر بی جے پی اور غیر کانگریسی” تیسرا محاذ (تھرڈ فرنٹ) "بنانے کے لیے سرگرداں ہیں!! اور وہ اس سلسلہ میں دیگر ریاستوں کے غیر بی جے پی اور غیر کانگریسی وزرائے اعلیٰ اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کا سلسلہ جاری رکھیں گے!!

وہیں ریاست تلنگانہ میں بی جے پی کے بڑھتے قدم گزشتہ ہفتہ قومی صدر بی جے پی جے پی نڈا،اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش کے وزرائے اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے دؤرہ ورنگل اور شیوراج سنگھ چوہان کے دورہ حیدرآباد کے بعد سے ریاست میں بی جے پی کی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں!مانا جارہا ہے کہ اس کے ذریعہ بی جے پی وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ کو تلنگانہ تک محدود رکھنے کی کوشش میں ہے!؟ اب جبکہ ماہ فروری میں ملک کی پانچ ریاستوں اترپردیش،پنجاب،گوا،اتراکھنڈ اورمنی پور اسمبلی کے انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔جس کے نتائج 10 مارچ کو آئیں گے۔

ان انتخابات میں بی جے پی کے مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے اس کے بعد ہی حالات مکمل واضح ہوجائیں گے اور یہ طئے مانا جارہا ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل ملک میں تیسرا محاذ (تھرڈ فرنٹ) کھڑا ہونے والا ہے جس کی قیادت وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ کرسکتے ہیں!!